تازہ تر ین

”افغانستان،پاکستان کیخلاف دہشتگردوں کو پناہ جوابی کاروائی کو سرحدی خلاف ورزی قرار دیتا ہے“ نامور تجزیہ کار ضیا شاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ افغانستان کی بڑی عجیب اور دوہری پالیسی ہے۔ ایک طرف افغانستان میں موجود تمام بھارتی سفارتخانوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ جب چاہیں پاکستان کی سرحد پر حملہ کر دیں، جب پاک فوج دفاع میں جوابی کارروائی کرتی ہے تو حدود کی خلاف ورزی کا الزام لگاتا ہے۔ افغانستان ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔ پاکستان نے جتنے حملے کئے سرحد کے اندر رہتے ہوئے بارڈر سے ملحقہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کیسے۔ وزارت خارجہ کا اس قدر سادہ لوحی ہے مذاکرات کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ سرتاج عزیز جتنی بھی خوبصورت اور ڈپلومیسی زبان استعمال کر لیں، یہ اس طرح نہیں مانیں گے۔ ادھر سے ہونے والے حملوں کی ذمہ داری افغان حکومت پر عائد ہوتی ہے، اگر وہ کہتے ہیںکہ یہ ان کے بھی قابو میں نہیں تو پھر افغان حکومت کو پاکستان، چین اور ایران سے درخواست کرنی چاہئے کہ وہاں دہشتگردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جائے۔ اگر افغانستان ایسا نہیں کرتا تو پھر امریکہ سمیت دوسرے ممالک سے بات کرنی چاہئے کہ افغانستان کی طرف سے اتنے عرصے سے ہماری سرحدوں پر حملے ہو رہے ہیں، روزانہ ہمارے فوجی جوان شہید ہو رہے اور ادھر بھی دہشتگرد مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوبامہ انتظامیہ نے افغانستان سے فوج واپس بلا کر غلطی کی، نیٹو کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا۔ افغان حکومت کو چاہئے کہ ہمسایہ ممالک کی امداد سے اس فتنے پر قابو پائے یا پھر امریکہ کو دوبارہ آنا پڑے گا کیونکہ یہ ملک انتظامیہ کے بس میں نہیں ہے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ 70 فیصد علاقہ طالبان کے قبضے میں ہے جبکہ 30 فیصد علاقے میں نام نہاد حکومت چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان سفیر نے اعلان کیا تھا کہ اگر چند روز میں پاک افغان بارڈر نہ کھولا گیا تو جہازوں و ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اپنے شہریوں کو لے کر جائیں گے، میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ صرف 3 ہزار کو کیوں لے جا رہے ہو، 30 لاکھ افغانیوں کو تو ضیا دور میں پناہہ دی گئی تھی، اب تو یہ پورے پاکستان میں پھیل چکے ہیں اور بہت سارے افغان مہاجرین نے تو سرکاری اداروں کی مہربانی سے جعلی شناختی کارڈ بھی بنوا لئے ہیں۔ نادرا نے آ کر شناختی کارڈ کے نظام کو تھوڑا شفاف بنایا ہے ورنہ پہلے تو جو مرضی جس مرضی نام سے شناختی کارڈ بنوا لیتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صرف طورخم بارڈر بند کرنے سے کچھ نہیں ہو گا، کیا پاکستان و افغانستان کے درمیان سے گزرنے والا بلوچستان و ایران کا بارڈر بند کر سکتے ہیں؟ پاک افغان کے درمیان جو اتنی لمبی سرحد ایران تک چلی گئی ہے اور نیچے بلوچستان سے ملتی ہے اسے بند نہیں کر سکتے کیونکہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم باجوہ نے ایک بریفنگ کے دوران نقشوں کی مدد سے ایک جھلک دکھائی تھی کہ وزیرستان کا بارڈر اتنا خطرناک ہے، وہاں کچھ دیہات کے وسط میں سے لائن گزر رہی ہے کہ ادھر افغانستان اور ادھر پاکستان ہے۔ وہاں ایسے گھر موجود ہیں جو آدھے پاکستان تو آدھے افغانستان میں آتےے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاک فوج نے وزیرستان میں فوج کشی کی تھی تو اس سے پہلے ہی مولوی فضل اللہ سمیت تمام بڑے لیڈر ساتھیوں سمیت افغانستان بھاگ گئے تھے، وہاں دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سرکاری مشینری نچلی سطح تک مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ یہاں کرپشن کا لیول یہ ہے کہ حیدرآباد میں ایک پٹواری کے گھر سے کروڑوں روپے برآمد ہوتے ہیں اور وہ کہتا ہے کہ یہ کم ہیں، پولیس کے ایک کلرک کے گھر پر چھاپہ مارتے ہیں، جب وہاں چھاپہ مارا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی ایک ارب سے زائد کی جائیداد ہے۔ تجزیہ کار نے کہا کہ پی آئی اے کے ایک ایڈوائزر پر الزام لگا کہ انہوں نے ایک طیارہ فلم کی شوٹنگ کیلئے دے دیا جبکہ ایک انتہائی سستے داموں فروخت کر دیا ہے اب وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے کیوں الزام دیتے ہو یہ تو میرے آنے سے پہلے طے ہو چکا تھا۔ ایک انکشاف ہے کہ لندن کیلئے خصوصی فلائٹ چلائی گئی تھی۔ جس پر بڑے اخراجات بھی آتے تھے۔ اس وقت کے پی آئی اے کے چیف اعظم سہگل نے مجھے فون پر بتایا کہ یہ پاکستان کا بہت بڑا قدم ہے، پی آئی اے کو ایک دفعہ زندہ کر دیں گے جبکہ آج کہا جا رہا ہے کہ اتنے ارب کا نقصان ہو گیا ہے۔ ملک میں جب تک کوئی نظام ہی نہی بنے گا تو پھر ایک مشیر پر ساری غلطیاں تھوپ دینا درست نہیں۔ سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کے معاملہ پر انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ یہ ایک ٹیکنیکل مسئلہ ہے۔ آئی ٹی کی وزیر انوشہ رحمان اور ماہرین کی مدد کے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔ حکومت کی طرف سے اب تک 70 لوگوں کے ملوث ہونے کی تعداد بتائی گئی ہے۔ حکومت و اداروں کے سربراہان کا فرض ہے کہ ان کے نام لیک نہ کریں لیکن ان کے خلاف کئے جانے والے اقدامات پر عوام کو اعتماد میں لیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کو مقرر کرنے سے دہشتگردی ختم نہیں کی جا سکتی۔ جنرل (ر) راحیل شریف بار بار کہتے رہے کہ جب تک سہولت کاروں کو نہیں پکڑا جاتا، دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain