تہران (آئی این پی )ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ علاقائی سفارت کاری محض اجلاسوں کے انعقاد
تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے بحرانوں سے نمٹنے، مذاکرات جاری رکھنے، کشیدگی میں اضافے کی روک تھام اور عملی تعاون کو فروغ دینے کا موثر ذریعہ بنانا چاہیے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے یہ بات ترکمانستان میں آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ (سی آئی ایس) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایکس پر کہی۔ انھوں نے ایران اور اس تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کیلئے سی آئی ایس پلس ایران کے نام سے ایک نیا فارمیٹ تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی۔ایرانی میڈیا کے مطابق پزشکیان اجلاس میں شرکت کے بعد تہران واپس پہنچ گئے ۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی صدر بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ علاقائی بحرانوں کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور خطے کی سلامتی علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے یقینی بنائی جانی چاہیے۔ ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کو ایرانیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سپیکرمحمد باقر قالیباف نے کہا کہ ہ ایران نے تاریخ میں کئی طاقتورحملہ آوروں کا مقابلہ کیا،جو ذلت کیساتھ واپس گئے،سکندراعظم کی تاریخ دہرانے کی کوشش کرنے والوں کا انجام بھی ایرانیوں کے ہاتھوں برا ہوگا،دنیا پر حکمرانی کے خواب دیکھنے والے ماضی میں بھی ناکام ہوئے ہیں۔انکا یہ بیان مارکو روبیو کیاس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول کھو چکا ہے۔دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کو تہذیبوں کی جنگ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش پر تنقید کرتے ہوئے تاریخ کا حوالہ دیا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق محسن رضائی نے یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے ایتھنز میں کی گئی تقریر کے ردعمل میں دیا، جس میں انھوں نے مغربی تہذیب کا حوالہ دیا اور ایران اور اس کی تہذیب کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے۔محسن رضائی نے ایکس پر لکھا کہ ایران کے ہاتھوں شکست اور ذلت کے بعد ایتھنز جا کر تہذیبوں کی جنگ کا بیانیہ بنانے کے بجائے امریکی حکام کو تاریخ کا ایک اہم واقعہ پڑھنا چاہیے۔ نشریاتی ادارے بلومبرگ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران کی میزائل اور ڈرون سازی کی صلاحیت برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق معاملے سے واقف حکام نے بتایا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی بمباری کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود ایران میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری کے کارخانوں کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا، جس کے باعث تہران اپنے ہتھیاروں کے ذخائر دوبارہ بھرنے کے قابل ہے۔
