لاہور (افضل سیال سے) سی او ایم سی ایل کلیم یوسف اور ایم او پی رائے امتیاز کا گٹھ جوڑ، ایم سی ایل کنٹرولڈ ایریاز میں غیرقانونی تعمیرات کی بھرمار، رائے امتیاز کے خلاف تیار کیا گیا مراسلہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو نہ بھیجوایا جاسکا، سی سی او نے مراسلہ دبا لیا، سرکاری خزانے کے کروڑوں روپے ڈوب گئے۔ تفصیل کے مطابق داتا زون میں غیر قانونی تعمیرات پر ایم او پلاننگ رائے امتیاز اور بلڈنگ انسپکٹر کے خلاف کارروائی کا مراسلہ تیار کیا گیا جس میں غیرقانونی تعمیرات کی سرپرستی کرنے پر پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق ایڈمنسٹریٹر میٹرو پولیٹن کارپوریشن لاہور کی جانب سے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب کے نام حقائق کے مطابق مراسلہ تیار تو کیا گیا لیکن کلیم یوسف اور ایم او پی کے درمیان مک مکا کی وجہ سے یہ مراسلہ دبا دیا گیا ہے اور تاحال بھیجا نہیں جاسکا۔ ذرائع کے مطابق مراسلے میں مال روڈ پر شاہراہ قائداعظم کے خصوصی ہیریٹیج ایریا میں فیصل بینک کے ساتھ مبینہ غیرقانونی کمرشل تعمیرات کی نشاندہی کی گئی تھی اس کے علاوہ مراسلے میں ساندہ روڈ پر ورکشاپ کے منظور شدہ نقشے پر مبینہ کمرشل تعمیر اور ہال روڈ پر بیسمنٹ سمیت چھ منزلہ عمارت کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے ٹیکس کی مد میں نقصان اٹھانا پڑا ہے، مراسلے میں ان تمام معاملات پر غفلت، بدانتظامی اور نااہلی کی بنیاد پر کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مراسلہ چیف آفیسر، ڈپٹی چیف آفیسر اور پی ایس او کو بھی مارک کیا گیا تھا، تاہم اسے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو ارسال نہیں کیا گیا۔
