اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی ، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر
مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہاہے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں گے تو آپ کے ساتھ بات کریں گے، انہوں نے صدر زرداری سے بھی اہم ملاقات کی جس میں کسی بھی آئینی و قانونی اقدام سے قبل مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعظم کے مشیر راناثناء اللہ نے بھی کہا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ دوبارہ بھی بات چیت ہوسکتی ہے جبکہ وزیر مملکت طلال چودھری نے کہا ہے کہ مذاکرات میں بریک تھرو ہوچکا تھا، وزیر اعلیٰ کے پی کی شرائط رکاوٹ بنیں۔ اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈرپاس کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایک دن یہ شاہراہ کشمیر اور سری نگر پہنچے گی، تاہم سڑکیں، انڈرپاسز اور پل عوام کی سفری سہولیات کیلئے بنائی جاتی ہیں۔ ڈھائی سال کی محنت اور ٹیم ورک کے ذریعے ملکی معیشت کو اپنے پائو ں پر کھڑا کیا، میکرو اکنامک استحکام بہت مشکل سے حاصل ہوا، یہی قوم کی منشا اور ہر پاکستانی کی آواز ہے کہ پاکستان کو عظیم بنائیں گے، بدقسمتی سے مذاکرات کو کامیاب بنانے کی ہماری کوششیں بار آور ثابت نہ ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملکی ترقی اور خوشحالی کا عمل جاری ہے اور دوسری جانب احتجاج کے باعث برآمدات، درآمدات اور مینو فیکچرنگ کا شعبہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے، دھرنوں اور احتجاج کی سیاست کا پہلا نشانہ معیشت ہوگی۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کیا ترقی کے پہیے تو دوبارہ جام کرنا ملک دشمنی نہیں، ہوش کے ناخن لیں اور دھرنوں کو ختم کریں، کیا آپ پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، مارچ اور دھرنے ختم کریں گے تو آپ کے ساتھ بات کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے دھرنوں اور لانگ مارچ کے بھیانک سائے دوبارہ نمودار ہورہے ہیں، اتفاق رائے سے طے کیا کہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ سے بامعنی، بامقصد مذاکرات کریں، مل بیٹھ کر باہمی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ڈھونڈیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومتی کمیٹی نے پی ٹی آئی سے سپیکر چیمبر میں 2دن بات چیت کی، امید کی جارہی تھی بات چیت سے مثبت نتائج ظاہر ہوں گے، بلکہ پرامید تھے بات چیت کے بعد دھرنوں کی سیاست کو خیرباد کہا جائے گا، بدقسمتی سے پی ٹی آئی وفد نے طے شدہ چیزوں میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اب معاشی ترقی کا وقت آچکا ہے، پاکستان کے ترسیلات زر، آئی ٹی ایکسپورٹس میں اضافہ ہوا ہے، ملکی ترقی کے پہیے کو دوبارہ جان بوجھ کر جام کیا جارہا ہے، پاکستان کوعالمی سطح پر شہرت ملی، اغیار بھی تعریف کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ قانون اپنا راستہ لے گا، منفی پروپیگنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، پی ٹی آئی خود سوچے آپ کی یہ کارروائی فائدہ دے گی یا نقصان؟۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں گے تو آپ کے ساتھ بیٹھیں گے، دھرنوں اورلانگ مارچ کی سیاست سے ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، عوام کے جان ومال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ، قوم کی منشا ہے کہ پاکستان محنت، امانت اور دیانت کے ساتھ آگے بڑھے۔ دریں اثناء وزیراعظم کے مشیربرائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ دوبارہ مذاکرات ہوسکتے ہیں،دہشت گردی کے واقعات میں ملوث لوگ افغانستان سے ٹریننگ لے کر آتے ہیں وہیں سے کنٹرول ہوتے ہیں ،دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپ میں اسرائیلی بھی آکر ان کو ٹیکنالوجی کی ٹریننگ دے رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق کی پالیسی پر عمل کرنا صوبائی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے کا وفاقی حکومت کو آئینی اختیار حاصل ہے۔ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا عسکری قیادت، سیاسی قیادت اور وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ ہے کہ دہشتگردی کی جنگ جو پاکستان پر مسلط کردی گئی ہے اسے حتمی نتیجے تک پہنچایا جائے، دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپ میں اسرائیل کے لوگ بھی آکر ان کو ٹیکنالوجی کی ٹریننگ دے رہے ہیں یہ ڈرونز اس سے پہلے تو افغان طالبان نے نہیں چلائے تھے۔ خیبرپختونخوا کی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف اس پالیسی اور آپریشن میں کردار نبھانا ہوگا۔رانا ثنا اللہ نے کہا اپوزیشن کے ساتھ رابطے تو پہلے بھی تھے اب بھی رابطے ہیں، ہم اپوزیشن کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کے بعد دوبارہ مذاکرات کیلئے بیٹھ سکتے ہیں۔قبل ازیں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آخری وقت میں شرائط مذاکرات کی ناکامی کا باعث بنیں، اس وقت اپوزیشن کے مذاکرات کار ہم سے آنکھیں نہیں ملا پا رہے تھے،اپوزیشن بہت سے حقائق پر پردہ ڈال رہی ہے، انہوں نے جان بوجھ کر اس اہم عمل کو نتیجہ خیز نہیں بننے دیا، اس دفعہ ان کی جو غلط فہمی نکلے گی، اس کے بعد ملک میں مارچ نہیں ہوگا کیونکہ حکومت نے اس سے نمٹنے کے لئے سیاسی اور آئینی سمیت تمام تر تدابیر مکمل کر لی ہیں۔قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی صدر آصف زرداری سے ملاقات ہوئی ہے جس میں دونوں نے اتفاق کیا کہ کسی بھی آئینی و قانونی اقدام سے قبل مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں پارٹیوں کے سینئر رہنما بھی موجود تھے، صدر اور وزیر اعظم کی ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے پیدا صورت حال پر بھی بات چیت ہوئی۔ صدر اور وزیراعظم کو مذاکراتی کمیٹی کے اراکین نے بریفنگ دی۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ صدر اور وزیرعظم کی یہ ملاقات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو نشان امتیاز عطا کرنیکی تقریب کے بعد ہوئی۔
شہباز شریف
