لاہور(خصوصی رپورٹ) الیکشن2018 ءمیں خونریزی کا خدشہ ہے ، انتخابی مہم سمیت بڑی سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ، افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی گروپس، داعش اور جماعت الاحرار الیکشن کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔سکیورٹی ذرائع نے دہشتگرد گروپس کے حوالے سے رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ملا فضل اللہ، عمر نارے جاوید سواتی، خان سید سجنا، لشکر جھنگوی اور جماعت الاحرار، داعش سے ملکر پاکستان میں الیکشن کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں،پاکستان کے اعلیٰ خفیہ اداروں نے بتایا کہ یہ گروپس اپنے مقامی سلیپر یونٹس کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان سے اپنے سکواڈ پاکستان میں داخل کر کے الیکشن مہم ، بڑی سیاسی شخصیات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ را کا ایرا-1(پاکستان ڈیسک) ان آپریشنز کے پیچھے ہے جبکہ این ڈی ایس کے بعض عناصر انکی معاونت کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان کو پرائمری ٹارگٹ رکھا جا سکتا ہے ۔ بھارتی ایجنسی کا ٹارگٹ بھی یہی ہے کہ سرحدوں پر روایتی جارحیت اور خیبر پختونخوا ، بلوچستان میں دہشتگرد گروپس کو استعمال کر کے پاکستان کو دباﺅ میں رکھنے کی کوشش کی جائے ۔ یہ گروپس پنجاب اور سندھ میں بھی کارروائیاں کر سکتے ہیں ۔ایک اور رپورٹ کے مطابق خان سید سجنا گروپ کے کمانڈر لالہ عظمت نے شمالی وزیرستان میں امن لشکر، کمیٹیوں کو نشانہ بنانے کیلئے دو سے زائد دہشتگردافغانستان سے شمالی وزیرستان میں بھیجے ہیں جن کو امن کمیٹی کے ممبران عزت اللہ، اور سلطان شاہ کو ٹارگٹ کرنیکا ٹاسک دیا ہے ۔منظور پشتین کے گروپ کیخلاف آواز اٹھانے والے امن لشکر کے اہم ممبران پر بھی دہشتگرد گروپس نے جان لیوا حملے کیے ۔ اعلیٰ ا نٹیلی جنس حکام نے بتا یا کہ ہمارے ادارے اور ایجنسیاں الیکشن سے متعلق ممکنہ خطرات سے پوری طرح آگاہ ہیں اور انتخابات کے دوران بھرپور اقدامات کرینگے ۔





































