امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایک معاہدہ طے پا گیا ہے اور امریکہ و ایران کے درمیان باضابطہ مذاکرات پیر کے روز شروع ہوں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ترجیح فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل ہے، اسی لیے ایران پر مجوزہ امریکی حملہ روک دیا گیا تاکہ بات چیت کے ذریعے مستقل حل تلاش کیا جا سکے۔
ٹرمپ کے مطابق مذاکرات کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی کی مکمل بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے مذاکرات کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن دینے سے گریز کیا، تاہم امید ظاہر کی کہ فریقین جلد کسی جامع معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔
ادھر حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، جس سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ ٹرمپ کے حملہ مؤخر کرنے اور مذاکرات کی پیش رفت کے اعلان کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے سفارتی رابطوں کی تصدیق کی ہے، تاہم بعض امریکی دعوؤں، خصوصاً آبنائے ہرمز سے متعلق بعض تفصیلات، پر اختلاف بھی ظاہر کیا ہے۔ خطے کے کئی ممالک، جن میں سعودی عرب، قطر اور دیگر خلیجی ریاستیں شامل ہیں، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی کامیابی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

