کراچی (نیوز ایجنسیاں) پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک (پی ایم این) کے زیر اہتمام 10ویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس (اے ایم سی ایکس)کراچی میں اختتام پذیر ہوگئی، جس میں حکومت، ریگولیٹرز، مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور ماہرین نے پاکستان میں مالی شمولیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے حکمت عملی پر غور کیا۔کانفرنس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالی شمولیت کو پائیدار معاشی ترقی سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کے لیے ضمانت کے بجائے کیش فلو کی بنیاد پر قرضوں، ڈیجیٹل کریڈٹ اور متبادل ڈیٹا کے استعمال پر زور دیا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مالی شمولیت کو صرف رسائی تک محدود رکھنے کے بجائے معیار اور ضرورت سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ انہوں نے PAIDAR Innovation Labs کے اجرا کا خیرمقدم کیا، جو سندھ میں دیہی کاروباری اداروں اور مالیاتی اداروں کو مشترکہ طور پر مالیاتی مصنوعات تیار کرنے کا موقع فراہم کریں گے ۔کانفرنس کا اہم نتیجہ PAIDAR ضمانتی فنانسنگ سہولت کے دوسرے مرحلے کی توسیع ہے، جس کے تحت فنانسنگ 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 4.2 ارب روپے کردی گئی ہے جبکہ مالیاتی اداروں کی تعداد 3 سے بڑھا کر 8 کردی گئی ہے۔ یہ سہولت لاڑکانہ، بدین، ٹھٹھہ، سجاول اور تھرپارکر کے قرض لینے والوں تک پہنچے گی جبکہ کم از کم 50 فیصد فنانسنگ خواتین کے لیے مختص ہوگی۔اس موقع پر پاکستان مائیکروفنانس انویسٹمنٹ کمپنی (PMIC) اور نیشنل رورل سپورٹ پروگرام (NRSP) کے درمیان ایک ارب روپے کی فنانسنگ سہولت کا معاہدہ بھی طے پایا۔کانفرنس میں خواتین کی مالی رسائی، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، اسلامی مائیکروفنانس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ریگولیشن اور 2035ء تک مائیکروفنانس کے مستقبل پر بھی غور کیا گیا۔پاکستان مائیکروفنانس ایوارڈز 2026ء میں ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کو بہترین مائیکروفنانس بینک جبکہ نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کو بہترین غیر بینکاری مائیکروفنانس کمپنی کا ایوارڈ دیا گیا۔ڈاکٹر محمد امجد ثاقب اور نوید اے خان کو بھی مالی شمولیت کے شعبے میں نمایاں خدمات پر اعزازات سے نوازا گیا۔ تقریب میں ملک کے بڑی تعداد میں بینکوں ،مالیاتی نظام سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
وزیر خزانہ
