بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایک طرف جہاں واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی کوششیں اور "امن معاہدے” (Peace Deal) کے لیے مذاکرات تیز ہو گئے ہیں، وہیں دوسری طرف اسرائیل نے غزہ اور علاقائی محاذوں پر اپنے فوجی آپریشن اور فضائی حملوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
1. غزہ میں فوجی کارروائیاں اور فضائی حملے
-
جنگی مبصرین اور انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ علاقائی فائر بندی (Ceasefire) کی بات چیت کے باوجود، غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے۔ اسرائیل نے غزہ کے مختلف حصوں میں اپنی فوجی گرفت بڑھانے اور کنٹرول کو وسعت دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
-
ماہرین کا کہنا ہے کہ علاقائی جنگ بندی کے لیے ہونے والی ان بڑی سفارتی کوششوں میں اب تک فلسطین (خصوصاً غزہ) کے مستقل حل کو مکمل طور پر شامل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے اسرائیل وہاں اپنی کارروائیوں کو مسلسل تیز کر رہا ہے۔
