اگر آپ نے کبھی فضائی سفر کے دوران طیارے کے ٹیک آف یا لینڈنگ سے قبل کیبن کی روشنیاں اچانک مدھم ہوتے محسوس کی ہوں تو یہ محض اتفاق یا ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے ایک اہم حفاظتی مقصد ہوتا ہے۔
ماہرینِ ہوا بازی کے مطابق ٹیک آف اور لینڈنگ کو فلائٹ کا “انتہائی حساس مرحلہ” قرار دیا جاتا ہے۔ کیونکہ اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر ہنگامی صورتحال اسی دوران پیش آتی ہے۔
ایوی ایشن ماہرین اور کیبن کریو کے مطابق روشنی کم کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی ہنگامی صورتحال میں انخلا کی ضرورت پیش آئے تو مسافروں کی آنکھیں پہلے سے کم روشنی کے مطابق ایڈجسٹ ہوں تاکہ وہ جلدی باہر کا راستہ، ایگزٹ سائنز اور ایمرجنسی لائٹس دیکھ سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی آنکھ کو تیز روشنی سے اندھیرے میں آنے کے بعد ایڈجسٹ ہونے میں چند سیکنڈ سے لے کر منٹوں تک لگ سکتے ہیں۔ اور ہنگامی صورتحال میں یہ تاخیر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ مدھم روشنی کی وجہ سے مسافر اور عملہ کھڑکیوں کے ذریعے باہر کے حالات بھی بہتر طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ جس سے رن وے یا لینڈنگ کے دوران کسی بھی غیر معمولی صورتحال کی بروقت نشاندہی ممکن ہو جاتی ہے۔
ایوی ایشن قوانین کے مطابق یہ عمل عالمی اداروں فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) اور یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) کی ہدایات کے تحت کیا جاتا ہے۔ اور بیشتر ائیرلائنز اسے دن کے وقت بھی حفاظتی اقدام کے طور پر معمول کا حصہ بناتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ ایک چھوٹی سی احتیاط ہے جو ہنگامی حالات میں قیمتی وقت بچا کر مسافروں کی حفاظت کو یقینی بناتی ہے۔
