لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ژوب میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو حکومت کو بانی پی ٹی آئی سے ہماری ملاقات کرانا ہوگی، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے، بانی پی ٹی آئی جو کہیں گے ہم وہی بات آگے پہنچائیں گے۔محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ گارنٹی دیتے ہیں کہ بانی سے ملاقات کے بعد تمام مسائل کے حل تک مذاکرات ختم نہیں ہوں گے، مسائل کے حل تک مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا، تمام سیاسی جماعتیں آئین کی بالادستی پر متفق ہوں، سیاسی بحران کا حل مذاکرات اور آئین کی بالادستی میں ہے۔اپوزیشن لیڈرکا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کسی صورت قبول نہیں کریں گے،گورنر راج نافذکیا گیا تو بھرپور مزاحمت کریں گے،گورنر راج کی صورت میں ملک بھر میں احتجاج کیا جائیگا،گورنر راج لگا تو ملک کا ہر چوراہا بندکریں گے۔محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہم شہباز حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری کے معاملے پر وزیراعظم یا اسپیکر دفتر میں ملاقات نہیں ہوگی، اہم تقرری کے معاملے پر نواز شریف کے مری والیگھر میں بیٹھ کر بات کرنیکو تیار ہیں، چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔
