اسلا م آباد (نیوز ایجنسیاں )ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4ہزار میگا واٹ سے تجاوز کر گیا، متعدد
پاورپلانٹس سسٹم سے نکل گئے، ہائیڈل پیداوار بھی کم ہوگئی، ادھربجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا پورٹ فولیو سب سے بڑا مالی خطرہ قراردیدیا گیا ۔این ٹی ڈی سی ذرائع کے مطابق ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال بڑھ گیا ہے ، اس وقت ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہے ۔ متعدد پاورپلانٹس سسٹم سے نکل گئے ہیں اورہائیڈل پیداوار بھی کم ہوگئی ہے۔ شہروں اور دیہات میں 3سے 4گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ۔دوسری جانب لیسکو ریجن میں شارٹ فال 1500میگاواٹ سے بھی تجاوز کرگیا ہے ۔ لیسکو ذرائع کے مطابق شارٹ فال بڑھنے کی وجہ ڈیزل ، گیس اور ہائیڈل پاور میں کمی ہے۔ لیسکو ریجن میں ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹہ جبری لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ کئی روزتک بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔فوکل پرسن ینگ انجیئرنگ کونسل عثمان فاروق کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے۔فوکل پرسن کے مطابق سسٹم سے متعدد پاور ہائو س نکل گئے جن کا 16اکتوبر تک واپسی کا امکان ہے جس سے بجلی کا شارٹ فال ساڑھے چار ہزار میگاواٹ سے بڑھ گیا اور لیسکو سمیت تمام ڈسکوز میں صورتحال ابتر ہے۔عثمان فاروق نے بتایا کہ بجلی کے شارٹ فال سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ 3 سے 4 گھنٹے تک جا پہنچی ہے،گیس کے بعد ڈیزل اور پانی کی جنریشن بھی کم ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق لیسکو چیف کی ڈیمانڈ پر بھی بجلی کا کوٹا نہ بڑھایا جا سکاہے، سسٹم اس وقت ابتر صورتحال کا شکار ہے،آئندہ کچھ روزبدترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ادھر بجلی کی 11تقسیم کار کمپنیوں کا پورٹ فولیو سب سے بڑا مالی خطرہ ہے۔ پاورسیکٹر پر مالی دبائو کم کرنے کیلئے آپریشنل نقصانات میں کمی ناگزیر قرار دیدیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں ڈسکوز کو 282ارب کی سبسڈی دی گئی۔ سبسڈی کے باوجود سرکلر ڈیٹ میں مزید 143ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔ خراب صورتحال میں حکومت کو سالانہ 1200 ارب روپے مالی مدد دینا پڑ سکتی ہے۔ڈسکوز کے اخراجات، مالی نقصانات کم کرکے گردشی قرضے پرقابو پانے کی سفارش کی گئی ہے، آپریشنل اصلاحات کے بغیر سبسڈی دینے سے گردشی قرض کا مسئلہ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
شارٹ فال
