لندن(آئی این پی)اگست 2026کو انسانی تاریخ کا گرم ترین مہینہ قرار دے دیا گیا ہے۔یورپی موسمیاتی ادارے Copernicus کلائیمٹ چینج سروس(سی سی سی ایس)کے مطابق اگست میں عالمی سطح پر اوسط فضائی درجہ حرارت انسانی تاریخ کے کسی بھی مہینے کے مقابلے میں سب سے زیادہ ریکارڈ ہوا۔اگست کے دوران اوسط درجہ حرارت 16.96ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو کہ 1991سے2020کے درمیان ریکارڈ ہونے والے اوسط درجہ حرارت سے 0.85ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔اگست کے گرم ترین مہینہ بننے کی ایک بڑی وجہ سمندری درجہ حرارت میں اضافہ تھا جو کہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔درحقیقت جون سے اگست کے مہینے تاریخ کے گرم ترین موسم گرما کے ایام قرار دیے گئے ہیں۔سی سی سی ایس کی رپورٹ کے مطابق انسانوں کے باعث درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے اور ایل نینو کی شدت بڑھنے کے باعث اگست گرم ترین مہینہ رہا۔خیال رہے کہ ایل نینو ایک ایسا موسمیاتی رجحان ہے جس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے پانی کا بڑا حصہ معمول سے کہیں زیادہ گرم ہوجاتا ہے اور زمین کے مجموعی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔اس کے مقابلے میں لانینا کے دوران بحر الکاہل کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے۔ان دونوں کا امتزاج دنیا بھر میں شدید گرم موسم کا باعث بنتا ہے جس کا سامنا آخری بار 2023اور 2024میں ہوا تھا۔2023میں جب ایل نینو کا آغاز ہوا تو اس کے بعد 13ماہ تک ہر مہینہ تاریخ کا گرم ترین مہینہ قرار پایا تھا اور اب ممکنہ طور اگست 2026 سے ایک بار پھر اس کا آغاز ہونے والا ہے۔سی سی سی ایس کے تخمینے کے مطابق مغربی یورپ میں اس سال کا موسم گرما سب سے زیادہ گرم رہا جبکہ امریکی ادارے National Oceanic and Atmospheric Administration نے بھی رواں سال کے سیزن کو امریکا کا گرم ترین موسم گرما قرار دیا۔سی سی سی ایس کے مطابق یہ حقیقت بھی غیر معمولی ہے کہ اگست کے درجہ حرارت نے جولائی کو پیچھے چھوڑ دیا۔ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اگست جولائی کے مقابلے میں زیادہ گرم ہو، عام طور پر جولائی ہر سال کا گرم ترین مہینہ ہوتا ہے۔سی سی سی ایس کے ماہرین نے بتایا کہ ہم تباہ کن موسمیاتی اثرات کا مشاہدہ دنیا بھر میں کر رہے ہیں اور ہر جگہ لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موسم کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور طویل المعیاد بنیادوں پر یہ شدت برقرار رہے گی۔
اگست
