کراچی (خصوصی رپورٹ) افغان فورسز کی جانب سے جمعہ کے روز چمن میں حملے کے بعد بھارتی فوجی ماہرین کی ایک ٹیم تین روزہ دورے پر ہفتہ کے روز دہلی سے کابل پہنچ گئی ہے۔ ٹیم میں سیون کمانڈ اور کور کمانڈ کے 180 ارکان اور ماہرین آرٹلری شامل ہیں۔ خصوصی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آج بھارتی فوجی انٹیلی جنس کے حکام بھی کابل پہنچ رہے ہیں۔ اطلاع ہے کہ تین ہزار افغان فوجیوں کو بھارتی فوج کی سیون کمانڈ تربیت دے رہی ہے۔ خصوصی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بلوچستان کے علاقے چمن میں حملہ کرنے والی افغان فورسز چند روز قبل ہی بھارت سے تربیت لے کر لوٹی ہیں۔ ادھر چمن بارڈر پر بدستور کشیدگی ہے جبکہ سرحد سے 5 کلومیٹر دور لوگوں کے لیے عارضی کیمپ قائم کردیئے گئے ہیں جنہیں سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جبکہ باب دوستی دوسرے روز بھی بند رہا جس کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ پاک فوج نے افغان سرحد پر مورچے سنبھال لیے ہیں اور لوگوں کو سرحدی گاو¿ں خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان نے آئندہ جارحیت کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ افغانستان بھارت کی گود میں بیٹھ کر کارروائیاں کررہا ہے۔
کابل (خصوصی رپورٹ) پاکستان کی طرف سے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی حالیہ کوششوں کو اچانک سبوتاژ کردیا گیا ہے جو پاکستان کے لیے باعث حیرت تھا۔ پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ جو گزشتہ دوپہر کابل میں تھا کو قابل اعتماد ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے جو سفارتی اقدامات شروع کیے گئے تھے انہیں اچانک قندھار کے گورنر نے پاکستان کی مردم شماری کی ٹیم پر حملہ کرکے سبوتاژ کردیا۔ ایک باخبر ذرائع نے بتایا کہ جب 29 اپریل کو پاکستان کی مردم شماری کی ٹیم پاک افغان سرحد پر پہنچی تو افغانستان کی طرف سے اعتراض کیا گیا کہ پاکستانی ٹیم افغان علاقے میں مردم شماری کررہی ہے جس پر ایک فلیگ میٹنگ ہوئی تو جس میں پاکستان کی طرف سے نقشے دکھائے گئے تھے کہ جہاں مردم شماری ہورہی ہے وہ علاقہ پاکستان کا ہے لیکن افغان فوج کے ایک سینئر افسر نے پاکستان کے مو¿قف کو مسترد کردیا۔ ابھی اس معاملے کو سفارتی طور پر حل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی کہ 4 مئی کو افغان فورسز نے حملہ کرکے متعدد افراد کو شہید کردیا جس سے مصالحت کی ساری کوشش تباہ ہوگئی۔ اس سے قبل جب قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کی قیادت میں ایک پارلیمانی وفد نے کابل کا دورہ کیا تو کابل ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کرنے کے لیے افغان حکومت کا ایک ڈپٹی پروٹوکول افسر موجود تھا۔ اس کے برعکس جب افغان پارلیمانی وفد پاکستان تھا تو پاکستان نے اس کو زبردست پروٹوکول دیا اور ان کی آو¿ بھگت کی۔ جب پاکستانی پارلیمانی وفد کابل آیا تو اس کو وہ احترام اور عزت نہیں دی گئی جو افغان وفد کو ملی تھی۔ کابل میں پاکستانی صحافیوں نے افغان صحافیوں سے ملاقات کی تو ان کا بیانیہ بھی پاکستان کیخلاف تھا۔ صحافیوں کی اکثریت افغانستان کے مسائل اور مشکلات کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال رہی ہے۔
