ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ فوجی کارروائیوں اور بڑھتے ہوئے جغرافیائی خدشات کے بعد برطانوی خام تیل (برینٹ کروڈ) کی قیمت 3 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 79 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
اسی طرح امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت بھی 3 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 74 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی۔ متحدہ عرب امارات کے مربن تیل کی فی بیرل قیمت میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے ، قیمت 74 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر بھی پڑتا ہے اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان میں بھی پیٹرول و ڈیزل کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق خدشات کے باعث عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی پیدا ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں پر حملہ کیا ہے جس میں تین افراد جاں بحق جبکہ دس سے زائد زخمی ہوئے ہیں، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی جہازوں کو روکا جائے گا، جبکہ دیگر ممالک کے تجارتی اور مال بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت حاصل گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ یا ایران کے بغیر آبنائے ہرمز کھلی ہے اور کھلی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا خطے میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور آبنائے ہرمز کے محافظ کے طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام کارگو پر 20 فیصد معاوضہ وصول کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس معاوضے کا مقصد بحری راستوں کی حفاظت اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔
سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی،فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
دوسری جانب ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کو آبنائے ہرمز کے انتظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا، ایران کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی امریکی کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔
ایرانی فوجی قیادت نے کہا کہ علاقائی ممالک کی طرف سے امریکا کیساتھ کسی بھی تعاون کو ایران کیخلاف جنگ تصور کیا جائیگا،جنگ پھیلی تو یہ خطے کے تمام ممالک تک پہنچ جائے گی ۔

