اسلام آباد (عادل عباسی) خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی اور تنظیمی چیلنجز کا سامنا ہے۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، صوبائی صدر جنید اکبر اور اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کی گرفتاریوں کے بعد پارٹی کے لانگ مارچ کی قیادت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان تو کردیا ہے، تاہم وہ یہ بتانے سے گریزاں رہے کہ مارچ کی قیادت کون کرے گا اور اس کا آغاز کہاں سے ہوگا۔بیرسٹر گوہر کی جانب سے لانگ مارچ جاری رکھنے کے اعلان کے باوجود قیادت اور مقامِ آغاز کے بارے میں واضح مقف سامنے نہ آنے سے پارٹی کی احتجاجی حکمت عملی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ایک طرف تحریک انصاف گورنر راج کے خلاف سیاسی مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب اہم صوبائی رہنماں کی گرفتاریوں کے بعد احتجاجی تحریک کی عملی کمان سنبھالنے والے رہنما کا نام سامنے نہیں آسکا۔سیاسی صورتحال کا اہم پہلو یہ ہے کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی، صوبائی صدر جنید اکبر اور اسپیکر بابر سلیم سواتی کی گرفتاریوں کے بعد پارٹی کو متبادل قیادت کے تعین کا چیلنج درپیش ہے۔ ایسے میں بیرسٹر گوہر کی جانب سے لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان تحریک کے تسلسل کا اشارہ ضرور ہے، لیکن اس اعلان کے ساتھ احتجاجی پروگرام، قیادت اور مقامِ آغاز کی وضاحت نہ ہونے سے کئی معاملات تاحال غیر واضح ہیں۔تحریک انصاف کی مرکزی قیادت سمیت خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی کا کردار بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ گورنر راج کے خلاف سڑکوں پر مثر احتجاجی سرگرمیاں دکھائی نہ دینے اور کسی نمایاں متبادل رہنما کی جانب سے لانگ مارچ کی قیادت سنبھالنے کا اعلان نہ ہونے سے پارٹی کی تنظیمی تیاری اور احتجاجی حکمت عملی پر سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔پارٹی کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ اہم رہنماں کی گرفتاریوں کے باوجود کارکنوں کو متحرک رکھنے، عوامی رابطہ مہم کو آگے بڑھانے اور احتجاجی تحریک کو منظم کرنے کے لیے واضح لائحہ عمل سامنے لایا جائے۔ اگر لانگ مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تو اس کے لیے قیادت، مقامِ آغاز، شرکت کرنے والے رہنماں اور آئندہ کے پروگرام کی وضاحت بھی ضروری ہوگی۔سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ کیا تحریک انصاف کی مرکزی قیادت خود خیبر پختونخوا پہنچ کر احتجاجی تحریک کی کمان سنبھالے گی یا کسی دوسرے سینئر رہنما کو یہ ذمہ داری سونپی جائے گی؟ اسی طرح یہ معاملہ بھی غیر واضح ہے کہ لانگ مارچ کا آغاز صوبے کے کس مقام سے ہوگا اور اسے کس طریقے سے آگے بڑھایا جائے گا۔بیرسٹر گوہر کی جانب سے لانگ مارچ جاری رکھنے کے اعلان اور اس کی قیادت و مقامِ آغاز واضح نہ کرنے کے درمیان پیدا ہونے والا خلا اب تحریک انصاف کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں پارٹی کی جانب سے متبادل قیادت اور احتجاجی پروگرام کا اعلان اس بات کا تعین کرے گا کہ گورنر راج کے خلاف تحریک کس حد تک منظم اور مثر انداز میں آگے بڑھتی ہے۔
