Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • کراچی میں آوارہ کتوں نے 24سالہ نوجوان کی جان لے لی،ہلاکتوں کی تعداد 18 ہوگئی
    • پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، الیکشن کمیشن
    • مصباح ارشد مس یونیورس پاکستان منتخب ؕ،عالمی مقابلے میں نمائندگی کرینگی
    • چین: رئیل اسٹیٹ کمپنی کے ارب پتی مالک کو عمر قید اور ایک ارب ڈالرز سے زائد جرمانہ
    • ہیڈنگلے ٹیسٹ: روبنسن اور ٹنگ نے گیند کے دو ٹکڑے کرکے آپس میں بانٹ لیے
    • امریکی اقتصادی دہشتگردی عالمی معیشت کیلئے خطرہ ہے، عباس عراقچی
    • امریکا میں امیگریشن قوانین سخت، گرین کارڈ اور اسٹوڈنٹ ویزا کے ساتھ میڈیا ویزا بھی نئی پابندیوں کی زد میں
    • ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں 3-5 سے شکست، ایونٹ سے باہر
    • انگلینڈ، پاک لنکا ون ڈے ٹرائی سیریز میں شرکت کیلئے تیار
    • برازیل کے فٹبال آئیکن رابرٹو کارلوس کے اسلام قبول کرنے کی اطلاعات
    • پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی 24 ستمبر تک بڑھا دی
    • علاقائی کشیدگی میںا ضافہ ، یواے ای نے ایران سے اقتصادی تعلقات محدود کر دیے
    • راولپنڈی میں مسلسل بارش کےباعث نالہ لئی بپھرگیا،نشیبی علاقوں میں پانی جمع
    • عمران خان کی ہسپتال منتقلی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کیلئے وارننگ ہے:حامد میر
    • چین کی بڑی خلائی کامیابی، زمین پر راکٹ کی پہلی کامیاب واپسی
    • یو اے ای میں 2 میزائلوں کی موجودگی کا انکشاف، ایران کا حملے سے انکار
    • کینیڈا کو بڑاریلیف، ٹرمپ نے 50 فیصد ٹیرف 3 دن کے لیے مؤخر کردیا
    • قنیطرہ میں اسرائیلی فورسز کا گھروں پر دھاوا، 2 افراد گرفتار
    • سینیٹر عابد شیر علی دوسری بار رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔
    • سینیٹر عابد شیر علی دوسری بار رشتہ ازدواج میں بندھ گئے
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    رپورٹر کی ڈائری – مہران اجمل خان

    By Khabrain Newsدسمبر 15, 2025
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    رپورٹر کی ڈائری
    مہران اجمل خان

    پنجاب اس وقت پولیو کے خلاف ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ 2025 کی پانچویں اور آخری قومی انسداد پولیو مہم 15 دسمبر سے شروع ہو رہی ہے جس کا مقصد صوبے بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے 17 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔ یہ ایک وسیع، حساس اور اہم مہم ہے جس میں 2 لاکھ سے زیادہ پولیو ورکرز، سپروائزرز، ایریا انچارجز اور ٹرانزٹ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ان کی کوششیں نہ صرف ایک مہم، بلکہ ایک ایسی جنگ کی مانند ہیں جس کا مقصد پاکستان کی آئندہ نسلوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنا ہے۔
    پنجاب ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) کے مطابق اگرچہ 2025 کے دوران پنجاب میں صرف ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا لیکن وائرس کی ماحولیاتی نگرانی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ وائرس کی مثبتیت جون میں 43 فیصد تھی جو اگست تک کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی لیکن یہ شرح 2023 کی صرف 2 فیصد مثبتیت کے مقابلے میں اب بھی تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ 2025 میں سامنے آنے والے مثبت نمونوں میں سے 78.72 فیصد جینیاتی طور پر صوبے کے اندرونی ذرائع سے جڑے ہوئے تھے، یعنی وائرس کا پھیلاؤ بیرونی درآمد کے بجائے اب اندرونی سطح پر زیادہ ہو رہا ہے، جس کے مرکز میں لاہور نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ پنجاب کے 16 اضلاع اس وقت بھی وائرس کے خطرے سے دوچار ہیں، جن میں لاہور، راولپنڈی، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور جنوبی پنجاب کے اہم شہر شامل ہیں۔
    یہ صورتحال صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ آنے والے وقت کا ایک سخت انتباہ ہے کہ وائرس اب نئی قوت کے ساتھ گردش کر رہا ہے اور اس کے خلاف زیادہ سخت اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ میں نے بطور ہیلتھ رپورٹر شہر لاہور میں فیلڈ کا دورہ کیا تاکہ اس مہم کے عملی پہلو، والدین کے رویّے، علما کا کردار اور ورکرز کے چیلنجز کو براہ راست دیکھا جا سکے۔
    فیلڈ میں کیے گئے سروے میں 71 والدین سے بات کی گئی جن میں سے 64 والدین نے پولیو ٹیموں کو خوش آمدید کہنے اور بچوں کو ویکسین پلوانے میں مکمل تعاون کا اظہار کیا۔ پانچ والدین نے کچھ ہچکچاہٹ کا اظہار کیا جبکہ دو نے غلط معلومات یا عدم موجودگی کی وجہ سے انکار کیا۔ زیادہ تر والدین نے بتایا کہ اب انہیں پولیو کے قطرے محفوظ محسوس ہوتے ہیں کیونکہ انہیں بار بار مہم کا مقصد سمجھایا گیا ہے۔ ایک والد نے کہا، “میرے بچے کی صحت میری ذمہ داری ہے، اگر بار بار قطرے پلانے سے یہ بیماری رکتی ہے تو یہ ہمارے لیے بہتر ہے۔” ایک خاتون نے بتایا کہ پہلے وہ سنی سنائی باتوں سے خوفزدہ تھیں مگر اب انہیں اعتماد ہے کہ پولیو ویکسین ان کے بچوں کے لیے محفوظ اور ضروری ہے۔
    پولیو ورکرز کے لیے سب سے بڑا چیلنج غلط معلومات اور سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی افواہیں ہیں، جن کی وجہ سے چند گھرانے اب بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ ایک سپروائزر نے بتایا کہ جب والدین کو صحیح معلومات دی جائیں تو ان کا خوف دور ہو جاتا ہے، لیکن بعض اوقات غلط پروپیگنڈے کی وجہ سے ٹیموں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود ورکرز اپنی ذمہ داری پوری محنت اور حوصلے کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔
    پولیو کے خاتمے کے لیے علما کرام کا کردار انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ علما کا کہنا ہے کہ “اسلام میں انسانی جان کا تحفظ بنیادی حکم ہے۔ اگر ویکسین بچوں کو معذوری سے بچاتی ہے تو اس کا استعمال ایک دینی فریضہ ہے۔” انہوں نے والدین پر زور دیا کہ پولیو ورکرز کی حوصلہ افزائی کریں اور بچوں کو لازمی قطرے پلائیں کیونکہ یہ نہ صرف ان کے اپنے گھر بلکہ پوری قوم کے مستقبل کا سوال ہے۔
    پنجاب حکومت نے پولیو کے خطرے کو روکنے کے لیے ٹرانزٹ پوائنٹس پر خصوصی اقدامات کیے ہیں جہاں صوبے میں داخل ہونے والی ہائی رسک موبائل آبادی کو قطرے پلائے جاتے ہیں۔ راوی پل، موٹروے انٹرچینجز، ریلوے اسٹیشنوں اور بس ٹرمینلز پر قائم ان مراکز پر روزانہ ہزاروں بچوں کو ویکسین دی جاتی ہے۔ ایک ٹرانزٹ ورکر نے بتایا، “لوگ جلدی میں ہوتے ہیں مگر پھر بھی زیادہ تر والدین رک کر بچوں کو قطرے پلواتے ہیں۔”
    مواصلاتی حکمت عملی میں بھی اب زیادہ سائنسی اور شواہد پر مبنی طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب ای او سی نے ڈیجیٹل میڈیا، کمیونٹی انگیجمنٹ، علما سے رابطہ، والدین کی رہنمائی اور موبائل آبادیوں کی پروفائلنگ پر خصوصی توجہ دی ہے تاکہ کوئی بھی بچہ قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ پنجاب میں روٹین امیونائزیشن اور پولیو مہمات کی کوریج بھی مضبوط ہے جس کی وجہ سے شدید پولیو کیسز کی تعداد کم رہی ہے، لیکن وائرس کی مسلسل گردش اس بات کی یاددہانی ہے کہ ایک بھی بچہ پیچھے رہ گیا تو یہ بیماری دوبارہ زور پکڑ سکتی ہے۔
    اس فیلڈ تحقیق کے دوران ایک بات واضح ہوئی کہ پولیو کے خلاف یہ جدوجہد صرف حکومتی مہم نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ والدین کا اعتماد بڑھ رہا ہے، علما مثبت پیغام دے رہے ہیں، پولیو ورکرز دن رات محنت کر رہے ہیں اور حکومت بہتر نگرانی اور حکمت عملی کے ذریعے وائرس کی رفتار روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن وائرس کی بدلتی ہوئی شکل اور اندرونی ٹرانسمیشن کے بڑھتے رجحان کو دیکھتے ہوئے ہمیں کہیں زیادہ احتیاط، یکجہتی اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔
    پاکستان نے 2026 کو پولیو کے خاتمے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ ہدف مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں بشرطیکہ ہم سب اپنا کردار ادا کریں۔ جب پولیو ٹیم آپ کے دروازے پر آئے تو دروازہ اس نیت سے کھولیں کہ آپ اپنے بچے کی صحت کے محافظ ہیں۔ کیونکہ پولیو کے قطرے صرف ویکسین نہیں، آنے والی نسلوں کی ضمانت ہیں۔ اگر ہم نے آج یہ جنگ جیت لی تو کل پاکستان ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھے گا جہاں پولیو، صرف تاریخ کی کتابوں میں رہ جائے گا۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.