لاہور (جنرل رپورٹر)پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ ہر الزام کا جواب ریکارڈ، حقائق اور یونیورسٹی کی تمام شعبوں میں بہتر کارکردگی ہے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنما اپنے خلاف ہونے والی انکوائریاں رکوانے اور ٹاون تھری میں اربوں کی کرپشن کے خلاف کارروائی رکوانے کے لئے انتظامیہ پر جھوٹے بیانیے کی بنیاد پر دباو ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی ترجمان نے ہنگامی پریس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ٹاون تھری سکینڈل میں فیکٹ فائنڈنگ کے بعد اور انکوائریوں کے دوران جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بننا ہونا معنی خیز ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹان تھری سمیت مختلف معاملات پر حقائق جاننے کے لیے تحقیقات اور انکوائریوں کے تناظر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی حالیہ سرگرمیوں اور مطالبات کو ان جاری کارروائیوں سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بعض سرکردہ افراد سے متعلق تقرریوں،انتظامی معاملات اور دیگر شکایات قانون اور یونیورسٹی قواعد کے مطابق زیرِ جانچ ہیں۔ ان معاملات کا فیصلہ احتجاج، دبا یا الزام تراشیوں سے نہیں بلکہ دستیاب شواہد اور قانون کے مطابق ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی عمارتوں، سرکاری وسائل یا سہولیات کے مبینہ ذاتی استعمال، بشمول سرکاری جگہ پر ذاتی مقاصد کے لیے دیسی مرغیاں پالنے سے متعلق شکایت کو قواعد و ضوابط کے مطابق دیکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہاحتجاج یا تنظیمی دبا کے ذریعے احتسابی کارروائیاں رکوانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اگر واقعی شفافیت اور احتساب کی خواہاں ہے تو اسے جاری تحقیقات کے آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور منطقی انجام کی حمایت کرنی چاہیے، نہ کہ انکوائریوں کو رکوانے یا انتظامیہ پر دبا ڈالنے کا تاثر پیدا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نہ کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کرے گی اور نہ ہی کسی دبا کے تحت قانونی کارروائی روکے گی، ہر معاملے کا فیصلہ شواہد، قواعد و ضوابط اور مجاز قانونی فورمز کے ذریعے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے انتظامی اور مالی معاملات کے لیے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی، سنڈیکیٹ اور دیگر قانونی ادارے موجود اور فعال ہیں اور متعدد فیصلے انہی مجاز اداروں سے منظوری کے بعد نافذ کیے گئے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ یونیورسٹی کا بجٹ، آمدن، اخراجات، سرمایہ کاری اور دیگر مالی معاملات باقاعدہ ادارہ جاتی منظوری، آڈٹ اور متعلقہ قانونی فورمز کی منظوری کے بعد ہی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کے مختلف اعداد و شمار کو سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کرکے جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی مالی خسارے سے استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے، گزشتہ دو برسوں میں یونیورسٹی کی مالی پوزیشن میں نمایاں بہتری آئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی آمدن تقریبا 7 ارب روپے سے بڑھ کر ساڑھے 12 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ اخراجات پر مثر کنٹرول اور مالی نظم و ضبط کے نتیجے میں بجٹ خسارہ تقریبا 2 ارب 86 کروڑ روپے سے کم ہو کر 1 ارب 60 کروڑ روپے رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار اس بیانیے کی نفی کرتے ہیں کہ یونیورسٹی مالی طور پر مفلوج ہو رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انتظامیہ نے محدود سرکاری وسائل کے باوجود یونیورسٹی کے اپنے ذرائع آمدن میں اضافے، مالی نظم و ضبط اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے تقریبا 50 لاکھ یونٹس کی بچت، توانائی اخراجات میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں پہلی مرتبہ 15 ہزار سے زائد داخلے ہوئے ہیں اور نئے داخلوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اور والدین کا بڑھتا ہوا اعتماد کسی بھی تعلیمی ادارے کی کارکردگی کا اہم پیمانہ ہوتا ہے، اگر پنجاب یونیورسٹی تعلیمی اور انتظامی طور پر زوال کا شکار ہوتی تو نئے داخلوں میں اس سطح کا نمایاں اضافہ ممکن نہ ہوتا۔
