امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر کسی بھی قسم کے پچھتاوے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں دوبارہ یہی فیصلہ کرنے کا موقع ملے تو وہ بالکل وہی اقدامات کریں گے۔ ٹرمپ نے یہ بات فاکس نیوز کی میزبان لورا انگراہم کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔
ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا انہیں خدشہ ہے کہ ایران جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، تو انہوں نے کہا کہ وہ ’’پچھتاوے‘‘ کے لفظ پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ موقع ملا تو وہ بالکل وہی فیصلہ کریں گے۔
امریکی صدر نے جنگ کے باعث اپنے حامیوں میں مایوسی کی اطلاعات کو بھی مسترد کیا۔ ان کے مطابق ان کے حامی اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک رہے ہیں۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے ایران پر امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا۔
رائٹرز کے مطابق جنگ کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی امریکی سیاست میں اہم مسئلہ بن گیا ہے، جس سے نومبر کے انتخابات سے قبل ریپبلکن امیدواروں پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ کا ایک بنیادی مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو کمزور کرنا ہے، جبکہ ایران اپنے یورینیم افزودگی پروگرام کو پُرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔

