اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)پانامہ لیکس کیلئے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ وزیراعظم کو بلانے کیلئے عملدرآمد بنچ سے منظوری لی جائیگی، تفصیلات کے مطابق وزیراعظم ان کے خاندان پر لگائے گئے الزامات کی انکوائری کیلئے سپریم کورٹ کی طرف سے تشکیل دی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) پر سوں عملدرآمد بنچ کے روبرو دو اہم پوائنٹس اٹھائے گی نمبر ایک وزیراعظم کو ذاتی طور پر کس طر ح بلایا جائے؟ دوسرا وزیراعظم فیملی کے مختلف سٹیک ہولڈرز کیلئے جو سوالنامہ تیار کیاگیا ہے، اس کی عملدرآمد بنچ سے منظوری لی جائیگی، ذرائع نے بتایا کہ ٹیم سوال جواب کیلئے وزیراعظم ہاﺅس نہیں جانا چاہتی کیونکہ اس سے اپوزیشن کے عتاب کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جانبداری کے الزامات لگا سکتے ہیں، دوسری طرف وزیراعظم کو نوٹس جاری کرنے کا بھی ایک آپشن ہے، لیکن ایسا نوٹس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت جاری کیا جاتا ہے، جس کامطلب لیا جائیگا وزیراعظم کو ملزم تصور کیا جارہا ہے،اس صورتحال میں اس آپشن سے بھی گریز کیا جارہا ہے کیونکہ اس سے اپوزیشن کو وزیراعظم پر گولہ باری کا موقع مل سکتا ہے، جے آئی ٹی گزشتہ منگل کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے ملی اس معاملہ پر تبادلہ خیال کیا اور معاملہ کا ایک حل ڈھونڈ بھی نکالا، لیکن ہمارے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم پھر بھی کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچی، اس لیے وہ بنچ سے ہدایت لے گئی، خیال رہے سپریم کورٹب نے ٹیم کو اختیار دے رکھا ہے کہ وہ وزیراعظم ، ان کے بیٹوں، اگر ضرورت پڑے تو وزیرخزانہ اسحاق ڈار ، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز سے سوال کرسکتی ہے، جے آئی ٹی نے قطری شہزادے جاسم بن جابرالثانی سے بھی عدالت میںپیش کیے گئے خطوط کے بارے میں پوچھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اب دیکھنا ہوگا شہزادہ جے آئی ٹی سے تعاون کرتا ہے یا نہیں، پرسوں (22مئی) عدالت ٹیم سے اب تک کی پیش رفت معلوم کرے گی اور یہ بھی پوچھے گی اسے کوئی مشکل نہیں تو پیش نہیں،اس دوران جے آئی ٹی میں شامل نیب کا نمائندہ نیب کے ان تفتیشی افسران سے ملاقاتیں کررہا ہے جنہوں نے شریف فیملی سے 2000ءکی دہائی میں تفتیش کی تھی، یہ وہ زمانہ ہے جب جنرل (ر)مشرف کی حکومتی کی تھی، نیب کا نمائندہ اس وقت کے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) منیر حفیظ سے بھی ملا ہے اور اس وقت کی تمام معلومات لی ہیں، جے آئی ٹی کی تفتیش اور رویہ کا اندازہ سپریم کورٹ سے ملنے والی ہدایات کی روشنی سے ہی لگایا جاسکے گا۔






































