کراچی(خصوصی رپورٹ) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایم کیو ایم کے رہنماﺅں کیخلاف اشتعال انگیز تقریر، بغاوت اور ہنگامہ آرائی سے متعلق کیس میں مفرور ملزمان فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی کے کیسز کو الگ کرنے کا حکم دیتے ہوئے مقدمات کی سماعت 20 مارچ تک ملتوی کردی۔انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایم کیو ایم کے رہنماﺅں کیخلاف بغاوت، ہنگامہ آرائی اور اشتعال انگیز تقریر کے کیسز کی سماعت ہوئی۔ عدالت میں قمر منصور، شاہد پاشا سمیت دیگر رہنما پیش ہوئے۔ عدالت نے شاہد پاشا کی بریت سے متعلق درخواست مسترد کردی۔ جبکہ قمر منصور کی چاروں مقدمات میں ضمانت منظور کرلی۔ عدالت میں فاروق ستار کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ فاروق ستار کیخلاف تینوں مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کردی گئی ہیں، تینوں مقدمات ضلع ملیر میں منتقل کردیئے گئے ہیں۔ ان مقدمات کی تفتیش کا فیصلہ ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار کرینگے۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کی جانیوالی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، عدالت کا کہنا تھا کہ فاروق ستار کو گرفتار کر کے پیش کیا جائے۔ سماعت کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے قمر منصور کا کہنا تھا کہ مجھے سات ماہ سےجھوٹے مقدمات میں پابند سلاسل کیا ہوا تھا۔جبکہ کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ23 اگست کے بعد فاروق ستار نے ایم کیو ایم لندن سے اظہار لاتعلقی کردیا تھا۔ اس کے بعد بھی فاروق ستار کو گرفتار کرنے کا عمل شرمناک ہے۔جبکہ اسپیشل پراسیکیوٹر ساجد محمود شیخ کا کہنا تھا کہ فاروق ستار کی گرفتاری سے تفتیشی آفیسر لاعلم تھا، فاروق ستار کا کیس دیگر ملزمان کے کیس سے آئندہ سماعت پر الگ کردیا جائیگا۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کی جانیوالی رپورٹ پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بیوقوف بنایا جارہا ہے۔ مقدمے میں مفرور ملزمان کو گرفتار کر کے پیش کیا جائے۔ عدالت نے مقدمات کی مزید سماعت 20 مارچ تک کیلئے ملتوی کردی۔
عدالت نے فاروق ستار کیخلاف بڑا حکمنامہ جاری کردیا, دیکھئے اہم خبر
