لاہور، اسلام آباد، کراچی (نمائندگان خبریں) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)نے منی لانڈرنگ کیس میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر مملکت آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سمیت 7 افراد کے نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری سمیت دیگر افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے رکھا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے عبوری طور پر آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت 7 افراد کے نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیئے ہیں ¾ایف آئی اے حکام نے نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالنے کی تصدیق بھی کردی ہے۔ایف آئی اے کے مطابق آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت 7 افراد کے نام اسٹاپ لسٹ شامل کیے گئے ہیں۔ایف آئی اے نے بتایا کہ جن دیگر 7 افراد کے نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالے گئے ہیں ان میں چیئرمین سمٹ بینک نصیرعبداللہ لوتھا، اےجی مجید، انور مجید، نازلی مجید، اقبال خان نوری مصطفیٰ ذوالقرنین اور علی کمال مجید شامل ہیں۔ایف آئی اے کے مطابق آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت اسٹاپ لسٹ میں شامل افراد بیرون ملک نہیں جاسکیں گے۔ذرائع کے مطابق نصیر عبداللہ اور انور مجید آصف زرداری کے قریبی دوست اور بزنس پارٹنر بھی ہیں۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کی جانب سے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حکم پر عارضی طور پر اسٹاپ لسٹ بنائی ہے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق کمیٹی کے اجلاس تک یہ افراد اسٹاپ لسٹ میں شامل رہیں گے اور کمیٹی کی منظوری کےبعد ان کےنام ایگزیکٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جائیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی منظوری سے اسٹاپ لسٹ ایسے افراد کےلئے بنائی گئی ہے جو فوری طور پر قانون کو مطلوب ہوں اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنا لازمی ہو۔واضح رہے کہ ایف آئی اے نے گزشتہ دنوں اسی کیس میں سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی حسین لوائی کو بھی گرفتار کیا ہے۔ کراچی جبکہ سابق صدراور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کے خلاف عزیر بلوچ کی جانب سے ریکارڈ کرائی گئی جے آئی ٹی کو پبلک کرنے پر غور، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جے آئی ٹی کو عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ جی ڈی اے اور آل پاکستان مسلم لیگ نے بھی جے آئی ٹی کو پبلک کرنے کا مطالبہ کردیا۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق لیاری گینگ وار کے گرفتار سرغنہ عزیر بلوچ کی جانب سے جے آئی ٹی کے سامنے کیئے گئے اہم انکشافات پر مبنی جے آئی ٹی رپورٹ کو بہت جلد منظر عام پر لانے اور عوام کو اس سے آگاہ کرنے کیلئے اسے پبلک کرنے پر غور شروع کردیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے پہلے ہی عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ کو عام کرنے کیلئے سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہوئی ہے تاہم اس میں سابقہ پی پی پی حکومت کی جانب سے روڑے اٹکائے جا رہے تھے ۔ ذرائع نے بتایا کہ نگران حکومت سندھ عدالتی احکامات کے بغیر بھی اس جے آئی ٹی کو عام کرنے کا اختیار رکھتی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی پبلک ہونے کے بعد سندھ میں پیپلز پارٹی کیلئے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اور عوام میں ایک طرح سے منفی تاثر جائے گا۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ کے نائب صدر اور این اے ۔243سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار شیخ شاہجہان نے مطالبہ کیا ہے کہ عزیر بلوچ کراچی گینگ وار کا سرغنہ اور دہشت کی علامت تھے اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عزیر بلوچ کو پی پی پئی کی قیادت استعمال کرتی تہی ہے اور ان سے بہت سارے جرائم پر مبنی کام لیئے ہیں اس لیئے یہ جے آئی ٹی عام کی اجئے ۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف سندھ کے ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات رزاق باجوہ نے کہا ہے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی کے حوالے سے کئی راز پوشیدہ ہیں اور یہ جے آئی ٹی عام ہونے سے تہلکہ مچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس جے آئی ٹی کا کچھ حصہ اخبارات میں شائع ہو چکا ہے جس کے بعد پی پی پی کی قیادت نے اسے عام کرنے میں رکاوٹیں ڈالیں ۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ عام کی جائے تاکہ جرائم پیشہ سیاستدانوں کا اصل چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب ہو۔ علاوہ ازیں ایف آئی اے کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کا نام سٹاپ لسٹ میں ڈالنے کے معاملے پر پیپلزپارٹی نے ہنگامی طور پر اعلی سطح کا اہم مشاورتی اجلاس آج لاہور میں طلب کر لیا ہے ۔ اجلاس میں مشاورت کے بعد اہم فیصلے متوقع ہیں تفصیلات کے مطابق پیر کے روز ایف آئی اے کی جانب سے سپریم کورٹ کے حکم پر 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے نام سٹاپ لسٹ میں ڈالنے کے معاملہ پر پیپلزپارٹی نے اعلی سطحی رہنماﺅں کا ہنگامی اجلاس آج لاہور میں طلب کر لیا ہے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ملتان کا دورہ مختصر کر کے گزشتہ شب لاہور پہنچ چکے ہیں اور دیگر اعلی سطح کے رہنماﺅں کو بھی لاہور طلب کر لیاہے اجلاس پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف زرداری کی مشترکہ صدارت میں ہو گا جس کے بعد اہم فیصلے کئے جائیں گے ۔ واضح رہے کہ حسین لوائی کی گرفتاری کے بعد جعلی اکاﺅنٹس کے ذریعے 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ میں نامزد ملزمان آصف علی زرداری اور فریال تالپور ، اے جی مجید ، انور مجید ، نازلی مجید اور سمٹ بنک کے صدر نصیر عبداللہ لوتھا سمیت دیگر ملزمان کے نام سٹاف لسٹ میں شامل کئے جا چکے ہیں جس کی وجہ سے تمام نامزد افراد بیرون ملک نہیں جا سکیں گے ۔





































