اسلام آباد (عادل عباسی) حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکراتی عمل دوبارہ آگے بڑھنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں،
دونوں جانب سے رابطوں کا سلسلہ بحال ہونے کے بعد رواں ہفتے مذاکرات کے تیسرے دور کے انعقاد پر مشاورت جاری ہے۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا اسلام آباد میں موجود ایک اعلیٰ حکومتی شخصیت سے رابطہ ہوا ہے، جس میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے اور تیسرے دور کی نشست کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رابطے میں موجودہ سیاسی صورتحال، لانگ مارچ اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق دونوں جانب سے اس امر پر غور کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے دوبارہ بحال کیا جائے اور فریقین کے درمیان موجود اختلافات کو سیاسی گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ تیسرے دور کے لیے وقت اور مقام کے تعین پر بھی مشاورت جاری ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر کی جانب سے حکومتی شخصیت سے رابطے کا مقصد مذاکراتی عمل کے لیے نئی گنجائش پیدا کرنا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے پہلے بھی مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سیاسی معاملات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جاسکتا ہے اور حکومت سنجیدہ پیش رفت کرے تو بات چیت دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔دوسری جانب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان گزشتہ مذاکرات میں دونوں فریق اپنے اپنے مطالبات اور تحفظات ایک دوسرے کے سامنے رکھ چکے ہیں، تاہم عمران خان سے ملاقات، سیاسی کارکنوں کی رہائی اور خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی کی پالیسی سمیت بعض اہم معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے آئندہ دور میں انہی بنیادی نکات پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں امن و امان اور انسداد دہشت گردی کے معاملات پر تعاون سمیت دیگر امور پر یقین دہانیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں دونوں فریق براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے رابطوں کے ذریعے درمیانی راستہ نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں بھی یہ امکان زیرِ بحث ہے کہ اگر تیسرے دور میں کسی اہم نکتے پر اتفاق ہوگیا تو مذاکراتی عمل کو مزید آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل مذاکرات کے تیسرے دور کے حوالے سے صورتحال غیر واضح تھی اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا تھا کہ بیرسٹر گوہر نے تیسرے دور کے لیے ان سے رابطہ نہیں کیا۔تاہم اب ذرائع کی جانب سے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان براہِ راست رابطے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد مذاکراتی عمل دوبارہ متحرک ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر ابتدائی رابطوں میں معاملات طے پاگئے تو رواں ہفتے حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کا تیسرا دور منعقد ہوسکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز سیاسی اعتبار سے اہم ہیں اور فریقین کے درمیان ہونے والے رابطے مذاکرات کی سمت کا تعین کرسکتے ہیں۔ تاہم تیسرے دور کی حتمی تاریخ، مقام اور شرکا کے حوالے سے فیصلہ باہمی مشاورت کے بعد متوقع ہے۔
مذاکرات
