تازہ تر ین

رپورٹر کی ڈائری مہران اجمل خان

پنجاب کے مختلف اضلاع میں فلور ملز، بنیادی مراکزِ صحت، اور دیہی علاقوں کے گھروں کے دوروں کے بعد ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آئی کہ ہماری روزمرہ کی سب سے بنیادی غذا، یعنی آٹا، اپنی غذائی افادیت کے اعتبار سے ادھورا ہے اور اسی ادھورے پن کی قیمت ہزاروں بچے اپنی زندگی یا صحت کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ یہ کوئی نظریاتی بحث نہیں بلکہ ایک خاموش بحران ہے جو ہر سال نئے خاندانوں کو متاثر کر رہا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق نیورل ٹیوب ڈیفیکٹس (NTDs) جیسے اسپائنا بائیفِڈا اور اینینسیفلی ایسے پیدائشی نقائص ہیں جو بچے کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی نشوونما کے دوران ابتدائی ہفتوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب اکثر خواتین کو اپنے حمل کا علم بھی نہیں ہوتا۔ اسی لیے فولک ایسڈ کی مناسب مقدار حمل سے پہلے اور ابتدائی ایام میں نہایت اہم ہوتی ہے۔ پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ نہ صرف فولک ایسڈ سپلیمنٹس کا استعمال کم ہے بلکہ روزمرہ غذا میں بھی اس کی کمی پائی جاتی ہے۔
لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ میں ایک نوجوان ماں سے بات ہوئی جس کا بچہ پیدائش کے فوراً بعد ٹیچنگ ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ بچے کو نیورل ٹیوب ڈیفیکٹ ہے۔ ماں کو نہ تو اس اصطلاح کا علم تھا اور نہ ہی اس بات کا کہ حمل سے پہلے اور ابتدائی مہینوں میں فولک ایسڈ کی کمی اس کی بڑی وجہ بن سکتی ہے۔ یہی کہانی شیخوپورہ، قصور، فیصل آباد اور راجن پور سمیت پنجاب کے کئی گھروں میں مختلف شکلوں میں دہرائی جا رہی ہے۔
سابق میڈیکل سپرنٹینڈنٹ پرنسپل میڈیکل آفیسر (ر) ڈاکٹر منیر احمد ملک کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں میں برسوں کی سروس کے دوران انہوں نے مسلسل ایسے کیسز دیکھے جہاں بچے نیورل ٹیوب ڈیفیکٹس کے ساتھ پیدا ہوتے تھے حالانکہ مناسب فولک ایسڈ کے استعمال سے ان میں سے بڑی تعداد کو روکا جا سکتا تھا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو مکمل طور پر قابلِ بچاؤ ہونے کے باوجود بدستور موجود ہے۔زیادہ تر خواتین کو حمل کے ابتدائی ہفتوں میں فولک ایسڈ کی اہمیت کا علم ہی نہیں ہوتا اسی لیے صرف سپلیمنٹس پر انحصار کافی نہیں بلکہ خوراک کی سطح پر مداخلت ناگزیر ہے۔ان کی رائے میں آٹے کی فورٹیفکیشن فولک ایسڈ کی کمی پر قابو پانے کا سب سے مؤثر اور پائیدار حل ہے کیونکہ پاکستان جیسے ملک میں ہر طبقہ روزانہ آٹا استعمال کرتا ہے۔
لاہور کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں نیوروسرجن سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ہر ماہ درجنوں ایسے کیسز آتے ہیں جنہیں اگر بروقت غذائی احتیاط سے روکا جا سکتا تھا۔ ان کے مطابق “یہ صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ پالیسی کی ناکامی بھی ہے۔” ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ دنیا کے کئی ممالک نے آٹے کی فورٹیفکیشن یعنی اس میں فولک ایسڈ، آئرن اور دیگر مائیکرونیوٹرینٹس شامل کرنے کو لازمی قرار دے رکھا ہے جبکہ پنجاب میں یہ عمل اب بھی زیادہ تر رضاکارانہ سطح تک محدود ہے۔
نیوٹریشن انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان اور پنجاب میں تقریباً آدھی خواتین فولک ایسڈ کی کمی کا شکار ہیں۔جو ان پیدائشی نقائص کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ڈاکٹر شبینہ رضا کا اس حوالے کہنا ہے کہ پاکستان میں تولیدی عمر کی تقریباً آدھی خواتین فولک ایسڈ کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ کمی صرف غذائی قلت کا نتیجہ نہیں بلکہ خوراک کے معیار، آگاہی کی کمی اور صحت کے نظام کی کمزوریوں کا مجموعہ ہے۔ دیہی علاقوں میں تو صورتحال مزید سنگین ہے جہاں خواتین کی بڑی تعداد نہ تو باقاعدہ طبی معائنہ کروا پاتی ہے اور نہ ہی انہیں غذائی رہنمائی میسر ہوتی ہے۔جدید سائنسی تحقیق اس بات پر متفق ہے کہ آٹے کی فورٹیفکیشن دنیا بھر میں مائیکرونیوٹرینٹ کی کمی سے نمٹنے کا سب سے مؤثر اور کم لاگت طریقہ ہے۔ عالمی سطح پر شائع ہونے والی متعدد اسٹڈیز سے ثابت ہوا ہے کہ فولک ایسڈ سے بھرپور آٹے کے استعمال سے نیورل ٹیوب ڈیفیکٹس میں 30 سے 50 فیصد تک کمی ممکن ہے۔ اسی طرح آئرن کی شمولیت سے خون کی کمی (انیمیا) میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جو پاکستان میں خواتین اور بچوں دونوں میں عام ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی لاہور کی جانب سے فیلڈ میں کام کرنے والے لیڈی ہیلتھ ورکرز طیبہ شریف نے بھی اس مسئلے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو فولک ایسڈ کے بارے میں بنیادی معلومات تک حاصل نہیں۔ اکثر کیسز میں حمل کی تصدیق کے بعد سپلیمنٹس دیے جاتے ہیں، جبکہ اس وقت تک نیورل ٹیوب کی نشوونما کا اہم مرحلہ گزر چکا ہوتا ہے۔ اگر آٹا خود ہی فولک ایسڈ سے بھرپور ہو تو یہ خلا بڑی حد تک پُر کیا جا سکتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں زیادہ تر آبادی اپنی کیلوریز کا بڑا حصہ گندم سے حاصل کرتی ہے، وہاں آٹے کی فورٹیفکیشن ایک انتہائی مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ یہ کسی ایک طبقے تک محدود نہیں بلکہ امیر و غریب سب تک یکساں پہنچتی ہے، جس سے صحت میں عدم مساوات کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
یہاں ایک اہم پہلو جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہ حکومتی قیادت کا کردار ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ اس وقت صوبے میں صحت کے شعبے، خصوصاً ماؤں اور بچوں کی فلاح کے لیے متعدد قابلِ ستائش اقدامات کر رہی ہیں۔ اسی تناظر میں یہ گزارش نہایت اہمیت اختیار کر جاتی ہے کہ وہ آٹے کی فورٹیفکیشن اور فولک ایسڈ کی کمی جیسے سنجیدہ عوامی صحت کے مسئلے پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبہ بھر میں ایک جامع آگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ خواتین کو حمل سے پہلے اور دورانِ حمل فولک ایسڈ کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے اور ساتھ ہی فلور ملز مالکان کے ساتھ مل کر آٹے کی لازمی فورٹیفکیشن کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ اگر یہ معاملہ وزیراعلیٰ کی براہِ راست ترجیح میں شامل ہو جائے تو اس کے نتائج نہ صرف فوری بلکہ آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
فیلڈ وزٹ کے دوران ایک فلور مل کے مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فورٹیفکیشن مشینری اور مائیکرونیوٹرینٹ پری مکس کی دستیابی ممکن ہے مگر چونکہ قانون موجود نہیں اس لیے زیادہ تر ملز اضافی لاگت سے بچتی ہیں۔ ان کے مطابق “اگر حکومت واضح قانون اور مانیٹرنگ سسٹم لے آئے تو سب اس پر عمل کریں گے کیونکہ مقابلہ برابر ہو جائے گا۔” ان کا کہنا تھا کہ فی کلو آٹے پر لاگت تقریباً ایک روپے کے قریب آتی ہے، جو صارفین پر معمولی بوجھ ہے مگر اس کے فوائد بہت بڑے ہیں۔
بنگلہ دیش، نیپال اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں آٹے یا دیگر بنیادی غذاؤں کی فورٹیفکیشن کو قانون کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ نتیجتاً نہ صرف پیدائشی نقائص میں کمی آئی بلکہ مجموعی صحت کے اشاریے بھی بہتر ہوئے۔ ان ممالک میں حکومت نے صرف قانون سازی ہی نہیں کی بلکہ مانیٹرنگ، کوالٹی کنٹرول اور عوامی آگاہی مہمات پر بھی بھرپور توجہ دی۔پنجاب میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ یہاں فوڈ فورٹیفکیشن کے حوالے سے کوئی جامع اور لازمی قانون موجود نہیں۔ کچھ بڑی فلور ملز رضاکارانہ طور پر یہ عمل کر رہی ہیں، مگر یہ کوششیں محدود ہیں اور آبادی کے ایک چھوٹے حصے تک ہی پہنچتی ہیں۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں دستیاب آٹا عموماً بغیر کسی غذائی اضافے کے ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہی کمی اگلی نسل تک منتقل ہو رہی ہے۔
حکومتی سطح پر عزم کا اظہار ضرور کیا گیا ہے اور پاکستان نے 2025 کے نیوٹریشن فار گروتھ سمٹ میں 2030 تک فوڈ فورٹیفکیشن قوانین نافذ کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اس سمت میں پیش رفت سست ہے۔ متعلقہ محکموں کے درمیان ہم آہنگی، فنڈنگ، اور صنعتی شعبے کے ساتھ شراکت داری جیسے مسائل اس عمل کو تاخیر کا شکار بنا رہے ہیں۔
معاشی ماہرین اس معاملے کو صرف صحت کا نہیں بلکہ معیشت کا مسئلہ بھی قرار دیتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی تجزیے کے مطابق مائیکرونیوٹرینٹ فورٹیفکیشن پر خرچ کیے گئے ہر ایک ڈالر کے بدلے تقریباً 27 ڈالر کا معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اس میں صحت کے اخراجات میں کمی، بچوں کی بہتر ذہنی و جسمانی نشوونما، تعلیمی کارکردگی میں بہتری، اور مستقبل میں زیادہ پیداواری افرادی قوت شامل ہے۔ اس کے برعکس اگر اس مسئلے کو نظرانداز کیا جائے تو معذوری، بیماری اور کمزور انسانی سرمایہ معیشت پر بوجھ بنتا رہتا ہے۔
قانون سازی کی اہمیت یہاں دوچند ہو جاتی ہے۔ جب تک فورٹیفکیشن کو لازمی قرار نہیں دیا جائے گا تب تک اس کا نفاذ مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ سخت مانیٹرنگ، لیبارٹری ٹیسٹنگ، اور خلاف ورزی پر جرمانے جیسے اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ معیار برقرار رکھا جا سکے۔ صرف پالیسی بنانا کافی نہیں، اس پر عملدرآمد اور نگرانی ہی اصل چیلنج ہے۔
عوامی آگاہی بھی اس عمل کا اہم حصہ ہے۔ اگر صارفین کو معلوم ہو کہ فورٹیفائیڈ آٹا ان کی اور ان کے بچوں کی صحت کے لیے بہتر ہے تو وہ خود بھی اس کا مطالبہ کریں گے۔ اس کے لیے میڈیا، تعلیمی اداروں اور صحت کے شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
میرے مطابق آٹے کی فورٹیفکیشن کوئی پیچیدہ یا ناقابلِ عمل حل نہیں بلکہ ایک سادہ، سستا اور سائنسی طور پر ثابت شدہ اقدام ہے۔ مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ ترجیحات اور پالیسی کے فقدان کا ہے۔ جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا ہر سال ہزاروں بچے ایسے نقائص کے ساتھ پیدا ہوتے رہیں گے جنہیں بآسانی روکا جا سکتا تھا۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی کہانیاں ہیں ایسے خاندانوں کی کہانیاں جو عمر بھر کے لیے ایک بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایک ذمہ دار معاشرے اور ریاست کے طور پر یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس قابلِ بچاؤ بحران کو مزید نظرانداز نہ کریں۔ آٹے کی فورٹیفکیشن محض ایک صحت پالیسی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain