یورپ میں رواں موسمِ گرما کے دوران ایک اور شدید گرمی کی لہر نے شدت اختیار کرلی ہے، جس کے باعث فرانس، اٹلی، اسپین اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں لاکھوں افراد شدید گرمی سے متاثر ہو رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 13 اگست کو 13 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد ایسے علاقوں میں تھے جہاں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ فرانس کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی اوپر پہنچ گیا، جبکہ برطانیہ میں 2026 کا اب تک کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا۔ لندن کے کیو گارڈنز میں درجہ حرارت 38.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا۔
فرانس میں شدید گرمی
فرانس میں گرمی کی لہر مسلسل کئی دنوں سے جاری ہے۔ متعدد علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کرچکا ہے، جبکہ شدید گرمی کے باعث ملک کے توانائی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ بلند درجہ حرارت اور دریاؤں و سمندر کے گرم پانی کے باعث کئی جوہری ری ایکٹرز بند یا کم صلاحیت پر چلائے گئے۔
برطانیہ میں بھی شدید گرمی
برطانیہ میں درجہ حرارت 38.1 ڈگری تک پہنچنے کے بعد حکام نے انگلینڈ کے کئی علاقوں میں شدید گرمی کی وارننگ جاری کی۔ ملک میں یہ رواں موسم گرما کی پانچویں ہیٹ ویو ہے، جبکہ طویل خشک سالی نے پانی اور جنگلات میں آگ کے خطرات کو بھی بڑھا دیا ہے۔
جنگلات میں آگ اور خشک سالی کا خطرہ
شدید گرمی اور بارشوں کی کمی کے باعث یورپ کے مختلف حصوں میں خشک سالی اور جنگلات میں آگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یونان میں تیز ہواؤں کے ساتھ جنگلات کی آگ بھڑکنے کے باعث سینکڑوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ اٹلی، فرانس، اسپین اور دیگر ممالک بھی شدید گرمی اور خشک حالات سے متاثر ہیں۔

