ایران اور خلیجی ممالک آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے عارضی معاہدے پر بات چیت کریں گے۔ اس سلسلے میں خلیج تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان پیر کو عمان کے شہر صلالہ میں اہم ملاقات متوقع ہے۔ یہ فروری میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ایران اور خلیجی ممالک کے اعلیٰ سفارت کاروں کی پہلی ایسی اہم ملاقات ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق اس اجلاس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے عارضی انتظام پر خلیجی ممالک کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت تجارتی جہاز ایرانی پانیوں سے آبنائے میں داخل ہوں گے اور زیادہ تر عمانی حدود سے باہر نکلیں گے۔ تاہم معاہدے کی حتمی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
علاقائی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور بحری تجارت بحال کرنے کے خواہاں ہیں۔ ایران کی جانب سے مبینہ طور پر تعاون کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور بیرونِ ملک منجمد اثاثوں تک رسائی کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق 10 ستمبر کو صرف 7 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ جنگ سے قبل یہاں روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز گزرتے تھے۔ یہ راستہ دنیا کی روزانہ خام تیل اور ایل این جی کی سپلائی کے تقریباً 20 فیصد کے لیے اہم ہے۔
ممکنہ سفارتی پیش رفت کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں بھی کچھ دباؤ کم ہوا، تاہم برینٹ خام تیل کی قیمت اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی، کیونکہ خطے میں بحری راستوں اور توانائی کی سپلائی کو لاحق خطرات برقرار ہیں۔

