راولپنڈی ، اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر ہماری بات نہیں مانی گئی تو لانگ مارچ روکنے کا کوئی جواز نہیں، مذاکرات کی پیشکش برائے نام ہے، مذاکرات صرف پیشکش کی حد تک ہیں ،کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا۔ادھر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن کو وزیراعظم کی پیشکش کا مثبت جواب دینے کی ہدایت کردی، جبکہ سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیںجبکہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ ناصر عباس نے وزیر اعظم کی پیش کش کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر شرائط کے آئیے ملکر بات کرتے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر ہماری بات نہیں مانی گئی تو لانگ مارچ روکنے کا کوئی جواز نہیں، مذاکرات کی پیشکش برائے نام ہے مذاکرات صرف پیشکش کی حد تک ہیں کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا۔یہ بات انہوں ںے راولپنڈی اڈیالہ روڈ فیکٹری ناکے کے قریب سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ گفتگو میں کہی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ جو مذاکرات کی پیشکش ہوتی ہیں برائے نام ہیں مذاکرات صرف پیشکش کی حد تک ہیں کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا جاتا، ایک سال سے ملاقات بند ہے، گزشتہ سال اکتوبر میں ہماری ملاقات ہوئی تھی، ہم ہمیشہ ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہماری نیک نیتی کے باوجود ہمیں اپنے لیڈر سے ملنے نہیں دیا جارہا بانی کی بہنیں غیر سیاسی ہیں اور ان کو حراست میں لے لیا گیا آج اڈیالہ آئے تو بتایا گیا کہ بانی کے کزن قاسم زمان کو حراست میں لے لیا جب کہ قاسم خان غیر سیاسی ہے اس نے کبھی کوئی سیاسی بیان نہیں دیا، قاسم زمان کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارے ایم این ایز، ایم پی ایز اٹھائے گئے گرفتاریوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، ہم نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھے مگر حکومت نے فراغ دلی اور سنجیدگی نہیں دکھائی، ہم نے جو مطالبات رکھے ان میں کوئی غیر قانونی مطالبہ نہیں تھا، دہشت گردی پر ہمارا واضح موقف ہے، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔انہوں ںے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے، صوبائی اسمبلی نے دہشت گردی سے متعلق ایک متفقہ قرارداد منظور کی، دہشت گردی کے اوپر پریس کانفرنس اور ٹویٹ نہیں ہونی چاہیے ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلالیں، ایپکس کمیٹی میں کورکمانڈر بھی شریک ہوتے ہیں، کور کمانڈر ہمارے اور ہم سب کے کور کمانڈر ہیں۔انہوں ںے کہا کہ اگر ہماری بات نہیں مانی تو لانگ مارچ روکنے کا کوئی جواز نہیں، ایمرجنسی یا گورنر رول نافذ کرنے سے نفرتیں مزید بڑھیں گی، مذاکرات ایک مسلسل عمل ہے اس کے لیے کوئی ٹائم نہیں ہوتا،ہم مذاکرات کے دوران کسی سے ڈیکٹیشن نہیں لیتے رہے، مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ وزیراعلی کے پی پر ڈالنا بالکل غلط ہے، مذاکرات کے ایک دو اور رانڈ ہوتے تو معاملہ کہیں پہنچ جاتا مگر مذاکرات کی ناکامی کے بعد ملبہ ایک دوسرے پر نہ ڈالا جائے۔دریں اثناء وزیراعظم کی جانب سے ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش پر محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن کو مثبت جواب دینے کی ہدایت جاری کردی۔نجی ٹی وی کے مطابق اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی کے ذریعے اپوزیشن رہنماؤں کو پیغام بھجوایا ہے جس میں کہا ہے کہ اگرحکومت رابطہ کرے تو مثبت جواب دیا جائے۔ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر بانی سے ملاقات نہیں ہوتی تو وزیراعظم سے ملاقات بے معنی ہوگی، بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وزیراعظم سے ملاقات سے انکار کا سوچا جاسکتا ہے۔قبل ازیں اپوزیشن اتحاد نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، دونوں نے تحریک انصاف کے احتجاج کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس فوری بلانے کا فیصلہ کیا ہے، فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت نے جو رویہ اختیار کیا اس نے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی، پی ٹی آئی اگر اسلام آباد آنا چاہتی ہے تو رکاوٹیں نہیں ڈالنی چاہئیں۔نجی ٹی وی کے مطابق سربراہ جے یو آئی کے گھر علامہ راجا ناصر عباس اور اسد قیصر پہنچے جن کی مولانا سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا لطف الرحمان، محمد اسلم غوری، سینیٹر کامران مرتضیٰ ، اخونزادہ حسین بھی شریک تھے۔ملاقات میں سیاسی معاملات پر بات چیت ہوئی، حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک پر بات کی گئی۔ ملاقات کے بعد اپوزیشن اتحاد اور مولانا فضل الرحمان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جو اس وقت ملک کے اندر سیاسی صورتحال ہے اور ہماری سیاست عدم توازن کا شکار ہے، حکمرانوں کا حزب اختلاف کے ساتھ جو رویہ ہے اس حوالے سے مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں، اپوزیشن کی حکومتی وفد کے مذاکرات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جمہوری لوگ مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، ہم اس مذاکرات کا حصہ نہیں تھے پر اس سے اختلاف بھی نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی جو رویہ ہے انہوں نے آئندہ مذاکرات کی گنجائش نہیں چھوڑی، اگر کچھ ایسے مذاکرات رکھے جائیں جس میں کچھ آپ مان جائیں کچھ ہم مان جائیں تو بہتری ہوگی، اس حوالے سے ایک تجویز میرے سامنے رکھی گئی ہے، آل پارٹیز کانفرنس رکھنے کا مشورہ سامنے آیا ہے، اس پر ہم بھی اپنی پارٹی سے مشاورت کرلیتے ہیں اور اپوزیشن اتحاد بھی مشاورت کر لے۔مولانا نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، خطے میں امن وامان، کشمیر کا ایشو اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے بات ہو سکتی ہے، کوئی ایسا ایجنڈا تیار کیا جائے جس سے ملکی سیاست میں میانہ روی آجائے، جہاں تک لانگ مارچ کا تعلق ہے ہم نے بھی بہت لانگ مارچ کیے ہیں، پی ٹی آئی اگر اسلام آباد آنا چاہتی ہے تو رکاوٹیں نہیں ڈالنی چاہیے یہ ان کا آئینی حق ہے۔اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہمارے جو حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوئے ان کی تفصیلات مولانا صاحب سے ڈسکس کی، آل پارٹیز کانفرنس کے لئے ہم مختلف سیاسی جماعتوں کے پاس جا رہے ہیں، ملک میں اس وقت معاشی صورتحال خراب ہے، ہر انسان مہنگائی سے تنگ ہے، سیاسی لوگ جب بیٹھتے ہیں تو وقت دیتے ہیں، ان میں لچک ہوتی ہے، وہ راستہ نکالتے ہیں، آئین ان لوگوں نے بنایا جن میں بہت سے اختلافات تھے، ان کی بات درست ہے، ہم جب جماعت اسلامی سے ملے تو ہم نے انہیں کہاں کہ ایجنڈا ہمیں بھیج دیں، جب مل بیٹھنا ہے تو سب کی مشاورت سے ایجنڈا بننا ہے، جب ایجنڈا بنے گا تو پورے ملک کے مسائل رکھے جائیں گے۔پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں بنیادی اصولوں پر ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے، ہم نے مذاکرات میں ایک گنجائش نکالنے کی کوشش کی، یہ آخری کوشش نہیں تھی، اور بھی مواقع آئیں گے، ہم نے تمام زخموں پر مرہم رکھنا ہے، جو اے پی سی ہم منعقد کریں گے اس میں پوری قوم کی آواز لے کر آ گے چلیں گے، ہماری پوری جماعت ہم متحد کھڑے ہیں، جو جنگ ہم لڑ رہے ہیں وہ حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہے رہیں۔دریں اثناء سینیٹ میںاپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ لانگ مارچ ایسا بھی نہیں کہ کوئی بہت بڑا سیلاب آگیا ہے کہ اسے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش پر نجی ٹی وی سے گفتگو میں علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ بغیر شرائط کے آئیے مل کر بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم تقاریر میں مذاکرات کی باتیں کرنے کی بجائے محمود خان اچکزئی کو کال کر لیں، رابطہ کریں اور بات کرلیں۔اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ اس مذاکراتی عمل میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم کو خود شریک ہونا چاہیے، یہ حکومت کے اتحادی ہیں یہ تمام اہم لوگ ہیں ان کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر
