تازہ تر ین

پنجاب میں پولیو کے خلاف بڑی پیش رفت: وائرس کی شرح میں تاریخی کمی، 2026 تک زیرو پولیو ہدف کا امکان

رپورٹر کی ڈائری
مہران اجمل خان

پولیو کے خلاف جنگ میں پنجاب کی بدلتی تصویر

 

کیا واقعی پنجاب پولیو کے خلاف جنگ جیتنے کے قریب ہے یا یہ صرف اعداد و شمار کا کھیل ہے؟ پچھلے چھ ماہ کے ڈیٹا نے ایک امید ضرور پیدا کی ہے مگر زمینی حقائق جاننے کے لیے میں نے بطور ہیلتھ رپورٹر فیلڈ کا رخ کیا پولیو ورکرز سے بات کی اور والدین کے خدشات سنے اور متعلقہ حکام سے بھی ملاقات کی۔
میری پہلی منزل لاہور کا ایک گنجان آباد علاقہ چونگی امرسدھو تھا جہاں حالیہ پولیو مہم کے دوران ٹیمیں گھر گھر جا رہی تھیں۔ ایک لیڈی ہیلتھ ورکر نے دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے ایک خاتون نے بچے کو اٹھا کر باہر لایا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بچے کو پولیو کے قطرے پلوا دیے۔ یہ منظر اس مہم کی کامیابی کا پہلا اشارہ تھا۔اسی دوران ایک ذاتی تجربہ بھی اس رپورٹ کا حصہ بن گیا۔ بطور ہیلتھ رپورٹر میں نہ صرف اس مہم کو کور کر رہا تھا بلکہ ایک باپ کی حیثیت سے بھی اس کا حصہ ہوں۔ میرے اپنے گھر کے دروازے پر جب پولیو ورکر خواتین آئیں تو میں نے اپنے تین سالہ بیٹے اور ڈیڑھ سالہ بیٹی کو خود باہر لا کر پولیو کے قطرے پلوائے۔ اس لمحے نے مجھے یاد دلایا کہ یہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔ میں نے پولیو ورکرز کا شکریہ ادا کیا اور ان کی محنت کو سراہا کیونکہ یہی وہ فرنٹ لائن سپاہی ہیں جو اس جنگ کو جیتنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار اس تبدیلی کی واضح تصدیق کرتے ہیں۔ پنجاب بھر میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران پولیو وائرس کی گردش میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ماحولیاتی نگرانی کے تحت مجموعی طور پر 49 نمونوں کا تجزیہ کیا گیا جن میں 31 معمول کے اور 11 اضافی نمونے شامل تھے۔ ان میں سے صرف لاہور کے ایک ضلع میں فروری کے دوران ایک مثبت نمونہ سامنے آیا جو مارچ میں مکمل طور پر منفی ہو گیا۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ سیوریج میں وائرس کی موجودگی ایک فیصد تک محدود ہو چکی ہے جبکہ 2025 کے اختتام پر یہ شرح 26 فیصد اور اگست 2025 میں 56 فیصد تھی۔
میں نے اس حوالے سے محکمہ صحت کے حکام سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ یہ کامیابی محض اتفاق نہیں بلکہ مسلسل حکمت عملی بہتر نگرانی اور مؤثر ویکسینیشن مہمات کا نتیجہ ہے۔ فیلڈ میں موجود ٹیموں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اب زیادہ تر والدین تعاون کر رہے ہیں جو پہلے ایک بڑا چیلنج تھا۔
علاقائی سطح پر بہتری اور بھی واضح ہے۔ لاہور میں جہاں پہلے وائرس کی موجودگی 56 فیصد تک تھی اب یہ کم ہو کر 5 فیصد رہ گئی ہے۔ راولپنڈی میں صورتحال مزید حوصلہ افزا ہے جہاں مثبت نمونے 63 فیصد سے کم ہو کر صفر تک پہنچ گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں بھی وائرس کی شرح مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
جب میں نے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک پولیو سپروائزر سے فون پر بات کی تو انہوں نے کہا کہ “پہلے ہمیں مزاحمت کا سامنا ہوتا تھا مگر اب لوگ خود بچوں کو لے کر آتے ہیں۔ یہ سب آگاہی مہمات کا نتیجہ ہے۔”
انسداد پولیو پروگرام کے سربراہ عدیل تصور سے ہونے والی گفتگو نے اس پیش رفت کی مزید وضاحت کی۔ ان کے مطابق گزشتہ مہم میں خاص طور پر ان بچوں پر توجہ دی گئی جو پہلے ویکسین سے محروم رہ گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ “کیچ اپ مہم کے دوران مسڈ بچوں کا ڈیٹا تفصیل سے دیکھا گیا، اضلاع کی کارکردگی کا تجزیہ کیا گیا اور اسی بنیاد پر حکمت عملی ترتیب دی گئی۔” ان کا کہنا تھا کہ پولیو کے خلاف کامیابی کا یہ تسلسل برقرار رکھا جائے گا اور 2026 میں زیرو پولیو کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہے۔ انہوں نے پولیو ورکرز کی محنت کو بھی سراہا اور کہا کہ “یہ کامیابی انہی کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔”
فیلڈ میں میری ملاقات ایک ایسے ورکر سے بھی ہوئی جو پچھلے دس سال سے پولیو مہم کا حصہ ہے۔ اس نے بتایا کہ “پہلے ہمیں دروازے بند ملتے تھے اب لوگ خود دروازہ کھول کر استقبال کرتے ہیں۔” یہ تبدیلی محض ویکسینیشن نہیں بلکہ اعتماد سازی کا نتیجہ ہے۔
حالیہ پولیو مہم کے اعداد و شمار بھی اس کامیابی کی گواہی دیتے ہیں۔ صرف لاہور میں پانچ روز کے دوران 15 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔ پنجاب کے 35 اضلاع میں مہم مکمل ہو چکی ہے جہاں مجموعی طور پر ایک کروڑ بہتر لاکھ بچوں کو ویکسین دی گئی۔ خاص طور پر متحرک اور مہاجر آبادیوں کے پانچ لاکھ پچاس ہزار بچوں تک رسائی حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا جسے کامیابی سے پورا کیا گیا۔
میں نے شہر کے مضافاتی علاقے میں ایک ایسی بستی کا دورہ بھی کیا جہاں زیادہ تر مہاجر خاندان رہتے ہیں۔ یہاں پولیو ٹیموں کو اب بھی کچھ مشکلات کا سامنا ہے مگر ٹیموں کی مستقل مزاجی نے حالات کو بہتر بنایا ہے۔ ایک ورکر نے بتایا، “ہم بار بار آتے ہیں، سمجھاتے ہیں، آخرکار لوگ مان جاتے ہیں۔”
وزیر اعلیٰ کی فوکل پرسن برائے پولیو عظمیٰ کاردار نے بھی اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق کمیونٹی انگیجمنٹ، مذہبی اور مقامی رہنماؤں کے تعاون سے دور دراز علاقوں تک رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب کو مکمل طور پر پولیو فری بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
میری تحقیقات کے دوران ایک اہم پہلو نگرانی کے نظام کا بھی سامنے آیا۔ محکمہ صحت کا سرویلنس سسٹم اب پہلے سے کہیں زیادہ فعال ہو چکا ہے۔ خطرناک علاقوں کی بروقت نشاندہی کی جاتی ہے اور فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں وائرس کا خدشہ ہوتا ہے، وہاں فوری طور پر اضافی ٹیمیں تعینات کی جاتی ہیں۔
بطور رپورٹر، میری اس فیلڈ وزٹ نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ پولیو کے خلاف جنگ صرف حکومتی اقدامات سے نہیں جیتی جا سکتی اس کے لیے عوامی تعاون لازمی ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو بلا جھجک قطرے پلواتی ہے یا جب ایک باپ اپنے بچوں کو خود آگے بڑھ کر ویکسین دلواتا ہے تو یہ صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک اجتماعی شعور کی عکاسی ہوتی ہے۔
آج پنجاب ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اعداد و شمار امید دلاتے ہیں فیلڈ کی صورتحال حوصلہ افزا ہے اور حکومتی عزم واضح نظر آتا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی پولیو سے پاک ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain