لاہور (کامرس رپورٹر) پاکستانی کاسمیٹکس اور پرسنل کیئر مصنوعات نے دبئی میں منعقد ہونے والی تین روزہ بین الاقوامی نمائش بیوٹی ورلڈ مڈل ایسٹ میں خریداروں، صنعت سے وابستہ ماہرین اور بین الاقوامی کاروباری نمائندگان کی بھرپور توجہ حاصل کی، جس سے عالمی منڈی میں پاکستانی کاسمیٹکس صنعت کے بڑھتے ہوئے برآمدی امکانات اجاگر ہوئے۔دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں 6 سے 8 اکتوبر تک منعقد ہونے والی نمائش میں پاکستانی مصنوعات کو زبردست پذیرائی ملی۔ شرکاء کی جانب سے مثبت ردِعمل نے پاکستانی کاسمیٹکس اور پرسنل کیئر مصنوعات کے معیار، مسابقتی صلاحیت اور عالمی منڈی میں موجود امکانات کو نمایاں کیا۔پاکستان کے قونصل جنرل دبئی حسین محمد نے پاکستان پویلین کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلر علی زیب خان، کونسلر محمد ہارون چوہدری، پاکستان کاسمیٹکس اینڈ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر وسیم سرور اور دیگر پاکستانی کاروباری نمائندگان بھی موجود تھے۔پاکستانی کمپنیوں کی نمائش میں شرکت ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) نے دبئی میں قونصلیٹ جنرل آف پاکستان کے کمرشل سیکشن کے تعاون سے ممکن بنائی۔اس موقع پر قونصل جنرل حسین محمد نے کہا کہ پاکستان کے بیوٹی اور پرسنل کیئر سیکٹر، بالخصوص بیوٹی انسٹرومنٹس، اسکن کیئر، ہیئر کیئر اور کاسمیٹکس کے شعبوں میں برآمدات بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے ایک اہم منڈی اور وسیع تر خطے تک رسائی کا اسٹریٹجک گیٹ وے ہے۔ بیوٹی ورلڈ مڈل ایسٹ پاکستانی کمپنیوں کو معیاری مصنوعات متعارف کرانے، کاروباری روابط قائم کرنے اور نئی منڈیوں کی تلاش کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔حسین محمد نے نمائش میں شریک پاکستانی کمپنیوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں متحدہ عرب امارات کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی بیوٹی اور کاسمیٹکس مارکیٹ میں موجود مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ ڈاکٹر وسیم سرور اور پاکستان کاسمیٹکس اینڈ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے پاکستانی کاروباری برادری کو عالمی سطح پر اپنی مصنوعات اور برانڈز متعارف کرانے کا موقع فراہم کرنے پر قونصل جنرل حسین محمد اور حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات مقامی مینوفیکچررز، برآمد کنندگان اور کاروباری افراد کو عالمی خریداروں تک رسائی، نئی کاروباری منڈیوں کی تلاش، بین الاقوامی شراکت داری کے قیام اور پاکستان کی تجارتی موجودگی مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
