لاہور(محمد کامران سے)سٹی ٹریفک پولیس کے متعدد کیبنوں میں مبینہ ڈائریکٹ بجلی سپلائی کا
انکشاف، خالی کیبنوں میں بھی اے سی چلنے لگے، سرکاری بجلی کے بے دریغ استعمال پر سوالات اٹھ گئے۔ چیئرنگ کراس، ضلع کچہری اور جی او آر مال روڈ کے علاوہ شہر کے بیشتر ٹریفک پوائنٹس پر قائم کیبنوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کئی کیبن خالی پڑے ہونے کے باوجود ایئر کنڈیشنر چلتے رہتے ہیں، جبکہ بعض مقامات پر اہلکار ڈیوٹی کے دوران موبائل فون استعمال کرتے ہوئے اے سی کی ٹھنڈی ہواں سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں۔مبینہ ڈائریکٹ سپلائی کے ذریعے بجلی کے استعمال نے محکمہ ٹریفک میں نگرانی کے نظام پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا۔ سوال یہ ہے کہ خالی کیبنوں میں اے سی کس کے حکم پر اور کس بجلی سے چل رہے ہیں؟ اگر بجلی سرکاری ہے تو اس کا بل کون ادا کر رہا ہے، جبکہ اگر میٹرنگ موجود نہیں تو بجلی کے استعمال کا حساب کیسے رکھا جا رہا ہے؟ معاملے پر سی ٹی او سید عبدالرحیم شیرازی کا مقف جاننے کے لیے متعدد بار فون کالز اور ایس ایم ایس کیے گئے، تاہم رابطہ نہ ہو سکا۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ شہر بھر کے ٹریفک کیبنوں کے بجلی کنکشن، اے سی کے استعمال اور بجلی کے اخراجات کا فوری آڈٹ کرایا جائے اور اگر کسی مقام پر غیر قانونی کنکشن یا سرکاری وسائل کا بے جا استعمال ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
