اسلام آباد (حبہ عباسی سے) ملکی برآمدات میں اضافے کے دعوے زور پکڑ رہے ہیں، لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا برآمدات کی یہ رفتار معیشت کو واقعی سہارا دے سکے گی؟ستمبر 2026 میں پاکستان کی اشیاء کی برآمدات 18 فیصد اضافے کے ساتھ 2.94 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ اگست کے مقابلے میں بھی 16.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جولائی تا ستمبر مجموعی برآمدات 8.42 ارب ڈالر ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.8 فیصد زیادہ ہیں۔تاہم ان اعداد و شمار کے پیچھے ایک اہم حقیقت بھی موجود ہے۔ برآمدات بڑھنے کے باوجود پاکستان کا درآمدی بل، توانائی کی ضروریات اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں مسلسل دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صرف برآمدات میں وقتی اضافہ کافی نہیں، بلکہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات، نئی منڈیاں اور صنعتی پیداوار میں پائیدار بہتری ضروری ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ اگر برآمدات واقعی تیزی سے بڑھ رہی ہیں تو پھر ڈالر کی طلب، تجارتی خسارہ اور صنعتکاروں کی لاگت کے مسائل کیوں برقرار ہیں؟ کیا یہ اضافہ چند شعبوں تک محدود ہے یا پوری معیشت میں بہتری کی علامت؟اعداد و شمار خوش آئند ضرور ہیں، مگر اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا حکومت اس رفتار کو پورے مالی سال میں برقرار رکھ پاتی ہے یا ستمبر کا یہ اضافہ صرف ایک عارضی ابھار ثابت ہوتا ہے۔
