Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • وزیرِ صحت نے نوجوانوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز کی وجہ نائٹ پارٹیز کو قرار دے دیا
    • سپر ٹائفون باوی سے 15 افراد ہلاک، بڑے پیمانے پر انخلا جاری
    • امریکی قونصل خانوں نے کراچی اور لاہور میں خدمات دوبارہ شروع کر دیں
    • فلپائن میں طوفان سے ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک
    • کراچی میں پانی چوری کی روک تھام کے لیے خصوصی پولیس اسٹیشن قائم
    • مون سون کے نئے سلسلے کی پیش گوئی
    • بابر اعظم کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی کپتانی میں واپسی کا امکان
    • پنجاب میں درجہ حرارت 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے: مریم نواز
    • گلگت بلتستان میں چینی سیاحوں کے لیے ویزا فری داخلے کی تجویز پیش
    • پنجاب حکومت نے شہریوں کے لیے جرائم کی اطلاع دینے پر انعامی اسکیم کا آغاز کر دیا
    • فرانس نے مراکش کو شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی
    • ایران کا دعویٰ: امام خامنہ ای کے جنازے میں 4 کروڑ 30 لاکھ افراد نے شرکت کی
    • پاک بحریہ نے اورماڑہ کے قریب 20 عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لی
    • 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرنے والے باؤلرز جلد سامنے آئیں گے: عاقب جاوید
    • 11.4 ارب روپے مالیت کے اسلام آباد اسٹیڈیم منصوبے پر کام میں تیزی آ گئی
    • اہم شاہراہوں اور موٹرویز پر ٹول ٹیکس میں اضافہ کر دیا گیا
    • لاہور میں ٹیوشن سینٹر سے بچی کی لاش ملنے کا واقعہ، والد کا تہلکہ خیز انکشاف
    • "خلیج کو ایران کی بدلتی ہوئی حکمتِ عملیوں کا نشانہ نہیں بننا چاہیے، اماراتی سفارت کار
    • "’ٹوٹل ایکلپس آف دی ہارٹ‘ کی مشہور آواز، بونی ٹائلر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں”
    • کویت کے فضائی دفاعی نظام نے میزائلوں اور ڈرون حملے کو ناکام بنانا دیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ..پاکستان میں ماں اور بچے کی صحت اب صرف ایک طبی مسئلہ نہیں

    By Khabrain Newsدسمبر 26, 2025
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    رپورٹر کی ڈائری
    مہران اجمل خان
    پاکستان میں ماں اور بچے کی صحت اب صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی، سماجی استحکام، اور انسانی سرمایہ کاری کا بنیادی انڈیکیٹر بن چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے گذشتہ دو دہائیوں میں کچھ ترقی کی ہے لیکن ابتدائی اعداد و شمار اب بھی تشویشناک حد تک بلند ہیں اور 2030 کے عالمی اہداف سے بہت پیچھے ہیں۔ روزانہ تقریباً 27 مائیں حاملہ پیچیدگیوں کی وجہ سے موت کا نشانہ بنتی ہیں اور تقریباً 675 نوزائیدہ بچے اپنی پیدائش کے پہلے ماہ میں ہی جان کھو دیتے ہیں۔ سالانہ طور پر تقریباً 9 ہزار 8 سو مائیں اور 246,300 نوزائیدہ بچے قابل علاج یا قابل تدارک پیچیدگیوں کے باعث موت کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ دو لاکھ سے زائد بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ محض اعداد نہیں بلکہ زندگیاں ہیں جو مناسب دیکھ بھال، بروقت علاج اور مؤثر پالیسیوں سے بچائی جا سکتی تھیں۔
    گذشتہ دو دہائیوں میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، ماں کی شرحِ اموات 2006 میں 1لاکھ میں 276 زندہ پیدائش سے گھٹ کر 155 تک آ چکی ہے جبکہ نوزائیدہ اموات 1 ہزار میں 52 سے کم ہو کر 37.6 ہو گئی ہیں۔ لیکن یہ پیش رفت عالمی اہداف کے مقابلے میں نہایت سست ہے۔ عالمی پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت 2030 تک ماں کی شرحِ اموات کو 1لاکھ میں 70 اور نوزائیدہ اموات کو 12 فی 1,000 تک کم کرنا لازمی ہے۔ موجودہ رفتار کے ساتھ یہ اہداف حاصل ہونا مشکل دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان میں اس بحران کی بنیادی وجوہات متعدد اور پیچیدہ ہیں۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ابتدائی مراکز صحت، ایمرجنسی زچگی خدمات، تربیت یافتہ مڈوائفز اور نرسز، اور مناسب ریفرل سسٹم کی عدم موجودگی اموات میں براہِ راست اضافے کا سبب ہے۔ مزید یہ کہ متعدد علاقوں میں پوسٹ نیٹل کیئر اور نوزائیدہ بچوں کے لیے ابتدائی نگہداشت یا نیوبورن کیئر یونٹس دستیاب نہیں ہیں، جس سے متوقع بچیوں کی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ حاملہ خواتین میں خون کی کمی، غذائی قلت، اور بچوں کو ابتدائی چھ ماہ تک ماں کا دودھ نہ ملنا بھی پیچیدگیوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان میں صرف تقریباً 48 فیصد بچے چھ ماہ تک مکمل ماں کا دودھ پاتے ہیں، حالانکہ یہ عمل ہزاروں زندگیوں کی بقاء کا ضامن ہے۔پنجاب میں صورتحال قدرے بہتر ہونے کے باوجود تشویشناک ہے۔ نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح 40 فی 1 ہزار کے قریب ہے جبکہ غذائی قلت اور نشوونما کی کمی لاکھوں بچوں کے مستقبل کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ مسئلہ صرف وفاقی سطح پر نہیں بلکہ صوبائی پالیسیوں اور عملدرآمد کی کمزوریوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔
    عالمی ادارے خصوصاً WHO اور UNICEF اس صورتحال پر واضح سفارشات دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق ہر حاملہ خاتون کو کم از کم چار بار معیاری قبل از پیدائش معائنہ حاصل ہونا چاہیے ہر زچگی تربیت یافتہ عملے کی نگرانی میں ہونی چاہیے اور ہر ضلع میں 24 گھنٹے فعال ایمرجنسی زچگی سہولیات دستیاب ہونی چاہئیں۔ ماں اور بچے کی غذائیت، آئرن اور فولک ایسڈ سپلیمنٹس، اور بریسٹ فیڈنگ کے فروغ کو قومی ترجیح بنانا بھی ناگزیر ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق ہر ایک ڈالر کی سرمایہ کاری ماں و نیوبورن صحت میں ڈالنے سے کے معاشی فوائد پیدا کر سکتا ہے، جس سے یہ محض اخراجات نہیں بلکہ قومی سرمایہ کاری بن جاتی ہے۔حکومت پاکستان اور بالخصوص پنجاب حکومت کے لیے یہ وقت لمحہ فکریہ ہے۔ صحت کے بجٹ میں اضافہ محض اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ اس کا واضح حصہ ماں و بچے کی صحت پر خرچ ہونا چاہیے۔ لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام، مڈوائفری سروسز، دیہی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن اور ماں کی موت کے ہر واقعے کی باقاعدہ آڈٹ رپورٹ فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ جب تک ہر موت کا حساب نہیں لیا جائے گا، پالیسیاں محض کاغذی رہیں گی۔
    بطور پاکستانی قوم ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہر خاندان کو سمجھنا ہوگا کہ حمل کے دوران طبی معائنہ ایک ضروری اقدام ہے۔ ماں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا، کم عمری کی شادیوں سے اجتناب، بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی حوصلہ افزائی اور ویکسینیشن کی پابندی سب وہ اقدامات ہیں جو کسی بڑے بجٹ کے بغیر بھی ہزاروں جانیں بچا سکتے ہیں۔ گھروں میں تعلیم، کمیونٹی نیٹ ورکس، سپورٹ گروپس، اور مقامی آگاہی پروگرام زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔پاکستان میں اس حوالے سے کچھ پیش رفت تو زمانے آئی ہے مگر موجودہ شرح ماں و نوزائیدہ اموات کو خطرناک حد تک بلند رکھتی ہیں خاص طور پر دیہی، پسماندہ اور غربت زدہ علاقوں میں۔ عالمی ادارے، حکومت، اور پاکستانی قوم کو مل کر بروقت منصوبہ بندی، صحت نظام کی مضبوطی، عوامی شعور، اور مناسب سرمایہ کاری کے ساتھ اس بحران کا مؤثر حل نکالنا ہوگا۔ یہی اقدامات نہ صرف اموات کو کم کریں گے بلکہ ملکی ترقی، سماجی استحکام اور انسانی وسائل کو مضبوط بنائیں گے۔ ہمارے ہاں چھ ماہ تک مکمل بریسٹ فیڈنگ کی شرح صرف 48 فیصد ہے۔ پنجاب میں نوزائیدہ اموات کی شرح تقریباً 1ہزار میں 41 اور غذائی قلت و پسماندہ نشوونما 31.5 فیصد کے قریب ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ فوری اور مربوط اقدامات نہ صرف ضروری بلکہ غیر متوقع نتائج کے خطرے سے بچاؤ کے لیے ناگزیر ہیں۔
    آخرکار ماں اور بچے کی صحت قوم کے مستقبل کی عکاس ہے۔ اگر آج ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل ہمارے اسپتال، معیشت اور سماجی ڈھانچے اس کی قیمت چکائیں گے۔ عالمی ادارے خبردار کر رہے ہیں، اعداد و شمار چیخ رہے ہیں، اور اب فیصلہ ہم سب کا ہے کہ کب تک اس قومی سانحے کو معمول سمجھتے رہیں گے۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      پنجاب فوڈ اتھارٹی کا لاہور میں کریک ڈاؤن، شاہدرہ، پارک ویو اور ریلوے روڈ پر 3 فوڈ یونٹس سیل

      گھانا کے خلاف انگلینڈ کی مایوس کن کارکردگی کالے جادو‘ کے چرچے

      ہر کوکا کولا آپ کی زندگی کے 12 منٹ کم کر سکتی ہے

      تازہ ترین

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      یورپ ‘اومیگا بلاک’ کی گرفت میں، عالمی ادارہ صحت نے 1,300 اموات کی سنگین حقیقت کا انکشاف کیا

      کامیڈین اللہ رکھا پیپسی شو کی ریکارڈنگ کے دوران انتقال کرگئے

      آئرلینڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ چیمپئن بھارت کو 2-0 سے وائٹ واش کر دیا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.