روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر ایک اور بڑے پیمانے کا رات بھر فضائی حملہ کیا، جس میں 35 میزائل اور 185 ڈرون استعمال کیے گئے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق حملے میں زیادہ تر میزائل بیلسٹک نوعیت کے تھے، جبکہ فضائی دفاعی نظام محدود وسائل کے باعث صرف چند میزائل ہی تباہ کر سکا۔
یوکرینی حکام کے مطابق حملے میں کم از کم 9 افراد ہلاک جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے۔ متعدد رہائشی عمارتیں، ایک اسکول، تجارتی مراکز اور دیگر شہری تنصیبات شدید متاثر ہوئیں، جبکہ کئی علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ امدادی ٹیموں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔
صدر زیلنسکی نے حملے کو روس کی جانب سے حالیہ دنوں کے سب سے بڑے فضائی حملوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو فوری طور پر مزید پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹمز اور میزائل شکن صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فضائی دفاع کو مضبوط بنائے بغیر شہریوں کا تحفظ ممکن نہیں۔
دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں کا ہدف یوکرین کی فوجی اور دفاعی صنعت سے متعلق تنصیبات تھیں، تاہم یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں شہری علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

