تازہ تر ین

مالکن کا 8 سالہ گھریلو ملازمہ پر وحشیانہ تشدد ، دانت توڑ ڈالا ، متاثرہ بچی کے والدین کا باقی ملزم گرفتار کرنے، وزیر اعظم، چیف جسٹس سے تحفظ اور انصاف فراہم کرنیکا مطالبہ

فیصل آباد( یونس چوہدری سے)فیصل آباد ایک اور گھریلو ملازمہ مالکن اور اس کے بھائی کے بےہمانہ تشدد کا نشانہ بن گئی۔ گھر کی مالکہ اور اس کے بھائی نے کمسن 8سالہ غریب بچی کو آہنی راڈوں، ڈنڈوں اور پائپوں سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کا دانت توڑ ڈالا۔ بچی کے دونوں ہاتھ سوجھے ہوئے ہیں۔ آنکھ، کمر، گردن، بازوﺅں اور چہرے پر زخموں کے واضع نشانات موجود ہیں۔ ہاتھوں اور بازو کی ہڈیاں ٹوٹنے کا خدشہ، میڈیکو لیگل میں تشدد کی تصدیق، مزید رپورٹس آج ملنے کا امکان، جبکہ تشدد کا شکار بچی مالکن کے چنگل سے موقع ملنے پر فرار ہو کر رکشہ ڈرائیور کے پاس پہنچ گئی۔ جس نے مظلومہ بچی کو سٹی کونسل نمبر 3کے کونسلر کے پاس پہنچا دیا اور ظلم و تشدد کا نشانہ بننے والی بچی کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے حوالے کر دیا گیا۔ خاتون آفیسر نے بچی کو تحویل میں لےکر اپنی مدعیت میں تھانہ گلبرگ میں گھر مالکن اس کے بھائی سمیت چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔ ایک ملزم گرفتار، مالکہ سمیت تین ملزمان فرار، تھانہ روڈالہ کے علاقہ چک نمبر 280منج کا کے رہائشی سیف اللہ کی آٹھ سالہ بیٹی اریج فاطمہ راجہ ٹاﺅن کی رہائشی وردہ کے گھر 2ہزار روپے ماہانہ پر گھریلو ملازمہ تھی کہ اس سے 24گھنٹے کام کروایا جاتا۔ مظلومہ بچی اریج فاطمہ اور اس کی والدہ اللہ معافی نے”خبریں“ کو بتایا کہ گھر کی مالکن وردہ اس کا بھائی احمد اور دیگر لوہے کے راڈوں، ڈنڈوں اور پائپوں سے تشدد کرتے، کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا اور نہ ہی مجھے سونے دیا جاتا۔ اریج فاطمہ نے بتایا کہ مالکہ مجھے بالوں سے پکڑ کر میرا سر دیواروں سے ٹکراتی اور مجھے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتی تھی۔ تشدد سے منع کرنے پر مجھے گندی گالیاں دیتے تھے اور وحشیانہ تشدد کے باعث میرا پورا جسم متاثر ہو چکا ہے مبینہ طور پر میرا دانت، بازو اور ہاتھ ٹوٹ چکا ہے۔ مجھے امی ابو اور دو چھوٹی بہنوں کی بہت یاد آتی تھی۔ مگر مجھے ملنے نہیں دیا جاتا تھا۔ بچی نے بتایا کہ گزشتہ شب سب گھر والے سو گئے تو میں گھر سے فرار ہو گئی۔ لاوارث پھر رہی تھی کہ رکشہ ڈرائیور نے مجھے وجہ پوچھی تو میںنے اسے تمام صورتحال سے آگاہ کیا تو وہ مجھے کونسلر افضال کے پاس گھر لے گیا میں کونسلر کو اپنے اوپر ہونےوالے ظلم کی داستان سنائی اور اس نے مجھے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی خاتون آفیسر روبینہ اقبال کے سپرد کر دیا اور خاتون آفیسر نے مجھے الائیڈ ہسپتال منتقل کر کے میرا میڈیکو لیگل کروایا اور میرے والدین کو اطلاع کی گئی ایک سوال کے جواب میں متاثرہ گھریلو ملازمہ کمسن بچی اور اس کی والدہ نے بتایا کہ اس کا والد سیف اللہ ریڑھا چلا کر روز گار کماتا ہے اور ہم غریب لوگ ہیںگزر بسر نہ ہونے پر بیٹی کو راجہ کالونی میں وردہ کے گھر ملازمہ رکھوایا تھا۔ مگر گھر کی مالکن اس کے بھائی احمد، صداقت اور حاجی منیرنے میری بیٹی پر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ اسے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا۔ اس امر پر ظلم و ستم کا شکار بچی کے مظلوم والدین نے وزیراعظم، چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب، انسانی حقوق کی وفاقی وزیر، آئی جی پنجاب، آر پی او اور سی پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لےکر گھر کی مالکہ اور اس کے ساتھی فرار ملزمان کو گرفتار کر کے قرار واقع سزادلا کر انصاف و تحفظ فراہم کیا جائے۔ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی خاتون آفیسر روبینہ اقبال نے خبریں کو بتایا کہ گھر کی مالکن وردہ اس کے بھائی احمد، صداقت اور حاجی منیر کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والی 8سالہ کمسن بچی اریج فاطمہ ہماری تحویل میں ہے اور الائیڈ ہسپتال میں زیر علاج ہے اور ڈاکٹروں نے اس کا طبی معائنہ کر کے میڈیکو لیگل جاری کر دیا ہے اور ایکسرے سمیت دیگر رپورٹس آنا باقی ہیں اور چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کی طرف سے تھانہ گلبرگ پولیس نے میری مدعیت میں مالکہ سمیت چاروں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے چھاپہ مار کر ایک ملزم احمد کو گرفتار کر لیا ہے اور مالکن سمیت دیگر ملزمان فرار ہیں اور پولیس نے یقین دہانی کروائی ہے کہ فرار ملزموں کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ جن کی گرفتاری کےلئے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ اس حوالہ سے سٹی کونسل نمبر 3کے کونسلر افضل کا کہنا تھا کہ گھر کی مالکن اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والی نابالغہ کمسن بچی ایک رکشہ ڈرائیور کے ذریعے میرے پاس گھر پہنچی۔ جس پر وحشیانہ تشدد کیا گیا تھا اور میں نے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو آفس کے حوالے کر دی اور بچی پر تشدد کئے جانے کے حوالہ سے میڈیا مظلوم خاندان کا بھر پور ساتھ دےاور ان کی آواز کو حکومتی ایوانوں تک پہنچا کر میڈیا ظلم و تشدد کرنےوالوں کو سزا دلوا کر انصاف و تحفظ دلائے۔ تاکہ آئندہ کوئی ظالم غریب گھریلو ملازماﺅں پر وحشیانہ تشدد کرنے کی جرا¿ت نہ کر سکے۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain