اسلام آباد (عبدالودود قریشی) بیگم کلثوم نواز کی لندن میں بیماری اور ہسپتال داخلہ چہ مگوہیوں کی زد میں ہے اور ایک معمہ بنا ہوا ہے مریم نواز کا یہ کہنا کہ والدہ کو ہارٹ \اٹیک ہوا وہ بے ہوش ہوگئیں اور انھیں وینٹیلیٹر پر رکھا ہوا ہے پھر ایک آدمی کا ان کا کمرے میں چلا جانا اس سے تفتیش اور تحقیق اور ایک نئے انکشاف کہ شاید کلثوم نواز اتنی سیئریس نہیں ہیں جتنا کہا جارہا ہے اس حوالے سے ملک میں اپوزیشن ایک پراپیگنڈہ مہم شروع کر چکی ہے اور مسلم لیگ ن کے ورکر بددل ہوتے جارہے ہیں کہ شاید روایتی طور پر اقتدار کی خاطر اس بیماری کو بھی استعمال کیا جارہا ہے کلثوم نواز کی حالت خراب ہونے کا کہہ کر میاں نواز شریف اور مریم نواز نے پاکستان آمد کو موخر کیا ہے اور اگر انھوں نے پاکستان نہ آنے کا فیصلہ کر لیاہے تو یہ مسلم لیگ ن کے لئے ایک بڑا دھچکہ ہوگا اور انتخابی معرکے میں مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک بڑی حد تک متاثر ہوگا۔





































