لاہور ( ویب ڈیسک) عالمی فوجداری عدالت نے 4افغان طالبان رہنماؤں کے گرفتاری وارنٹس پبلک کردیے، ادھر ماسکو فارمیٹ کا آٹھواں اجلاس ہوا جس میں افغانستان کی صورتحال اور علاقائی سلامتی پر غور کیا گیا۔ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی)نے افغان طالبان سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ، چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی، وزیر تعلیم حبیب اللہ آغا اور وزیر برائے اعلی تعلیم ندا محمد ندیم کے خلاف گرفتاری وارنٹس پبلک کیے ہیں۔آئی سی سی کے مطابق طالبان رہنماؤں کی جانب سے خواتین کو منظم طور پر بنیادی حقوق اور آزادیوں سے محروم کرنے کے شواہد موجود ہیں، افغان خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، نقل و حرکت، اظہار رائے اور خاندانی زندگی سمیت بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا۔عدالت نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی سیاسی مخالف سمجھ کر نشانہ بنایا گیا، وارنٹس کو عوامی کرنے کا مقصد مزید جرائم روکنا اور عالمی تعاون بڑھانا ہے۔عدالت کے مطابق کے مطابق ان طالبان رہنماؤں نے ایک ایسی حکومتی پالیسی نافذ کی جس کے نتیجے میں افغانستان کی شہری آبادی کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کی شدید خلاف ورزیاں ہوئیں، جن میں قتل، قید، تشدد، جنسی زیادتی اور جبری گمشدگیاں جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔ادھر افغانستان پر ماسکو فارمیٹ مشاورت کا آٹھواں اجلاس ماسکو میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان سمیت خطے کے مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں چین سمیت وسطی ایشیائی ممالک کے نمائندے بھی شریک ہوئے، جبکہ افغانستان کی صورتحال اور خطے کو درپیش اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ماسکو فارمیٹ اجلاس میں افغانستان کی صورتحال، علاقائی امن و سلامتی اور دہشتگردی کے خلاف اقدامات سمیت دیگر اہم امور پر گفتگو کی گئی۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس افغانستان کو انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھے گا۔سرگئی لاوروف نے کہا کہ افغانستان میں نیٹو کے فوجی انفراسٹرکچر کی تعیناتی ناقابل قبول ہے۔روسی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ خطے میں غیر ملکی فوجی انفراسٹرکچر عدم استحکام اور تنازعات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
وارنٹ
