لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل چینل فائیو کے پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے توصیف احمد خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے حلف لینے والے صدر ممنون حسین ماضی میں مسلم لیگ ن کے سرگرم رکن رہے ہیں، عمران خان سے توقعات بہت ہیں، کام نہ کیا تو عوام کی امیدو آس ٹوٹ جائیگی، عمران خان نے اقتدار میں آنے کیلئے سب سے طویل جدوجہد کی، عمران خان کی پہلی تقریر خبریں کی بلڈنگ میں تیار ہوئی ، عمران خان نے کبھی مایوس ہونا نہیں سیکھا، اپوزیشن اقتدار نہ ملنے پر عوام میں مایوسی نہ پھیلائے، انکی ناکامی کی وجہ عوام اور وہ خود جانتے ہیں ، ن لیگ کا مان و گمان تخت لاہور چھن گیا، آدمی حکومت میں اتنا نہیں نکھرتا جتنا اپوزیشن میں نکھرتا ہے ، طے تھا پرویز الٰہی ن لیگ کے ووٹ لینگے ، ان کی عزت ن لیگ میں ہے ، پروگرام میں شریک مہمان کالم نگا رمیاں سیف الرحمان نے کہا کہ اس انتخاب میں ووٹرز کے شعور کی بیداری متاثر کن ہے ، عمران خان عوامی اکثریت کے نمائندہ بنے ، انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں، ہم 1947سے ہارنے والوں کی دھاندلی کا رونا سنتے آرہے ہیں، سپیکر اور وزیراعظم کے انتخاب کا طریقہ کار متصادم ہے ، ن لیگ احتجاج کا بہتر طریقہ اپنا کر جمہوری انداز کو چلائیں ، سینئر تجزیہ نگار میاں حبیب نے کہا کہ پاکستان کا ووٹرتبدیل ہوچکا مگر سیاستدان تبدیل نہیں ہوئے ، سیاہ پٹیاں باندھ کر دھاندلی ثابت کرنی ہے تو متعلقہ اداروں میں ثابت کریں ، عوام تبدیلی کے نعرے کے مطابق کام چاہتے ہیں ، دوسرے ملکوں کی طرح جمہوری تعاون کریں، انسان بننا ہوگا، عمران خان نے گذشتہ 5سال عوامی رابطہ مہم کی ، عمران خان کی حکومت آسان نہیں پل ِ صراط پر کھڑی ہے ، پاکستان الیون میدان میں اتار کر 5وزارتیں اتحادیوں کو دے رہے ہیں، شہباز شریف پر عوام کی انویسٹمنٹ ہے، انکی رائے سے فائدہ اٹھائیں، اہم ملکی ایشوز پر قومی پالیسی بنائی جائے، اسکے علاوہ اپوزیشن ایک دوسرے پر اعتراض کرتی ہے، حمزہ شہباز اور خواجہ سعد رفیق کا رنگ فق ہوگیا جب سپیکر کا انتخاب ہوا، پرویز الٰہی کو ووٹ دینے والوں پر ن لیگ نے اتنا پریشر ڈالا کہ ڈپٹی سپیکر کو ووٹ نہیں دے سکے ، پرویز الٰہی نے خود عمران سے کردار اداکرنے کیلئے سپیکر کا عہدہ مانگا، حج کی توفیق جسے ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہی اصل زندگی ہے ، حج کے بعد زندگی بدل جاتی ہے ، کالم نگار اشرف سہیل نے کہا کہ عمران خان ملک کیلئے کچھ کرنے کے ارادے سے آئے ہیں، بہتری کی ابتداءہوگی، عوام نے عمران خان کو منتخب کرکے بہترین فیصلہ کیا، پاکستان کی سیاسی قیادت میں بھی مثبت تبدیلی آئی ہے ، عمران خان کے کردار میں دیانت اور سچائی کا عنصر موجود ہے ، پاکستان کیلئے خوش قسمتی ہوگی اگر عمران خان اچھے قائد ثابت ہون، بجائے کہ اچھے حکمران بنیں، حمزہ شہباز اقتدار کے مزے لیتے رہے اب پتا چلے گا کہ پنجاب میں اپوزیشن میں کیا کرتے ہیں، شہبازشریف کی ڈیپارٹمینٹل میموری کی طرح رامیز الٰہی کیمسلم لیگ کے حوالے سے یاداشت بہت مضبوط ہے ۔
