لاہور (افضل سیال سے) سی او ایم سی ایل کلیم یوسف نے نشتر زون میں60 کینال پر مشتمل غیرقانونی، بغیر نقشہ منظوری بلڈنگ کی تعمیر کروا کر سرکاری خزانے کو 50 کروڑ کا ٹیکہ لگا دیا، ڈپٹی کمشنر بھی خاموش، کلیم یوسف کا بلڈنگ مالکان کے ساتھ بلڈنگ پلان کلرک انیدالحیات کے ذریعے مک مکا، تین بار بلڈنگ ڈی سیل کروائی جبکہ غیر قانونی تعمیر کوگرایا نہ جاسکا، اسکول کی تعمیر جاری، دس کینال کی کمرشلائزیشن پر 60 کینال کی بغیر نقشہ منظوری غیرقانونی تعمیر نے سی او ایم سی ایل کی کرپشن کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ تفصیل کے مطابق نشتر زون کماہاں انٹرچینج کے قریب (سیج اسکول) کی 60 کنال اراضی پر غیر قانونی، بغیر نقشہ منظوری کے تعمیر جاری ہے، سی او ایم سی ایل کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے سرکاری خزانے کو مختلف سرکاری ٹیکسز کی مد میں پچاس کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ذرائع نے خبریں کو بتایا ہے کہ سی او ایم سی ایل کلیم یوسف نے نشتر زون کے کمائو پت کلرک انیدالحیات کے ذریعے اسکول مالکان کے ساتھ مک مکا اور بھاری رشوت وصولی کی اطلاعات زبان زدعام ہیں، یاد رہے کرپشن، سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل کرتے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے اسی کلرک کو چند روز قبل کلیم یوسف نے بھاری رشوت لیکر بحال کیا ہے۔ ذرائع نے خبریں کو بتایا ہے کہ سیج اسکول مالکان نے کمرشلائزیشن 10 کینال کی کروائی ہے جبکہ موقع پر 60 کینال پر مشتمل بغیر نقشہ منظوری غیر قانونی سکول کی بلڈنگ 50 فیصد مکمل کروا دی گئی ہے اور سی او نے دانستہ طور پر اسکول کھولنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ ذرائع کے مطابق سی او ایم سی ایل نے ایم او پی رائے امتیاز کو غیرقانونی اسکول کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے سختی سے روک رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ متعلقہ افسران و ملازمین سیج اسکول کو سیل کرنے یا غیرقانونی بلڈنگ گرانے سے قاصر ہیں۔
