واشنگٹن ( نیوز ایجنسیاں) یمن کی انصار اللہ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے باب
المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔جبکہ امریکی نیو ز سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی جانب سے حوثیوں کیخلاف کارروائی کی درخواست کو مسترد کردیا۔یمن کی انصار اللہ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔سینئر اہلکار محمد البخیتی کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے مغربی صوبے تعز میں اہم علاقوں اور فوجی اڈوں الخالد اور جبل النصر پر قبضہ کرلیا ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یمن کی حوثی تحریک (انصار اللہ ) نے دعوی کیا ہے کہ اس کے جنگجوں نے آبنائے باب المندب پر نظر رکھنے والے اہم فوجی مرکز العمری گارژن کا بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔حوثیوں کے مطابق ان کی بحری فورسز نے بحیرہ احمر میں واقع اہم جزیرہ زقر پر بھی مکمل کنٹرول قائم کر لیا ہے اور جزیرے کو مخالف فورسز سے خالی کرا لیا گیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں واقع المخا بندرگاہ کے داخلی حصوں تک بھی پہنچ گئے ہیں، جبکہ المخا ایئرپورٹ پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی کے دوران مزاحمت کرنے والے افراد نے بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال دئیے۔باب المندب عالمی سطح پر اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے تیل، گیس اور غذائی اجناس سمیت مختلف اشیا کی ترسیل ہوتی ہے۔خیال رہے کہ یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے اور حوثیوں نے بحیرہ احمر کے اہم ساحلی شہر المخا پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعوی کیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ریاض نے حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کردیں۔برطانوی اخبار دی گارجین کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے تعز صوبے میں المخا کے علاوہ حیس شہر اور خطے کے سب سے بڑے فوجی اڈے خالد بن ولید کیمپ پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کا دعوی کیا۔حوثیوں کے مطابق ان کی فورسز نے 6 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقے پر پیش قدمی کی ہے۔المخا بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہی شہر ہے اور آبنائے باب المندب کے قریب اس کی جغرافیائی حیثیت اسے یمن کی جاری جنگ میں غیر معمولی تزویراتی اہمیت دیتی ہے۔ قبل ازیں ایک عسکری ذرائع نے دعوی کیا تھا کہ حوثیوں نے جنوبی بحیرہ احمر میں واقع ذقر جزیرے پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جزیرے پر راکٹ حملوں کے بعد کشتیوں کے ذریعے حوثی جنگجو اتارے گئے اور زمینی کارروائی کی گئی۔ادھر امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں حوثیوں سے لاحق خطرے پر سعودی ولی عہد نے گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ سے دو بار ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے خلاف کارروائی کریں تاہم امریکی صدر نے حوثیوں کے خلاف کارروائی سے انکار کردیا۔ ایکسیوس کے مطابق امریکی عسکری اور سول حکام نے حالیہ ہفتوں میں سعودی ہم منصبوں سے رابطہ کیا جب کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر ہنگامی رابطہ اجلاسوں کیلئے گزشتہ روز سعودی عرب گئے ۔امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے اور وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ واضح رہے چند روز قبل سعودی عرب میں یمن کی حوثی جماعت انصاراللہ نے حملے کیے تھے جس میں 73 افراد زخمی ہوئے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے۔
باب المندب
