Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ایران امریکا معاہدہ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد گرگئیں
    • سوئیڈن نے تیونس کو 1-5 سے شکست دیدی
    • شہباز شریف نے امریکا اور ایران امن معاہدہ طے پانے کا اعلان کردیا
    • چینی کا استعمال مکمل ختم کرنا صحت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے، تحقیق
    • ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ہائی پروفائل تقریب میں اپنی 80ویں سالگرہ منائی
    • افغانستان میں موجود دہشتگرد پورے خطے کیلئے بڑا خطرہ
    • نیتن یاہو ایران سے ہار گئے؟ اسرائیلی اپوزیشن لیڈر کا دھماکہ خیز دعویٰ
    • ایران پر جنگ مسلط ہوئی تو پوری قوم ایک مٹھی بن گئی، صدر پزشکیان
    • یورپی یونین کا میٹا کو بڑا حکم!
    • اے آئی استعمال کرنے والی کمپنیوں کی آمدنی میں بہتری، نئی رپورٹ جاری
    • جرمن نوجوان نے ایک منٹ میں سوا کلو شہد کھانے کا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا
    • عمان کے ساحل کے قریب 14ہندوستانیوں کولے جانیوالی کشتی ڈوب گئی
    • امریکہ سے مجوزہ معاہدے کے خلاف ایران میں احتجاج،عراقچی اور قالیباف کے خلاف نعرے بازی
    • رومانیہ کے صدر نے نئی حکومت بنانے کے لیے لبرل سابق میئر کو وزیر اعظم منتخب کر لیا
    • آج ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت آمنے سامن
    • نیویارک کی تاریخی فتح؛ سان انتونیو کو شکست دے کر 53 سال بعد چیمپئن بن گیا
    • زرعی اسٹوریج کیلیے 7۔1 ارب مختص کرنے پر اظہار تشویش
    • چربی سے آئل بنانے کا ایک اور مکروہ دھندہ بےنقاب
    • اسلام آباد معاہدے پر دستخط کا قریب آجانا تاریخی لمحہ ہے، بلاول بھٹو
    • بھارت: پسند کی شادی کرنے پر باپ نے پولیس اسٹیشن میں ہی بیٹی کو قتل کرڈالا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    رپورٹر کی ڈائری مہران اجمل خان

    By Khabrain Newsجنوری 9, 2026
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    رپورٹر کی ڈائری
    مہران اجمل خان

    پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے زیادہ جھیل رہے ہیں، حالانکہ عالمی سطح پر کاربن اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اب صرف گرمیوں کے شدید درجہ حرارت تک محدود مسئلہ نہیں رہی بلکہ سردیوں میں اسموگ، سانس کی بیماریوں اور غیر معمولی موسمی پیٹرنز کی صورت میں بھی خود کو واضح طور پر ظاہر کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جو خاموشی سے مگر مسلسل عوامی صحت کو متاثر کر رہا ہے، اور جسے پالیسی سطح پر اب تک سنجیدگی سے تسلیم نہیں کیا گیا۔سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی بڑے شہروں خصوصاً لاہور، فیصل آباد اور گرد و نواح میں اسموگ ایک معمول بن چکی ہے۔ فضائی آلودگی کی یہ کیفیت محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست عوامی صحت کی ایمرجنسی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں سانس کے انفیکشن، دمہ، نمونیا اور دل کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بچے، بزرگ اور پہلے سے بیمار افراد اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہیں مگر اس کے باوجود صحت کے نظام میں اسموگ یا فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح ایمرجنسی پروٹوکول یا طویل المدتی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔موسمیاتی تبدیلی کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ اس نے موسموں کے درمیان توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ سردیاں زیادہ خشک، غیر متوقع اور بعض اوقات طویل ہوتی جا رہی ہیں جس کے نتیجے میں سانس کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ وائرل انفیکشنز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلیاں وقتی نہیں بلکہ ایک نئے موسمی رجحان کی عکاسی کرتی ہیں جس کے صحت پر اثرات ہر سال زیادہ شدید ہوتے جا رہے ہیں۔
    دوسری جانب گرمیوں میں ہیٹ ویوز کی شدت اور دورانیہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن، گردوں کے امراض اور دل کے عارضے اب محض موسمی خبریں نہیں بلکہ ہر سال ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز کی حقیقت بن چکے ہیں۔ مزدور طبقہ، بزرگ شہری اور کم آمدنی والے افراد ان خطرات کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے صحت کے خطرات کو سال کے ہر موسم میں پھیلا دیا ہے۔
    بارشوں کے غیر متوازن پیٹرن نے بیماریوں کے پھیلاؤ کا جغرافیہ بھی تبدیل کر دیا ہے۔ ڈینگی، ملیریا اور دیگر ویکٹر بورن بیماریاں اب مخصوص موسم یا علاقوں تک محدود نہیں رہیں۔ شہری مراکز میں ان بیماریوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شہری صحت کے نظام پر بھی براہِ راست پڑ رہے ہیں، جہاں نگرانی اور روک تھام کے نظام پہلے ہی کمزور ہیں۔
    ماضی میں پاکستان کے اندر آنے والے سیلاب کو اگر صرف ایک وقتی قدرتی آفت سمجھا جائے تو یہ ایک سنگین پالیسی غلطی ہوگی۔ سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں، غذائی قلت، جلدی اور سانس کے امراض میں اضافہ ایک عارضی مسئلہ نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کے مسائل، جنہیں عالمی سطح پر آفات کے بعد انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، پاکستان میں تقریباً مکمل طور پر نظرانداز کر دیے گئے۔ آج بھی آفات کے بعد صحت کے طویل المدتی اثرات کی مانیٹرنگ کے لیے کوئی مؤثر قومی فریم ورک موجود نہیں۔
    یہ تمام عوامل ایک ایسے صحت کے نظام پر دباؤ ڈال رہے ہیں جو پہلے ہی وسائل کی کمی کا شکار ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں بیڈز، ادویات اور طبی عملے کی قلت معمول بن چکی ہے۔ صحت پر مجموعی قومی اخراجات خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے جڑے صحت کے خطرات کے لیے کوئی مخصوص یا مربوط بجٹ لائن موجود نہیں۔ نتیجتاً، موسمی شدتوں سے پیدا ہونے والی بیماریاں صحت کے نظام کی گنجائش سے تجاوز کرتی جا رہی ہیں۔
    پالیسی سطح پر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور صحت کو اب بھی دو الگ شعبوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نیشنل کلائمیٹ پالیسی میں صحت کو ثانوی حیثیت دی گئی ہے، جبکہ نیشنل ہیلتھ ویژن موسمیاتی خطرات کو ایک مستقل چیلنج کے طور پر تسلیم کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ اس پالیسی خلا کے باعث نہ تو صحت کا نظام موسمیاتی خطرات کے لیے تیار ہے اور نہ ہی موسمیاتی منصوبہ بندی میں انسانی صحت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
    دنیا کے کئی ممالک اب کلائمیٹ ریزیلینٹ ہیلتھ سسٹمز کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں موسم سے جڑی بیماریوں کی پیشگی نشاندہی، ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی اور کمیونٹی لیول مداخلت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ صحت کو موسمیاتی بحث کے حاشیے سے نکال کر مرکز میں لائے۔ موسمیاتی پالیسی اور صحت پالیسی کے درمیان عملی ربط، مقامی سطح پر تحقیق، بنیادی صحت کے نظام میں سرمایہ کاری اور آفات کے بعد صحت کی مانیٹرنگ کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
    موسمیاتی تبدیلی کسی ایک موسم کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ سال بھر جاری رہنے والا عوامی صحت کا بحران بن چکی ہے۔ سردیوں میں اسموگ اور سانس کی بیماریاں ہوں یا گرمیوں میں ہیٹ ویوز اور پانی کی کمی، یہ سب ایک ہی حقیقت کے مختلف رخ ہیں۔ اگر اس خاموش ایمرجنسی کو اب بھی پالیسی سطح پر تسلیم نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں اس کی قیمت صرف ماحول یا معیشت نہیں بلکہ انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔ پاکستان کے لیے یہ لمحہ محض ایک متاثرہ ملک کے طور پر سامنے آنے کا نہیں بلکہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی اور صحت کے باہمی تعلق پر ایک سنجیدہ، ڈیٹا بیسڈ اور زمینی آواز بننے کا بھی موقع ہے۔

     

    Khabrain News

    Keep Reading

    چینی کا استعمال مکمل ختم کرنا صحت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے، تحقیق

    چربی سے آئل بنانے کا ایک اور مکروہ دھندہ بےنقاب

    فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

    تازہ ترین

    ایران امریکا معاہدہ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد گرگئیں

    سوئیڈن نے تیونس کو 1-5 سے شکست دیدی

    شہباز شریف نے امریکا اور ایران امن معاہدہ طے پانے کا اعلان کردیا

    عمان کے ساحل کے قریب 14ہندوستانیوں کولے جانیوالی کشتی ڈوب گئی

    امریکہ سے مجوزہ معاہدے کے خلاف ایران میں احتجاج،عراقچی اور قالیباف کے خلاف نعرے بازی

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.