راولپنڈی(خصوصی رپورٹر) ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان نے کلرسیداں مدرسے کے منتظمین و معلمین کے تشدد
سے 10 سالہ طالبعلم کے قتل کیس کا ٹرائل 2 ماہ میں مکمل کرنے اور اس پر فیصلے کا حکم دیا ہے عدالت نے یہ حکم مقدمہ میں نامزد ملزم حاجی شریف کی ضمانت منسوخی کے لئے دائر درخواست کی سماعت کے موقع پر جاری کئے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر مقتول فیضان سلطان کے وکیل وقاص کیانی عدالت میں پیش ہوئے مقتول کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ملزم انتہائی بااثر ہے ماتحت عدالت سے بھی ضمانت منظور ہوئی تھی اس کی اگر یہ چاہتا تو تشدد سے شدید زخمی بچے کو بروقت ہسپتال میں منتقل کیا جا سکتا تھا لیکن سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس واقعے کو چھپانے کے لئے بچے کو ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا اس تناظر میں ملزم حاجی شریف اتنا ہی ملوث ہے جتنا اس بچے پر تشدد کرنے والے ملزمان ملوث ہیں لہذا عدالت اس ملزم کی ضمانت منسوخ کر کے اسے پولیس کے سپرد کرے جس پر عدالت نے مختصر حکم جاری کیا کہ مجاز عدالت فیضان قتل کیس کا فوری ٹرائل کر کے 2 ماہ کے اندر فیصلہ کرے یاد رہے کہ 10 سالہ فیضان پر تشدد کر کے اسے 6 روز تک مدرسے میں چھپائے رکھا گیا جس سے وہ دم توڑ گیا تھا قتل کا معاملہ چھپانے کے لئے مدرسے کی انتظامیہ نے نعش ورثا کے حوالے کر دی تھی لیکن نماز جنازہ سے قبل بچے کی میت کو غسل دیا گیا تو جسم پر تشدد کے نشان سامنے آگئے جس پر سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔
