Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • چینی کا استعمال مکمل ختم کرنا صحت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے، تحقیق
    • ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ہائی پروفائل تقریب میں اپنی 80ویں سالگرہ منائی
    • افغانستان میں موجود دہشتگرد پورے خطے کیلئے بڑا خطرہ
    • نیتن یاہو ایران سے ہار گئے؟ اسرائیلی اپوزیشن لیڈر کا دھماکہ خیز دعویٰ
    • ایران پر جنگ مسلط ہوئی تو پوری قوم ایک مٹھی بن گئی، صدر پزشکیان
    • یورپی یونین کا میٹا کو بڑا حکم!
    • اے آئی استعمال کرنے والی کمپنیوں کی آمدنی میں بہتری، نئی رپورٹ جاری
    • جرمن نوجوان نے ایک منٹ میں سوا کلو شہد کھانے کا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا
    • عمان کے ساحل کے قریب 14ہندوستانیوں کولے جانیوالی کشتی ڈوب گئی
    • امریکہ سے مجوزہ معاہدے کے خلاف ایران میں احتجاج،عراقچی اور قالیباف کے خلاف نعرے بازی
    • رومانیہ کے صدر نے نئی حکومت بنانے کے لیے لبرل سابق میئر کو وزیر اعظم منتخب کر لیا
    • آج ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت آمنے سامن
    • نیویارک کی تاریخی فتح؛ سان انتونیو کو شکست دے کر 53 سال بعد چیمپئن بن گیا
    • زرعی اسٹوریج کیلیے 7۔1 ارب مختص کرنے پر اظہار تشویش
    • چربی سے آئل بنانے کا ایک اور مکروہ دھندہ بےنقاب
    • اسلام آباد معاہدے پر دستخط کا قریب آجانا تاریخی لمحہ ہے، بلاول بھٹو
    • بھارت: پسند کی شادی کرنے پر باپ نے پولیس اسٹیشن میں ہی بیٹی کو قتل کرڈالا
    • امریکا ایران معاہدے پر کل دستخط ہونگے، ٹرمپ کا اعلان
    • غیر ملکی ایجنسیاں ’جاسوس کچھوؤں اور مچھلیوں‘ کے ذریعے چینی سمندروں پر نظر رکھ رہی ہیں: چین کا دعویٰ
    • کینیڈی نے عمارت سے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام مٹا دیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پنجاب میں پولیو کے خلاف بڑی پیش رفت: وائرس کی شرح میں تاریخی کمی، 2026 تک زیرو پولیو ہدف کا امکان

    By Khabrain Newsمئی 4, 2026
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    رپورٹر کی ڈائری
    مہران اجمل خان

    پولیو کے خلاف جنگ میں پنجاب کی بدلتی تصویر

     

    کیا واقعی پنجاب پولیو کے خلاف جنگ جیتنے کے قریب ہے یا یہ صرف اعداد و شمار کا کھیل ہے؟ پچھلے چھ ماہ کے ڈیٹا نے ایک امید ضرور پیدا کی ہے مگر زمینی حقائق جاننے کے لیے میں نے بطور ہیلتھ رپورٹر فیلڈ کا رخ کیا پولیو ورکرز سے بات کی اور والدین کے خدشات سنے اور متعلقہ حکام سے بھی ملاقات کی۔
    میری پہلی منزل لاہور کا ایک گنجان آباد علاقہ چونگی امرسدھو تھا جہاں حالیہ پولیو مہم کے دوران ٹیمیں گھر گھر جا رہی تھیں۔ ایک لیڈی ہیلتھ ورکر نے دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے ایک خاتون نے بچے کو اٹھا کر باہر لایا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بچے کو پولیو کے قطرے پلوا دیے۔ یہ منظر اس مہم کی کامیابی کا پہلا اشارہ تھا۔اسی دوران ایک ذاتی تجربہ بھی اس رپورٹ کا حصہ بن گیا۔ بطور ہیلتھ رپورٹر میں نہ صرف اس مہم کو کور کر رہا تھا بلکہ ایک باپ کی حیثیت سے بھی اس کا حصہ ہوں۔ میرے اپنے گھر کے دروازے پر جب پولیو ورکر خواتین آئیں تو میں نے اپنے تین سالہ بیٹے اور ڈیڑھ سالہ بیٹی کو خود باہر لا کر پولیو کے قطرے پلوائے۔ اس لمحے نے مجھے یاد دلایا کہ یہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔ میں نے پولیو ورکرز کا شکریہ ادا کیا اور ان کی محنت کو سراہا کیونکہ یہی وہ فرنٹ لائن سپاہی ہیں جو اس جنگ کو جیتنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
    اعداد و شمار اس تبدیلی کی واضح تصدیق کرتے ہیں۔ پنجاب بھر میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران پولیو وائرس کی گردش میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ماحولیاتی نگرانی کے تحت مجموعی طور پر 49 نمونوں کا تجزیہ کیا گیا جن میں 31 معمول کے اور 11 اضافی نمونے شامل تھے۔ ان میں سے صرف لاہور کے ایک ضلع میں فروری کے دوران ایک مثبت نمونہ سامنے آیا جو مارچ میں مکمل طور پر منفی ہو گیا۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ سیوریج میں وائرس کی موجودگی ایک فیصد تک محدود ہو چکی ہے جبکہ 2025 کے اختتام پر یہ شرح 26 فیصد اور اگست 2025 میں 56 فیصد تھی۔
    میں نے اس حوالے سے محکمہ صحت کے حکام سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ یہ کامیابی محض اتفاق نہیں بلکہ مسلسل حکمت عملی بہتر نگرانی اور مؤثر ویکسینیشن مہمات کا نتیجہ ہے۔ فیلڈ میں موجود ٹیموں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اب زیادہ تر والدین تعاون کر رہے ہیں جو پہلے ایک بڑا چیلنج تھا۔
    علاقائی سطح پر بہتری اور بھی واضح ہے۔ لاہور میں جہاں پہلے وائرس کی موجودگی 56 فیصد تک تھی اب یہ کم ہو کر 5 فیصد رہ گئی ہے۔ راولپنڈی میں صورتحال مزید حوصلہ افزا ہے جہاں مثبت نمونے 63 فیصد سے کم ہو کر صفر تک پہنچ گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں بھی وائرس کی شرح مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
    جب میں نے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک پولیو سپروائزر سے فون پر بات کی تو انہوں نے کہا کہ “پہلے ہمیں مزاحمت کا سامنا ہوتا تھا مگر اب لوگ خود بچوں کو لے کر آتے ہیں۔ یہ سب آگاہی مہمات کا نتیجہ ہے۔”
    انسداد پولیو پروگرام کے سربراہ عدیل تصور سے ہونے والی گفتگو نے اس پیش رفت کی مزید وضاحت کی۔ ان کے مطابق گزشتہ مہم میں خاص طور پر ان بچوں پر توجہ دی گئی جو پہلے ویکسین سے محروم رہ گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ “کیچ اپ مہم کے دوران مسڈ بچوں کا ڈیٹا تفصیل سے دیکھا گیا، اضلاع کی کارکردگی کا تجزیہ کیا گیا اور اسی بنیاد پر حکمت عملی ترتیب دی گئی۔” ان کا کہنا تھا کہ پولیو کے خلاف کامیابی کا یہ تسلسل برقرار رکھا جائے گا اور 2026 میں زیرو پولیو کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہے۔ انہوں نے پولیو ورکرز کی محنت کو بھی سراہا اور کہا کہ “یہ کامیابی انہی کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔”
    فیلڈ میں میری ملاقات ایک ایسے ورکر سے بھی ہوئی جو پچھلے دس سال سے پولیو مہم کا حصہ ہے۔ اس نے بتایا کہ “پہلے ہمیں دروازے بند ملتے تھے اب لوگ خود دروازہ کھول کر استقبال کرتے ہیں۔” یہ تبدیلی محض ویکسینیشن نہیں بلکہ اعتماد سازی کا نتیجہ ہے۔
    حالیہ پولیو مہم کے اعداد و شمار بھی اس کامیابی کی گواہی دیتے ہیں۔ صرف لاہور میں پانچ روز کے دوران 15 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔ پنجاب کے 35 اضلاع میں مہم مکمل ہو چکی ہے جہاں مجموعی طور پر ایک کروڑ بہتر لاکھ بچوں کو ویکسین دی گئی۔ خاص طور پر متحرک اور مہاجر آبادیوں کے پانچ لاکھ پچاس ہزار بچوں تک رسائی حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا جسے کامیابی سے پورا کیا گیا۔
    میں نے شہر کے مضافاتی علاقے میں ایک ایسی بستی کا دورہ بھی کیا جہاں زیادہ تر مہاجر خاندان رہتے ہیں۔ یہاں پولیو ٹیموں کو اب بھی کچھ مشکلات کا سامنا ہے مگر ٹیموں کی مستقل مزاجی نے حالات کو بہتر بنایا ہے۔ ایک ورکر نے بتایا، “ہم بار بار آتے ہیں، سمجھاتے ہیں، آخرکار لوگ مان جاتے ہیں۔”
    وزیر اعلیٰ کی فوکل پرسن برائے پولیو عظمیٰ کاردار نے بھی اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق کمیونٹی انگیجمنٹ، مذہبی اور مقامی رہنماؤں کے تعاون سے دور دراز علاقوں تک رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب کو مکمل طور پر پولیو فری بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
    میری تحقیقات کے دوران ایک اہم پہلو نگرانی کے نظام کا بھی سامنے آیا۔ محکمہ صحت کا سرویلنس سسٹم اب پہلے سے کہیں زیادہ فعال ہو چکا ہے۔ خطرناک علاقوں کی بروقت نشاندہی کی جاتی ہے اور فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں وائرس کا خدشہ ہوتا ہے، وہاں فوری طور پر اضافی ٹیمیں تعینات کی جاتی ہیں۔
    بطور رپورٹر، میری اس فیلڈ وزٹ نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ پولیو کے خلاف جنگ صرف حکومتی اقدامات سے نہیں جیتی جا سکتی اس کے لیے عوامی تعاون لازمی ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو بلا جھجک قطرے پلواتی ہے یا جب ایک باپ اپنے بچوں کو خود آگے بڑھ کر ویکسین دلواتا ہے تو یہ صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک اجتماعی شعور کی عکاسی ہوتی ہے۔
    آج پنجاب ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اعداد و شمار امید دلاتے ہیں فیلڈ کی صورتحال حوصلہ افزا ہے اور حکومتی عزم واضح نظر آتا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی پولیو سے پاک ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

    Khabrain News

    Keep Reading

    چینی کا استعمال مکمل ختم کرنا صحت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے، تحقیق

    چربی سے آئل بنانے کا ایک اور مکروہ دھندہ بےنقاب

    وزن جانچنے کے غلط اوقات جو صحت کیلئے مضر ثابت ہو سکتے ہیں

    تازہ ترین

    عمان کے ساحل کے قریب 14ہندوستانیوں کولے جانیوالی کشتی ڈوب گئی

    امریکہ سے مجوزہ معاہدے کے خلاف ایران میں احتجاج،عراقچی اور قالیباف کے خلاف نعرے بازی

    رومانیہ کے صدر نے نئی حکومت بنانے کے لیے لبرل سابق میئر کو وزیر اعظم منتخب کر لیا

    چربی سے آئل بنانے کا ایک اور مکروہ دھندہ بےنقاب

    اسلام آباد معاہدے پر دستخط کا قریب آجانا تاریخی لمحہ ہے، بلاول بھٹو

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.