جمعہ کی صبح لکھنؤ سے دہلی جانے والی انڈیگو کی ایک پرواز کے ٹوائلٹ میں ’بم‘ لکھا ہوا ٹشو پیپر ملنے سے ہلچل مچ گئی۔ واقعے کے بعد طیارے میں سوار تقریباً 180 مسافروں کو فوری طور پر اتار کر سیکیورٹی جانچ کی گئی۔ تاہم، تفصیلی تفتیش اور تلاشی کے بعد یہ دھمکی محض افواہ ثابت ہوئی اور طیارے میں کوئی مشتبہ یا خطرناک چیز نہیں ملی۔
ملک کے ہوائی اڈوں پر بم کی جھوٹی دھمکیوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ تازہ معاملہ لکھنؤ کے چودھری چرن سنگھ بین الاقوامی ہوائی اڈے سے سامنے آیا ہے، جہاں جمعہ کی صبح لکھنؤ سے دہلی جانے والی انڈیگو کی ایک پرواز میں بم ہونے کی افواہ سے ہلچل مچ گئی۔ پرواز کے اڑان بھرنے سے عین قبل ملنے والے اس الرٹ کے بعد تمام سیکیورٹی ایجنسیاں فوری طور پر حرکت میں آ گئیں اور مسافروں کو بحفاظت باہر نکال کر جانچ شروع کر دی گئی۔
ٹشو پیپر پر لکھا تھا ‘BOMB’
اطلاعات کے مطابق دہلی جانے والی انڈیگو کی یہ پرواز، جس میں تقریباً 180 مسافر سوار تھے، صبح 10:45 بجے روانگی کے لیے مکمل طور پر تیار تھی۔ اسی دوران عملے کے ارکان کو طیارے کے ٹوائلٹ کے اندر ایک ٹشو پیپر ملا، جس پر انگریزی میں “BOMB” لکھا ہوا تھا۔ ٹشو پیپر ملتے ہی طیارے اور ہوائی اڈے پر افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ پائلٹ نے فوری طور پر ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) کو اطلاع دی، جس کے بعد احتیاطی تدابیر کے تحت طیارے کو رن وے کی جانب جانے سے روک کر ایپرن (پارکنگ ایریا) میں ہی کھڑا کر دیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز اور بم ناکارہ بنانے والے دستے نے فوراً کارروائی سنبھال لی۔ تمام 180 مسافروں کو ان کے سامان سمیت طیارے سے اتار لیا گیا اور ڈاگ اسکواڈ کی مدد سے پورے طیارے کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی۔ کئی گھنٹوں کی تفصیلی جانچ کے بعد حکام نے اطمینان کا اظہار کیا، کیونکہ طیارے سے کوئی مشتبہ شے یا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔ یوں یہ دھمکی مکمل طور پر جھوٹی ثابت ہوئی۔ تاہم قانونی اور سیکیورٹی کارروائیوں کے باعث خبر لکھے جانے تک پرواز دہلی کے لیے روانہ نہیں ہو سکی تھی۔
ایئر انڈیا حادثے کو ایک سال مکمل
ایک جانب لکھنؤ ہوائی اڈے پر بم کی افواہ نے مسافروں میں خوف پیدا کیا، تو دوسری جانب آج کا دن بھارتی ہوا بازی کی تاریخ کے ایک المناک حادثے کی یاد بھی تازہ کر گیا۔ آج ایئر انڈیا کے اس ہولناک طیارہ حادثے کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، جس نے پورے ملک کو صدمے میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس حادثے میں معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والا واحد مسافر آج بھی اس خوفناک منظر کو یاد کر کے لرز اٹھتا ہے، جبکہ یہ واقعہ بھارتی فضائی تاریخ کے دردناک ترین سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔
