تحریک لبیک یا رسواللہ کے رہنماوں پر “خاص“ نوازشیں‘ پھر بڑی خوشخبری مل گئی

لاہور (خصوصی رپورٹ)محکمہ داخلہ پنجاب نے تحریک لبیک کے رہنماﺅں کے نام فورتھ شیڈول سے نکالنے کافیصلہ کیا ہےجس کی لسٹ بھی مرتب کرنا شروع کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے فیصلہ کیا ہے ان تمام افراد کی سرویلنس کی جائے گی لیکن فورتھ شیڈول میں دوسرے افراد کی طرح پولیس ان کے کسی کام میں مداخلت نہیں کرے گی اور نہ ہی ان کی روک ٹوک کی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ خادم رضوی اور آصف جلالی سمیت تحریک لبیک کے 30اہم رہنماﺅں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کئے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق تحریک لبیک کے رہنماﺅں کی محکمہ داخلہ کے سینئر افسران کے درمیان ملاقات اگلے دو روز میں ہوگی جس میں معاملات طے کر لئے جائیں گے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے حکم پر دھرنے کے دوران گرفتار ہونے والے تحریک لبیک کے 1500سے زائد کارکنوں کو رہا کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے فورتھ شیڈول میں دیئےگئے ضوابط کی پابندی نہ کرنا کافی مہنگا پڑ رہاہے اور پابندی کاشکار افراد کیلئے اس طرح کی لاپرواہی کسی بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ فیض آباد میں دارالحکومت کے شہریوں اور حکمرانوں کی زندگی مشکل بنانے کےفوری بعد علامہ خادم حسین رضوی نےجنوری میں لاہور-اسلام آباد مارچ کرنے کا اعلان کردیاہے۔ جبکہ اشرف آصف جلالی نے کم وبیش دوسو افراد کے ساتھ صوبائی دارالحکومت کی ایک مصروف ترین شاہراہ کو بند کیا۔ دونوں کےنام فورتھ شیڈول میں شامل ہیں۔ ان دونوں کے ساتھ فورتھ شیڈول کی فہرست میں دیگر مذہبی علما علمائے تنظیمِ اہلِ سنت کےپیرافضل قادری، تحریک لبیکِ پاکستان کے پیر اشرف جلالی، سپائےصحابہ کے اورنگزیب فاروقی، ساہیوال کے پیر نصیر رضا صفدر، سیالکوٹ کے پیر سخاوت علی، گوجرانوالہ کے صابرعلوی، علامہ ساجد فاروقی وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ وہ افراد جنھیں پہلے اس فہرست میں شامل کیاگیا وہ بھی اس سے مستثنی نظرآتے ہیں، مزید افراد کو بھی روزانہ اس میں شامل کیاجاتاہے۔ نیشنل کاﺅنٹر ٹیررازم اتھارٹی(نیکٹا) پاس دستیاب ڈیٹا کے مطابق چاروں صوبوں کی وزارت داخلہ نے10اکتوبر2017 تک مختلف وجوہات کی بناپر کم از کم 8633افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا۔ مختلف فرقہ ورانہ گروہوں سے تعلق رکھنے والے 1500افراد کو فورتھ شیڈول کی فہرست میں شامل کیاگیا۔ 1500 میں سے 350افراد کا تعلق شعیہ مکتب فکرسےہے۔ فورتھ شیڈول کی فہرست میں ایسے افراد شامل کیے جاتے ہیں، جن پراینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997کے تحت دہشت گردی یا فرقہ ورانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہوتاہے۔ قابلِ اعتماد انٹلیجنس معلومات کے مطابق جن افراد کے نام کسی صوبے کی وزارت داخلہ کی جانب سے فورتھ شیڈول میں شامل کیےجاتے ہیں ان پرسفرکرنے، تقریر کرنے اور کاروبار کرنے کی پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔ فورتھ شیڈول کے طور پران افراد کے نام مقامی تھانوں یا قانون نافذ کرنےوالی ایجنسیوں کو بھی دیئےجاسکتےہیں۔ کسی بھی ایسے شخص کا نام جس کاکبھی کالعدم تنظیم سے تعلق رہاہو، اس کا نام فورتھ شڈول کے لیے تجویز کیاجاسکتاہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہےکہ عام طور پر فورتھ شیڈول میں کوئی بھی نام تین سال کیلئے شامل کیاجاتاہے۔ تین سال مکمل ہونے پر اس عرصے میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ وزارت داخلہ فورتھ شیڈول میں شامل شخص کے بینک اکاﺅنٹس منجمد کرتی ہے۔ حکومت ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کرتی ہے۔ مزیدبرآں فورتھ شیڈول میں شامل شخص کو متعلقہ ایس ایچ او کی اجازت کے بغیر اپنی جگہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تاہم فورتھ شیڈول میں شامل افراد الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔ 2014 میں مسرور احمد جھنگوی کانام فورتھ شیڈول میں شامل کیاگیا۔ 2016 میں مسرور نے جھنگ سے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا۔ انھوں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انھیں انتخابات لڑنےکیلئے اہل قراردیاتھا۔ لہذا دھرنے سے قبل حکومت کے پاس ڈاکٹرجلالی کی نگرانی کرنے اور ان کے ارادے کو جاننے کا اختیار تھا۔ ساﺅتھ ایشیاپارٹنرشپ پاکستان (ایس اےپی-پی کے) کےایگزیکٹوی ڈائریکٹر محمد تحسین کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ ان کے پاس اس تباہی کو روکنےکاکوئی اختیار یا کوئی قانونی جواز نہیں تھا، ان کے پاس جرات اور حوصلے کی کمی تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ اسلام آباد روانگی سے قبل خادم حسین رضوی کے ارادے معلوم نہیں تھے۔ انھوں نے اس بارے میں ایک پریس کانفرنس کی تھی کہ وہ کیا اعلان کرنے والے ہیں اور کیا منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ لیکن حکومت نے انھیں نہیں روکا۔ سابق سیکریٹری داخلہ تحسین نورانی نے بتایا، فورتھ شیڈول کے تحت پابندی کا شکار افراد کیلئے قانون میں کچھ غلط یا کمی نہیں ہے۔ ملا فضل اللہ اس وقت ایک معمولی عالم تھا جب اس کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیاگیا۔ بدقسمتی سےاس مرحلے پرحکومت نے فورتھ شیڈول کے ضوابظ پر کبھی عمل ہی نہیں کیا اور وہ ریاست کیلئے ایک عذاب بن گیا۔ سابق سیکریٹری داخلہ اور ساﺅتھ ایشیا پارٹنرشپ پاکستان کے ایگزیکٹوڈائریکٹر محمد تحسین دونوں کا خیال ہے کہ لاہور اور اسلام آباد کے دھرنوں کو روکا جاسکتاتھا، اگر فورتھ شیڈول کےپروٹوکالز کی مکمل پابندی کی جاتی۔ ترجمان سی ٹی ڈی نے بتایا کہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نگرانی کیلئے مناسب اقدامات کیے جارہے ہیں ان میں جسمانی اور ٹیکنیکل نگرانی شامل ہے۔ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانےکیلئے فورتھ شیڈول میں شامل افراد کو زرِ ضمانت جمع کراناہوگا۔ ڈپٹی انسپکٹرجنرل آپریشنز پنجاب پولیس عامرذوالفقار نے بتایاکہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد متعلقہ تھانوں میں زرِ ضمانت جمع کرانے کے پابند ہیں۔ انھوں نے کہاکہ اگر فورتھ شیڈول میں شامل کوئی شخص کوئی غیرقانونی کام کرتاہے تواسے اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت گرفتارکیاجاتاہے۔ مزید برآں فورتھ شیڈول میں شامل افرادکواپنی جگہ چھوڑنے اور واپسی سے پہلے متعلقہ پولیس اسٹیشنز میں اطلاع دینی پڑتی ہے۔ پنجاب حکومت کے ترجمان ملک محمد احمد خان سے جب اس بارے میں پوچھاگیاکہ فورتھ شیڈول میں شامل ہونے کے باوجود یہ افراد غیرقانونی کاموں کے واضح ارادےکےساتھ آزادانہ نقل وحرکت کیسےکرتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ حکومت صوبائی سطح سے ڈسٹرکٹ تک اس معاملے کو مسلسل دیکھ رہی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ وزارت داخلہ اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر انٹلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں کہ کسی بھی شخص کا نام فورتھ شیڈول میں نگرانی کے لیے شامل ہونا چاہیئے یا خارج ہوناچاہیئے۔ پنجاب حکومت نیشنل ایکشن پلان میں شامل ضوابط کی سختی سے پابندی کررہی ہے اور کسی بھی ریاست مخالف عنصر کو آزادانہ کام کرنے یا قانون کا مذاق اڑانے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

 

اُمراءکے کُتوں کیلئے امپورٹن خوراکیں دوسری طرف تھر میں بچوں کی ہلاکتیں 43 ہو گئیں ‘

اسلام کوٹ (خصوصی رپورٹ)تھرپارکر میں غذائی قلت و بیماریوں کے باعث ایک روز میں 6شیرخواربچے دم توڑ گئے ،دسمبر کے مہینے میں 43 ہلاک ہوئے،رواں سال کے دوران جاں بحق ہونیوالے بچوں کی تعداد 516 ہوچکی ہے۔تفصیلات کے مطابق صحرائے تھرپارکر میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 6بچے دم توڑ گئے ہیں۔ سول اسپتال مٹھی میں زیرِعلاج چیلہار کا رھائشی 12 ماھ کا ثنااللہ، 16 روزہ ھریش گوتم، کلوئی کے گاوں جمعون خاصخیلی کے حسن علی کا پانچ روزہ بچے سمیت تین نومولود بچے شامل ہیں۔تمام بچوں کو تھر کے دیھی علاقوں سے تشویش ناک حالت میں مٹھی ھسپتال لایا گیا تھا۔ دریں اثنا صحرائے تھر میں سردیوں کی آمد سے غذائی قلت کے شکار بچوں کی اموات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ والدین کے مطابق کمزور بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔جن کو اسپتال لایا جاتا ہے تو وہاں معیاری ادویات اور بہتر علاج کی سہولیات میسر نہیں چنانچہ بچوں کی اموات بڑھتی جا رہی ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور اقدامات نہیں کئے گئے تو سردیوں میں بچوں کی اموات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

65ارکان اسمبلی پرواز کیلئے تیار

ڈی جی خان (نیا اخبار رپورٹ) صدر علما مشائخ اتحاد پاکستان اور سجادہ نشین دربار عالیہ سلیمانیہ تونسہ خواجہ عطا اﷲ تو نسوی نے کہا ہے حکومت ختم نبوت معاملے پر ہوش کے ناخن لے، ہم انتشار نہیں پھیلانا چاہئے، حکومت رانا ثنا اﷲ سمیت تمام ذمہ داراں کو بے نقاب کر کے ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے، ختم نبوت کے حلف نامہ میں ترمیم کرنیوالے مجرموں کو بے نقاب کرنے کیلئے حکومت کو چند دن کی مہلت دیتے ہیں، ایسا نہ ہوا تو کشمیر سے کراچی تک پہیہ جام کر دینگے عالیہ سلیمانیہ تونسہ میں سجادہ نشین حضرت خواجہ عطا اﷲ تو نسوی کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس ہوا جس میں ملک بھر سے درجنوں سجادہ نشینوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ابھی پیر حمید الدین سیالوی نے صرف رانا ثنا اﷲ کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ابھی ہم میں سے کسی اور سجادہ نشین نے باقاعدہ استعفے نہیں مانگے، اگر ہم سب سے استعفے مانگے تو 65 سے زائد استعفے تیار ہیں۔ ختم نبوت کے ذمہ داران کا تعین کرنے کے لئے حکومت کو وقت دیتے ہیں۔ حکومت کو درگاہوں اور گدی نشینوں کی سکیورٹی سے کوئی مطلب ہے نہ ہی درگاہوں اور گدی نشینوں کی سکیورٹی سے کوئی مطلب ہے نہ ہی درگاہوں کے کروڑوں عقیدت مند حکومت کو نظر آرہے ہیں۔ حکومت حساس معاملے کی اہمیت کا ادارک نہیں کر پا رہی، اگر پاکستان کے گدی نشینوں نے کال دی تو آزاد کشمیر سے کراچی تک پہیہ جام ہو گا۔ کم عقل مشیروں کی وجہ ملک میں انتشار پھیلنے کا خطرہ ہے جس کی ذمہ دار حکومت خود ہو گی۔ پیر حمیدالدین سیالوی نے کہا رانا ثنا اﷲ کے استعفی سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، وہ دوبارہ کلمہ پڑھ کر اﷲ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے واضح کہا ہے کہ رانا ثنا اﷲ کو مستفی ہونا پڑے گا۔ اس موقع پر گدی نشین گڑھی شریف پیر محمد اکرم شاہ، گدی نشین سیال شریف پیر حمید الدین سیالوی، گدی نشین چور اشریف سید سعادت شاہ، گدی نشین مہرا شریف فاروق احمد، گدی نشین بسال شریف پیر قیصر، گدی نشین پیر کرماں والا، پیر شوکت، سید لیاقت علی، پیر صابر شاہ، پیر فیاض شاہ، سید مرید کا ظلم سمیت پچیس درباروں کے گدی نشینوں نے خواجہ عطا اﷲ تو نسوی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

ٹی وی چینل پر اہل بیت کی شان میں گُستاخی‘ عوام سراپا احتجاج

لاہور (نیا اخبار رپورٹ) اہل بیت کے بارے میں ایک صحافی کے توہین آمیز ریمارکس پر احتجاج پھوٹ پڑا، جموں اور کشمیر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور صحافی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیاجارہا ہے۔ بھارتی ٹی وی صحافی روہت سردانہ کے بیان پر پریس کلب جموں کے باہر احتجاج کیاگیا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس احتجاج کا اہتمام شیعہ فیڈریشن، مسلم کو آرڈی نیشن کمیٹی، انجمن حسین بٹھنڈی، گوجر اصلاحی کمیٹی، گوجر بکروال اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن ، شیعہ اسٹوڈنٹس یونین جموں ، جموں کشمیر یوتھ دیش اور لداخ اسٹوڈنٹس نے کیا تھا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مسلم ایکشن کمیٹی جموں کے صدر محمد شریف سرتاج نے سرکار کو وارننگ دیتے ہوئے کہا اگر سرکار نے حضور اکرم کی اہلیہ اور لخت جگر کے گستاخ کے خلاف ایک ہفتے کے اندر اندر قانونی کارروائی نہ کی تو ہم بڑے پیمانے پر احتجاج پر مجبور ہوجائیں گے۔ اس موقع پر شیعہ فیڈریشن کے صدر عاشق حسین خان نے کہا کہ یہ آزادی اظہار رائے کا ناجائز استعمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اسلام کی برگزیدہ شخصیات سے متعلق توہین آمیز بیان کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔

سعودی عرب میں 7 ہزارشہزادے بیمار شا سلمان کے اقدامات سے حکومتی استحکام کو خطرہ

ریاض (نیا اخبار رپورٹ)جو لوگ سعودی عرب کو جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بھی یہ قین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہاںکتنے شہزادے ہیں۔سعودی عرب کے معاملات پر نظر رکھنے والے احمد ذکی نے بتایا کہ ‘تعداد پر اختلاف ہے۔ لیکن یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ شہزادوں کی تعداد تقریباً سات ہزار ہے اور جہاں تک شہزادیوں کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں اور بھی کم معلومات ہیں۔’احمد ذکی کا کہنا ہے کہ ‘دنیا میں کہیں بھی اتنے زیادہ شہزادے نہیں ہیں۔’یہ سب سعودی عرب کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور سنہ 1932 میں سعودی سلطنت قائم کرنے والے عبدالعزیز بن سعود کی اولاد ہیں۔عبدالعزیز کی وفات کے وقت تک سعودی عرب خلیج سے بحر احمر تک اور عراق سے یمن تک پھیل چکا تھا۔احمد ذکی نے سعودی عرب پر تحقیق کر رکھی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ‘آل سعود پیدا ہوتے ہی شہزادہ کہلاتا ہے اور اسے تخت حاصل کرنے کا حق ہوتا ہے۔’عبدالعزیز بن سعود نے مختلف قبائل میں متعدد شادیاں کی تھیں اور ان سے کئی درجن اولاد ہوئیں۔واضح طور پر یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ ان کی کتنی بیویاں تھیں لیکن یہ کہا گیا ہے کہ عبدالعزیز بن سعود نے 20 سے زائد خواتین سے شادی کی تھی۔شاہی خاندان میں پیدا ہونے والے بچے کو پیدائش سے ہی بہت سارے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔لندن سکول آف ا?نام?س میں خلیجی ممالک کی پالیسیوں پر تحقیق کرنے والے کرٹنی فریر کہتے ہیں: ‘شہزادوں کی اس لمبی چوڑی فوج کا سب سے بڑا اثر سعودی عرب کے اقتدار پر ہوتا ہے۔ ہر کسی کو کچھ نہ کچھ اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور ساتھ ہی کچھ ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔’پہلے افشا ہونے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ سنہ 1990 کی دہائی میں شاہی خاندان کے ارکان کا سالانہ خرچ تقریباً دو ارب ڈالر تھا۔سنہ 1996 میں روئٹرز میں شائع ایک مضمون میں یہ کہا گیا تھا کہ ‘آل سعود کی نسل میں جو سب سے کم درجے پر ہیں انھیں بھی ہر ماہ رقم ملتی ہے۔‘احمد ذکی کے مطابق: ’ابھی کی بات کریں تو وہ شہزادے جو براہ راست عبدالعزیز بن سعود کے بیٹے اور بھتیجے ہیں یا پوتے ہیں انھیں بھی ہر ماہ دس ہزار ڈالر دیے جاتے ہیں۔‘ذکی کہتے ہیں: ‘اگر یہ شہزادے ابن سعود کی اولاد میں پہلی نسل میں آتے ہیں تو انھیں رقم دینے کا طریقہ مختلف ہے۔ انھیں تیل کے بیرل دیے جاتے ہیں جنھیں فروخت کر کے وہ رقم حاصل کرتے ہیں۔’اہم بات یہ ہے کہ ہزاروں شہزادوں کے باوجود سعودی عرب سیاست میں بہت ہنگامہ نہیں ہے۔ ان میں سے بہت سے شہزادوں کی خواہشوں کو مختلف اداروں میں اہم منصب دے کر پورا کر دیا جاتا ہے۔’گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران وزارت داخلہ، دفاع اور خزانہ پر آل سعود کے اہم شہزادوں کی عمل داری رہی ہے۔ اس کے علاوہ فوج کے مختلف شعبوں اور نیشنل گارڈز جیسے اداروں کی ذمہ داری بھی کسی شہزادے کو ہی دی گئی ہے۔اختیار کی اس تقسیم سے حکومت میں استحکام برقرار رکھا گیا ہے۔کرٹنی فریر کہتے ہیں: ‘اس سے فیصلہ سازی اور نفاذ کے عمل میں وقت لگتا ہے کیونکہ اس عمل میں شاہی خاندان کے کئی لوگ شامل ہوتے ہیں۔’٭ سعودی عرب: کرپشن کےخلاف کریک ڈاو¿ن یا دشمنیاںاتنے بڑے شاہی خاندان کی موجودگی کے سبب حکومت کے کام کاج میں دقت بھی آ سکتی ہے۔فریر کہتے کہ اتنے زیادہ جانشینوں کی موجودگی میں کئی شہزادے تخت کے خواہش مند بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں موجودہ بادشاہ اور حکومت کے استحکام کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ابھی سلمان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے بادشاہ ہیں جبکہ ان کے اکثر بھائی وفات پا چکے ہیں۔سنہ 2015 میں سلمان نے اپنے بھتیجے محمد نائف کو ولی عہد مقرر کیا تھا۔اس تقرری کے کچھ عرصے بعد ہی بیمار شاہ سلمان نے اپنے حوصلہ مند بیٹے محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد مقرر کیا۔ دو سالوں میں صورت حال کچھ ایسی تبدیل ہوئی کہ سلمان نے اپنے بھتیجے کی جگہ اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو ولی عہد نامزد کر دیا اور تخت نشینی کی روایت ٹوٹ گئی۔پھر سات نومبر کی رات ریاض میں تین واقعات رونما ہوئے جنھوں نے سعودی عرب کو بدل دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تینوں واقعات کے درمیان کوئی براہ راست تعلق نظر نہیں آتا۔سب سے پہلے ریاض سے سعد الحریری کا چونکانے والا اعلان آیا کہ وہ لبنان کے وزیر اعظم کے عہدے سے دست بردار ہو رہے ہیں۔دوسرا حریری کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد پتہ چلا تھا کہ یمن کے باغیوں کی طرف سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل داغا گیا جسے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے پہلے ہی تبار کر دیا گ?ا۔اور پھر نصف رات کو تیسرا سیاسی دھماکہ اس وقت ہوا جب درجنوں شہزادوں، امرا اور سابق وزرا کو یا تو گرفتار کر لیا گیا یا انھیں معزول کر دیا گیا۔32 سالہ ولی عہد محمد بن سلمان کا یہ نئے سعودی عرب میں حکومت پر اپنے کنٹرول کو مضبوط کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ تھا۔احمد ذکی کا کہنا ہے کہ ‘جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ پہلے نہیں دیکھا گیا۔ پہلے حکومت سات یا آٹھ بھائیوں کے درمیان مشترک رہتی تھی لیکن اب اقتدار ایک شخص کے ہاتھ میں ہے۔ کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ حالات بہت غیر مستحکم ہیں۔

شہر جوانوں کیلئے خوشخبری ‘آئی جی کا جلد اعلان متوقع

لاہور (نیا اخبار رپورٹ)پنجاب پولیس پرانی وردی (کالی شرٹ،خاکی پتلون)استعمال کریگی،فیصلہ کر لیا گیا،آئی جی مارچ کے پہلے ہفتے میں پرانی وردی کو بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرینگے۔تفصیلات کے مطابق افسروں اور جوانوں کو اولیو گرین رنگ پر تحفظات تھے،سابق آئی جی مشاق کھیرا کی ریٹائرمنٹ کے بعد کھل کر یونیفارم کی تبدیلی کی بات شروع ہو گئی جس پر موجودہ آئی جی عارف نواز نے اعلیٰ سطح کی کمیٹی رپورٹ دی کہ فیلڈ افسر اہلکار پرانی وردی پر جانا چاہتے ہیں۔ بعدازاں ایڈیشنل آئی جی فنانس نے ڈی آئی جی کی سربراہی میں دوٹیمیں بنا دیں جو افسروں،جوانوں اور سول سوسائٹی سے رائے لیکر رپورٹ آئی جی کو بھجوائیں گی۔موجودہ آئی جی اولیو گرین یونیفارم کیلئے خریداکپڑا ضائع ہونے سے بچانا چاہتے ہیں ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا ایک اور شاہکار منصوبہ ۔۔۔ پاکستان کا سب سے بڑا کڈنی اور لیور انسٹی ٹیوٹ کا پراجیکٹ تیار

لاہور (ویب ڈیسک)پاکستان کے سب سے بڑے کڈنی و لیور ہسپتال کے پراجیکٹ کی تیاری شروع ۔شہباز شریف کا کہنا تھا آج ایسا ہسپتال تعمیر ہو رہا ہے جس کی جنوبی ایشیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ۔وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا پاکستان میں بنایا جانیوالا ”پاکستان کڈنی اور لیور ہسپتال “امریکہ کے ہسپتال کے ہم پلہ ہو گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا 200ملین ڈالر پنجاب گورنمنٹ اس بڑے پراجیکٹ پر لگا رہی ہے ۔