لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ نوازشریف کی نظرثانی اپیل پر جو کچھ ہوا اس کا پہلے سے اندازہ تھا۔ عدالت کے مسترد کرنے کے بعد اب دیکھتے ہیں کہ ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سعد رفیق نے جس ردعمل کا اظہار کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ براہ راست جنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ نون لیگ میں اکثریت ایسے ہارس کی ہے۔ ایک خواجہ آصف ہیں وہ اب زیادہ ملک سے باہر ہی رہیں گے، وزیرخارجہ ویسے بھی زیادہ باہر ہی رہتے ہیں لیکن ان کو گھومنے پھرنے کا شوق بھی بہت ہے۔ ملک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، لگتا ہے کہ اب کوئی حملہ ہو گا یا کوئی ٹوٹ پھوٹ ہو گی مجھے سول حکومت چلتی نظر نہیں آ رہی۔ جوشیلے وزیر نے کہا کہ ہمیں بھی تحفظ کرنا آتا ہے ہم دیکھ لیں گے۔ کیا یہ مارپیٹ کریں گے اگر ایسا ہو گا تو پھر وردی والے ہی چھڑانے آئیں گے جو سب سے پہلے سسٹم کو اٹھا کر ایک طرف رکھیں گے۔ موجودہ حکومت نے اگر کوئی غلط رویہ اختیار کیا تو یہ چلتی دکھائی نہیں دیتی۔ عدلیہ کے خلاف بیان دینے والے پر توہین عدالت لگنی چاہئے اگر سپریم کورٹ نے ایسا نہیں کیا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ خود یہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نجم سیٹھی بہت تبدیل ہو گئے ہیں، وہ جب سے نوازشریف کے یا وہ ان کے کیمپ میں آئے ہیں، دونوں پر ایک دوسرے کا رنگ چڑھا ہے۔ نجم سیٹھی اب دانشور یا اخبار نویس نہیں ہیں بلکہ حکومت و اقتدار کا حصہ ہیں۔ جہاں لوٹ بار بھی ہوتی ہے۔ پی سی بی قومی ادارہ ہے، نجم سیٹھی کا خاندانی نہیں۔ حکومت وقت نے رعایت کرتے ہوئے سابق نگران وزیراعلیٰ کو کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنا دیا۔ معلوم نہیں کہ نوازشریف کو ایسے مشورے کون دیتا ہے۔ عمران خان نے پہلے ہی ان پر 35 پنکچر کا الزام لگایا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر آدمی کو اطلاعات کے ذرائع تک پہنچنے کا یکساں حق حاصل ہے۔ نجم سیٹھی کسی کو بھی اطلاعات کے ذرائع تک پہنچنے سے نہیں روک سکتے۔ یہ قومی ادارہ ہے۔ نجم سیٹھی کی جاگیر نہیں ہے جو کسی تقریب کی کوریج کے لئے نیلامی کرتے ہیں۔ اخبارات میں ٹینڈر دیتے تو میں خود عدالت میں جاتا کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ قومی تقریب کو نیلام کرے۔ ان کا حشر بھی ان کو بنانے والے نوازشریف جیسا ہی ہو گا۔ میڈیا کے لئے پورا ملک اوپن ہے۔ یہ کسی بھی جگہ جا کر کوریج کر سکتا ہے۔ پی سی بی قومی ادارہ جو گرانٹ اور عوام کے تعاون سے چلتا ہے اس کو مخصوص کر کے نیلامی کی گئی۔ ابھی یہ ایک مسئلہ ہے۔ دوائیں ہونے کے بعد باقی بہت سی چیزیں سامنے آئیں گی۔ نجم سیٹھی جس اخبار یا ٹی وی سے منسلک تھے اس بارے بہت کچھ جانتا ہوں۔ ایسے ادارے بھی ہیں کہ جہاں کوئی ملازم ہو جائے تو وہ وزیر بھی بن جاتا ہے۔ ذاتی معلومات ہیں کہ اس ادارے سے جو وزیر بنے یا مختلف بڑے عہدوں پر گئے ان سے کہا گیا کہ ہمارا خیال رکھئے گا۔ ادارہ سے جانے کے باوجود ان کی تنخواہ و مراعات ختم نہیں ہوتیں۔ نجم سیٹھی کو بھی تمام سہولیات مل رہی ہوں گی لہٰذا وہ بھی اس کا خیال رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں خود الیکشن کمیشن پر بہت سارے الزامات کو درست سمجھتا ہوں، یہ حکومت کا بغل بچہ ہے۔ اس کی موجودگی میں کبھی آنے والے الیکشن شفاف نہیں ہو سکتے۔ اس کی ساخت ہی یہ ہے کہ چار حکومتوں کے منتخب ارکان ہیں۔ 2013ءکے انتخابات میں جب فحر الدین جی ابراہیم آئے تو کراچی میں بڑی واہ واہ ہوئی۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے پہلا حکم یہ دیا کہ اتنی صحت نہیں ہے کہ بار بار اسلام آباد جا سکوں لہٰذا ایک دفتر کراچی میں ہی بنا دیں۔ اپنے سٹاف کو کہتے تھے کہ ضروری کاغذات پر دستخط کر جاﺅں گا باقی ضروری فیصلے خود کر لیا کریں میں وہاں بیٹھ کر اولے کر دوں گا۔ اس قسم کے لولے لنگڑے چیف الیکشن کمشنر کے ماتحت ہونے والے انتخابات کو جیتنے والی پارٹی کے علاوہ کسی نے نہیں مانا۔ پیپلزپارٹی نے کہا کہ یہ آر او کے الیکشن ہیں جبکہ عمران خان نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ آج تک اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ ماہر قانون احسن بھون نے کہا ہے کہ نون لیگ کے پاس نطرثانی اپیل مسترد ہونے کے بعد عدالتوں کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ سپریم کورٹ اب تفصیلی فیصلہ دے گی۔ عدالت کا مذاق اڑایا گیا، ججز ہمیشہ احتیاط برتتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج و عدلیہ کے خلاف بات کرنے پر 5 سال پابندی لگ سکتی ہے لیکن نون لیگ کے معاملات کافی سنگین ہیں، تاحیات پابندی والا معاملہ ہی لگتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواجہ سعد رفیق کے بیان سے لگتا ہے کہ وہی عمل دوبارہ دہرایا جانے والا ہے جو 1997-98ءمیں ہوا تھا۔ سعد رفیق کہتے رہے ہیں کہ لوہے کے دانت ہیں۔ عدالت نے نوٹس لے لیا تو ان کے ہوش بھی ٹھکانے آ جائیں گے۔ انہوں نے ززید کہا کہ نون لیگ واحد جماعت ہے جب بھی ان کے خلاف فیصلہ آیا یہ بدلہ لینے پر اُتر آتے ہیں۔




































