لاہور(کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نیمرد کو عورت کا شناختی کارڈ نمبر جاری کرنے کے کیس میں نادرا کو 60 روز کے اندردرستگی کرکے نیا شناختی کارڈ جاری کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھتے ہوئے جنس غلط لکھنے کیخلاف نادرا کی اپیل خارج کردی،تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر نادرا اپنی غلطی تسلیم کرلے تو شہری کے شناختی کارڈ میں جنس کی غلطی درست کرنا اسکی قانونی ذمہ داری ہے، فیصلے کے مطابق شناختی کارڈ کے 13 ہندسوں والے نمبر میں آخری طاق ہندسہ مرد جبکہ جفت ہندسہ عورت کی نمائندگی کرتا ہے،عدالت نے قرار دیا کہ ایسا کوئی قانون موجود نہیں جو نادرا کو شناختی نمبر میں تسلیم شدہ غلطی کی تصحیح سے روکتا ہو، نادرا تکنیکی یا دفتری رکاوٹوں کو جواز بنا کر اپنی تسلیم شدہ غلطی برقرار نہیں رکھ سکتا،فیصلے میں نادرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ شہری کی پرانی تاریخ اور ڈیٹا محفوظ رکھتے ہوئے درست شناختی نمبر جاری کیا جائے، عدالت نے 13 ہندسوں والے جینڈر اور جغرافیائی کوڈنگ اسٹرکچر کے قوانین میں بھی ضروری ترمیم کرنے کا حکم دیا،عدالت نے قرار دیا کہ دفتری غلطی کی تصحیح نادرا کی قانونی اور بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں تاخیر نہیں کی جا سکتی،جینڈر درست ہونے کے باوجود شناختی نمبر کا آخری ہندسہ پرانا برقرار رکھنا شہری کو مشکلات سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔
