Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ٹرمپ کے مطابق ایران معاہدہ اتوار کو طے پانے کا امکان
    • کینسر کی مریضہ سے 27 کروڑ کا فراڈ، ن لیگی ایم پی اے ثاقب چڈھر کے خلاف 3 مقدمات درج
    • جنوبی کوریا میں احتجاج نویں روز بھی جاری، دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ
    • پہلے ونڈے میں ہندوستان نے افغانستان کو 7 وکٹوں سے شکست دےدی
    • روہت شرماونڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے معمر ترین کھلاڑی بن گئے
    • کینیڈا، بوسنیا میچ ،ہنگامہ آرائی،دو افراد گرفتار
    • ایف آئی ایچ پرو ہاکی لیگ بیلجئیم نے پاکستان کو 1-7 سے ہرا دیا
    • فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب
    • کائنات اظہر اسلام آباد کی پہلی خاتون چیف ٹریفک آفیسر بن گئیں
    • محرم الحرام کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب
    • طیاروں میں ٹیک آف اور لینڈنگ سے قبل کیبن لائٹس کیوں مدھم کی جاتی ہیں؟ اہم وجہ سامنے آگئی
    • وزن جانچنے کے غلط اوقات جو صحت کیلئے مضر ثابت ہو سکتے ہیں
    • امیتابھ بچن نے 83 سالہ زندگی کے مصروف ترین دن میں کیا کچھ کیا؟
    • ہریتک روشن 40 سال بعد رجنی کانت کے ساتھ بڑے پردے پر جلوہ گر ہونے کیلئے تیار
    • سپریم لیڈر علی خامنہ شہید کی تدفین 9 جولائی کو ایران میں ہو گی
    • امریکہ ایران امن معاہدہ آخری مراحل میں یو اے ای کا ایران کو اربوں ڈالر جاری کرنے فیصلہ
    • عدالتی فیصلہ،کارکنوں نے کینیڈی سنٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹا دیا
    • ایران نے امریکا سے ڈیجیٹل معاہدے کا کیوں کہا؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
    • آسٹریلیا نےخاتون کو اپنا پہلا آرمی چیف مقرر کر دیا
    • لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ نئے چیف آف آرمی اسٹاف ہندوستان ہونگے
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پاکستانی سائنسدانوں نے سائیکلوپیا مرض کا جانور ماڈل تیار کرلیا

    By Daily Khabrainجولائی 29, 2019
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    کراچی(ویب ڈیسک) پاکستانی ماہرین نے انسانی پیدائشی نقص پر مبنی ایک جانور کا ماڈل تیار کیا ہے جس سے اس مرض کو سمجھنے میں غیرمعمولی مدد ملے گی۔اس پیدائشی نقص کو سائیکلوپیا کہا جاتا ہے جس کا ماڈل عام پھل مکھی میں بنایا گیا ہے اور اب یہ مکھی عین انسانی پیدائشی نقص کا ایک چھوٹا ماڈل ہے۔یہ ماڈل ڈاکٹر مشتاق حسین اور ان کی پوسٹ گریجویٹ شاگرد ثانیہ شبیر اور فوزیہ رضا نے تیار کیا ہے۔ ان کا تعلق ڈاﺅ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنِس کے انسٹی ٹیوٹ آف بایوٹیکنالوجی اینڈ بایومیڈیکل سائنِس کی بایوانفارمیٹکس اور سالماتی ادویہ کی تجربہ گاہ سے ہے۔ڈاکٹر مشتاق حسین اور ان کی ٹیم نے پھل مکھی میں ماڈل بنایا ہے جس

    کا حیاتیاتی نام ڈروزوفیلا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان کے 75 فیصد جین ڈروزوفیلا میں پائے جاتے ہیں۔ اسی بنا پر انسانی بیماریوں کی آزمائش کے لیے پھل مکھی یا ڈروزوفیلا ایک بہترین جانور ثابت ہوئی ہے۔ اب تک ماہرین اس مکھی پر 150 سے زائد امراض پیدا کرکے انسانی بیماریوں کی تحقیق آگے بڑھا چکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر جینیاتی امراض ہے۔ اسی بنا پر تجربہ گاہوں میں چوہے کے ساتھ ساتھ پھل مکھی بھی ایک بہت اہم تحقیقی معاون سمجھی جاتی ہے۔چند ماہ قبل یونیورسٹی آف جنیوا میڈیکل اسکول کے ماہرینِ جینیات اور لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنس، جامشورو کے ماہرین نے کئی پاکستانی خاندانوں کے ایک اہم جین ’ مارک تھری‘ میں تبدیلی اور اس سے آنکھوں کے ڈیلوں کے خاتمے کے درمیان تعلق بھی دریافت کیا تھا۔پاکستان میں کئی ایسے افراد دیکھے گئے جن کی آنکھوں کے ڈیلے دھیرے دھیرے سکڑ کر ان میں اندھے پن کی وجہ بن رہے تھے۔ اسی بنا پر اس پراسرار مرض کو سمجھنا بہت ضروری تھا۔ ماہرین کا قیاس تھا شاید یہ مرض ایک جین ’ مارک تھری‘ کی خرابی

    یا اس میں نقص کی وجہ سے پیدا ہورہا تھا۔اس کے لیے پھل مکھی یعنی ڈروزوفیلا کو ہی آزمایا گیا۔ ماہرین نے انتہائی احتیاط سے ڈرزوفیلا کے مارک تھری جین میں نقائص یا تبدیلیاں پیدا کیں۔ اس کا نتیجہ وہی برآمد ہوا جس کی توقع کی جارہی تھی۔ پھل مکھی کے آنکھوں کی ڈیلوں میں کمی اور نابینا پن دیکھا گیا۔اسی بنا پر دنیا بھر کی تجربہ گاہوں میں چوہوں کے ساتھ ساتھ پھل مکھی کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اب ڈاکٹر مشتاق حسین کی تجربہ گاہ میں شیشے کے بکس میں ایک مکھی رینگتی اور پرواز کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اگر اسے غور سے دیکھا جائے تو حیرت کی انتہا نہیں رہتی کیونکہ اس مکھی کی دائیں اور بائیں آنکھوں کی بجائے سر کے مرکز میں صرف ایک ہی آنکھ ہے جو اسے سائیکلوپیا بناتی ہے۔یہ مکھی مسلسل نسل خیزی کے دیگر طریقوں سے گیارہویں پشت سے پیدا ہوئی ہے۔ اس کی پیدائش کا طریقہ اب پیٹینٹ کرایا جائے گا۔ اس طرح پاکستانی ماہرین نے سائیکلوپیا مکھی کی پیدائش ممکن بنادی ہے۔واضح رہے کہ انسانی بچے بہت سے نقائص کے ساتھ بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ اندازاً ہر لاکھ بچوں میں سے ایک بچہ سائیکلوپیا کے پیدائشی نقص کے ساتھ جنم لے سکتا ہے۔ اس طرح کے بچوں کی دونوں آنکھیں نہیں ہوتیں اور پیشانی کی اطراف ایک آنکھ یا دوحصوں میں منقسم ایک آنکھ ہوسکتی ہے۔ ایسے نومولود کے منہ اور ناک یا تو مکمل طور پر نہیں بنے ہوتے یا پھر غائب ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر ان اپنی پیدائش کے صرف چند گھنٹوں بعد ہی یہ دم توڑدیتے ہیں۔سائیکلوپیا بچے اکثر مردہ پیدا ہوتے ہیں اور اسی بنا پر ان میں اس کیفیت کی درست وجہ جاننے میں دقت پیش آتی رہی ہے جس کے تحت اب مکھی ماڈل بنایا گیا ہے۔ بعض افراد کا خیال ہے کہ دورانِ حمل ذیابیطس، بعض زہریلے مرکبات اور دیگر وجوہ سے بھی سائیکلوپیا بچے پیدا ہوسکتے ہیں۔ سالماتی سطح پر بعض پروٹین کے غلط اظہاریوں (ایکسپریشن) کی وجہ سے بھی یہ نقص سامنے آتا ہے۔ڈاکٹر مشتاق حسین اور ان کی ٹیم کا خیال ہے کہ اگر مزید سائیکلوپیا مکھیاں بن سکیں تو اس سے نقص کے جینیاتی اور فعلیاتی تفصیل جاننے میں بہت مدد مل سکے گی۔’ اگر یہ تبدیل شدہ سائیکلوپیا مکھی یکساں جینیاتی خواص کی حامل مزید سائیکلوپیا مکھیوں کو جنم دیتی ہے تو اس سے سائیکلوپیا مکھی کا پورا جینوم تیار کرنا ممکن ہوگا۔ اس کی بدولت سائیکلوپیا کیفیت کو سمجھنے میں مدد ملے گی،‘ ڈاکٹر مشتاق حسین نے کہاکہ ماہرین سائیکلوپیا مکھی کے جین کو پڑھ کر اس کا موازنہ صحت مند اور نارمل مکھی کے جین سے کریں گے اور اس طرح سائیکوپیا کے مسئلے کو تفصیل سے سمجھنے میں مدد ملے گی۔دوسری جانب ڈاکٹر مشتاق حسین کی ٹیم نے اپنے تجربات کے دوران بعض دلچسپ باتیں بھی نوٹ کی ہیں۔ بعض ڈروزوفیلا مکھیوں کے رنگ مکمل طور پر الٹ گئے، کچھ مکھیوں کی آنکھوں کا رنگ بھی بدلا اور بعض مکھیاں ایسی پیدا ہوئیں جن کے منہ کے دہانے مکمل طور پر غائب تھے۔پاکستان میں بھی سائیکلوپیا بچے پیدا ہوتے ہیں لیکن ملک میں رجسٹری نہ ہونے کی وجہ سے ان کی درست تعداد معلوم کرنا قدرے مشکل ہے۔’پاکستان میں پیدائشی نقائص رپورٹ نہیں ہوتے کیونکہ اس سے شرم اور ندامت جیسے احساسات وابستہ ہوتے ہیں۔ بسا اوقات ماں اور خاندان کو اس کے لیے طنز کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے،‘ ڈاکٹر مشتاق نے بتایا۔

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    دنیا بھر میں فیس بک کی سروس متاثر، صارفین کو مشکلات کا سامنا

    برطانیہ مٹی سے بجلی پیدا کرنیوالا آلہ تیار

    وہ پرانے آئی فونز جن پر بہت جلد واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا

    تازہ ترین

    محرم الحرام کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

    ایران نے امریکا سے ڈیجیٹل معاہدے کا کیوں کہا؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

    آسٹریلیا نےخاتون کو اپنا پہلا آرمی چیف مقرر کر دیا

    لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ نئے چیف آف آرمی اسٹاف ہندوستان ہونگے

    تنخواہ اور پنشن کس طرح بڑھے گی؟ ریلیف پیکج کا اعلان

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.