تازہ تر ین

روسی ثالثی منظور ، ماسکو بھارت سے بات کرے : شاہ محمود قریشی

لاہور (چینل ۵ رپورٹ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ روس نے پاک بھارت تنازع میں ثالثی کی پیشکش کی ہے ہم تو امن کی خاطر بات چیت کو تیار ہیں اب روس کی حکومت بھارت سے بات کرے گی کیونکہ ماسکو کے دلی سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ سعودی ولی عہد بھی کردار ادا کررہے ہیں۔ بھارت کنٹرول لائن پر فائرنگ کررہا ہے اور کل بھی ہمارے دو فوجی جوانوں کی شہادتیں ہوئی ہیں۔ مودی حکومت پاکستان کو اشتعال دلانا چاہتی ہے لیکن ہم جانتے ہیں لڑائی دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چینل ۵ کے پروگرام ”ضیاشاہد کے ساتھ“ میں چیف ایڈیٹر خبریں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا جو سوالاً جواباً پیش ہے۔
ضیاشاہد: میں آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ ایسی حکومت کے وزیرخارجہ ہیں جس کے سربراہ جناب عمران خان‘ افواج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ نے انتہائی دانشمندی سے پاکستان کا جواب بھی انڈیا کودے دیا اور ہم کسی قسم کی بڑے پیمانے پر خونریزی سے ہم بچ گئے۔ آپ کی حکومت نے انڈیا کے پائلٹ کو جس طرح انڈیا کے سپرد کیا ہے اس پر پوری دنیا میں داد و تحسین کے نعرے بلند ہورہے ہیں اور یہاں تک امریکہ میں 35 ہزار افراد نے اپنی رائے دی ہے کہ عمران خان کو امن کا نوبل پرائز ملنا چاہئے۔ آپ نے نہایت معاملہ فہمی سے جو امیج دینا تھا دنیا کو بھی اور انڈیا کو بھی وہ دیا میں اس پر آپ کومبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میرا آپ سے پہلا سوال یہ ہے کہ جو تازہ ترین خبریں ہیں اس میں او آئی سی کے اجلاس میں پاکستان کی عدم شمولیت کی وجہ سے ایک بحث شروع ہوئی ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہمیں جانا چاہئے تھا اور جاکر اپنی رائے سے آگاہ کرنا چاہئے تھا۔ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے یہ کہا کہ جس طرح شاہ محمود قریشی صاحب نے کہا ہے کہ اگر ہم اس میں شریک ہونا چاہتے تو بھی کسی سفارتی افسر کی موجودگی میں اپنی رائے ضرور وہاں تک پہنچانی چاہئے تھی۔ کیا ہم اس موقع سے بالکل شامل نہ ہوکر ہم نے جو ایک اچھا موقع تھا وہ ضائع نہیں کردیا کہ ہم اپنے مسلمان ممالک سے یہ ڈائیلاگ نہ کرسکے کہ انہیں مبصر کے طور پر بھی انڈیا کو او آئی سی اجلاس میں شریک کرنے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔موقع تو نہیں ضائع کردیا کہ مسلمان ممالک کو کہہ سکیں کہ مبصر کے طور پر شامل کرنے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔
شاہ محمود قریشی: پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ مبصر کے طور پر انگیج نہیں ہوئے۔ یہ غلط فہمی ہے نہ انڈیا کو دعوت دی گئی ہے ممبر شپ کی ‘ نہ وہ ممبر ہے نہ وہ مبصر ہے‘ ان کو ایک افتتاحی سیشن میں ایک مہمان خاص کے طور پر بلایا گیا تھا اور اس کے علاوہ ان کی وہاں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جب ان کو دعوت دی گئی تو جو سیکرٹری جنرل ہیں اس ادارے کے وہ بھی لاعلم تھے۔ نمبر 2۔ جب دعوت دی جاتی ہے کسی ممبر کو ایک مشاورتی عمل ہوتا ہے اس سے گزرا جاتا ہے وہ بھی نہیں پورا کیا گیا۔ نمبر3۔ پروسیجر کو فالو نہیں کیا گیا۔ سب قوانین موجود ہیں۔ نمبر 4۔ ہماری ایک تاریخ ہے اورتاریخ یہ ہے کہ 1969ء میں کوشش ہوئی تو پاکستان نے احتجاج کیا‘ 84ءمیں کوشش ہوئی تو پاکستان نے احتجاج کیا تھا اور 2004 ءمیں ہوئی تھی پاکستان نے احتجاج کیا تھا۔ اب ایک اور کوشش ہوئی اس کوشش میں پہلے ہم نے بحث کی ‘ میں نے بہت سے سفارتکاروں سے مشورہ بھی کیا اس میں اکثریت کی رائے تھی کہ ہندوستان چور دروازے کے ذریعے اندر گھسنے کی کوشش کررہا ہے اور وہ آڑ یہ لے رہا ہے کہ اتنے کروڑ مسلمان ہیں ہندوستان میں تو ان کو بھی یہاں نمائندگی ملنی چاہئے تو لوگوں نے کہا کہ بنیاد بنانی ہے تو پھر مسلمان تو اسرائیل میں بھی ہیں‘ اسرائیل کو بھی نمائندگی دیدیں۔ میانمار میں بھی ہیں ان کو بھی نمائندگی دے دیں تو پھر او آئی سی کے فورم کی افادیت کھو جاتی ہے۔ پاکستان اس کا فاﺅنڈنگ ممبر ہے فاﺅنڈنگ ممبر کے یہاں ایک محاذ جنگ کی کیفیت ہے۔ انہوں نے پاکستان پر جارحیت کی ہے پاکستان پر حملہ کیا ہے۔ ہماری افواج ان کا مقابلہ کررہی ہیں۔ اس سٹیج پر میں وہاں جاﺅں اور سشماسوراج کا پورا لیکچر سنوں میرے ضمیر نے گوارا نہیں کیا۔ نمبر 5۔ آپ کہتے ہیں کہ ہم جمہوریت ہیں‘ جمہوریت میں پارلیمان کو اہمیت دی جاتی ہے۔ پارلیمان نے متفقہ قرارداد پاس کی ہے بشمول پیپلزپارٹی کے بشمول ن لیگ کے اور بشمول ایم ایم اے کے کہ ہمیں اس میں نہیں جانا چاہئے۔ زرداری فرما تو رہے ہیں لیکن زرداری کے جو نمائندے تھے راجہ پرویزاشرف ان کے دستخط ہیں۔ پی ایم ایل کے دستخط ہیں وہ اصرار کررہے تھے اور ایک طرف آپ دنیا کو پیغام دینے جارہے ہیں۔ جوائنٹ سیشن پر کہ قوم یکجا ہے ہندوستان کے خلاف اور دوسری طرف یہ مجھے کہہ رہے تھے کہ اگر آپ جاتے ہیں تو جوائنٹ سیشن کا بائیکاٹ کریں گے ہم نے کیا حاصل کرنا تھا دنیا کو ہندوستان کا مقابلہ ہورہا ہے اور ہم یکجہتی کا پیغام دینا چاہ رہے ہیں اور قوم تقسیم ہورہی ہے میں نے قوم کو تقسیم ہونے سے بچایا۔ ایک طرف آپ کہتے ہیں پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں تو میں نے پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کیا ہے۔ قصوری صاحب نے کہا کہ جانا چاہئے بالکل گئے۔ ہمارے سفارتکار موجود تھے ہمارے سفارتکاروں نے وہاں قراردادیں پیش کیں اور وہاں جاکر انہوں نے جو پاکستان کا مو¿قف ہے ان کو واضح ہدایت تھی کہ اگر کوئی کوشش کی گئی بھارت کو مبصر کا سٹیٹس دینے کی کوشش کی گئی تو ان کی مخالفت کریں گے اور اس میں کچھ اور بھی دوست تھے جو ہمارے ساتھ آمادہ تھے۔ تو ہم نے مشکل حالات میں باوقار طریقے سے اپنے ایک دوست کو اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ انگیج بھی رہے۔ میری دو مرتبہ شیخ عبداللہ صاحب سے بات ہوئی اور ان کا یہ مجھے پیغام ملا کہ نہیں ہمیں احساس ہے کہ آپ کی مجبوری ہے اور چونکہ ہم دعوت دے چکے تھے اور پلوامہ کا واقعہ بعد میں ہوا اگر پلوامہ پہلے ہوچکا ہوتا تو ہم شاید دعوت پر بھی غور کرتے۔ اس سٹیج پر دعوت دیکر واپس لینا سفارتی آداب کے مناسب نہیں ہوگا۔ تو ہمارے تعلقات بھی نہیں بگڑے اور ہمارا احتجاج بھی ریکارڈ بھی اور ہمارے پارلیمان کی قرارداد کا احترام بھی ہوگیا۔
س: جناب یہ فرمایئے کہ ہم دیکھ رہے تھے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے اپنی پرجوش تقریر کے اختتام کے بعد بات ختم کرنے کے آخر میں اچانک مائیک پر آئے وہ دوبارہ انہوں نے صرف ایک جملہ ادا کیا کہ ہم یکطرفہ طور پر بھارتی پائلٹ کو رہا کررہے ہیں کل کیا انہوں نے اس سے پہلے کابینہ میں یا آپ کی پارٹی میٹنگ میں کوئی مشورہ کیا تھا۔ لگتا تو یہ ہے کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا کیونکہ اگر یہ پہلے سے متفقہ فیصلہ ہوتا تو پھر وہ پہلے اس کا اعلان کرتے وہ تو اپنی بات ختم کرچکے تھے اور لگتا ہے کہ ان کو بعد میں خیال آیا یہ تاریخ کا ایک مرحلہ تھا لہٰذا صحیح صورتحال کیا ہے اس پر آپ روشنی ڈالئے۔
جواب: اس پر مشاورت ہوچکی تھی یہ اپنے خطاب کے اختتام پر خیر سگالی کے طور پر معاملات کو سدھارنے اور تناﺅ کو ختم کرنے کے لئے پاکستان ازخود یہ جسچر کرے گا لکھی ہوئی تقریر نہیں تھی لکھے ہوئے نوٹ نہیں تھے فی البدیہہ گفتگو کررہے تھے ان کے ذہن سے بات نکل گئی جب میں نے ان کو یاد دلایا تو جی ہمارا یہ ایک نقطہ رہ گیا ہے تو انہوں نے فوراً کھڑے ہوکر اس کا اظہار کردیا۔
سوال: یہ فرمایئے اس صورتحال میں ایک اہم سوال باقی رہ جاتا ہے کہ آج کے اخبارات میں روس اور اردن دو ممالک کی طرف سے ثالثی کی پیش کش آئی ہے اور آپ کا جواب اس کے ساتھ شائع ہوا ہے کہ آپ نے روس کی ثالثی جو ہے وہ قبول کرلی ہے۔ فرمایئے کہ کیا اس کی فارمل انوی ٹیشن آپ کو دے چکے ہیں یا اخباری بیان کو ہی یہ سمجھا جائے کہ ہم نے روس کو اپنا ثالث مان لیا ہے۔
جواب: میں نے تو آن دا فلور آف ہاﺅس یہ ذکرکیاکہ ان کی طرف سے ثالثی کی آفر آئی ہے اور پاکستان اس کے لئے تیار ہے اور جوائنٹ سیشن سے بڑا کوئی فورم میری نظرمیں ہے نہیں تو اس کو آپ فارمل سمجھیں پاکستان تیار ہے اب اس پر انہوں نے کہا کہ اگر دونوں فریق تیارہیں تو میں نے کہا پاکستان تیار ہے۔ بیٹھ کر گفت و شنید سے مسائل حل کرنے کے لئے بھارت کے ساتھ روس کے پرانے تعلقات ہیں ان سے آپ بات کرلیجئے ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں۔
سوال: سارے اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی ہے انڈیا نے جو پلوامہ حملے کے بارے میں ڈوزیئرز وہ حکومت پاکستان کو دے دیئے ہیں کیا آپ نے ان کا مطالعہ یقیناً کیا ہوگا آپ کے خیال میں ان ڈوزیئرز میں کیا بنیاد ہے اورکس مو¿قف پر انڈیا جو ہے قائم ہے اور خود آپ کے ذہن میں اس کا کیا جواب بنتا ہے کیونکہ بہت سارے دوستوں کا یہ کہنا ہے اورمختلف مذاکروں میں یہ بات آرہی ہے کہ ہم یقینی طور پربار بار یہ کہہ چکے ہیں تاہم تیار ہی ہیں۔ پلوامہ سانحہ کے بار میں کسی بھی قسم کی جوائنٹ تحقیقات کیلئے تیار ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو جو اپنے طور پر انفرادی طور پر جو جدوجہد ہورہی ہے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے لئے ہم اس جدوجہد سے الگ بھی نہیں رہ سکتے اور نہ ہی اس کی مخالفت کرسکتے ہیں توکیا آپ نے وہ ڈوزیئرز دیکھے ہیں اور آپ کا اس پرفرسٹ ری ایکشن کیا ہے۔
جواب: جہاں تک کشمیرکا تعلق ہے ماضی کی حکومتوں سے اس حکومت کی پالیسی بڑی واضح ہے کہ ہم نے کوئی معذرت خواہانہ رویہ اپنایا ہی نہیں ہے۔ آپ نے ہاﺅس آف کامنز میں جاکر پوری فارن کمیٹی آف سینٹ کے ہمراہ جو میں نے وہاں مو¿قف وہاں پیش کیا ہے اقوام متحدہ کی رپورٹ اور30 اکتوبر کی ہاﺅس آف کامنز کی جو رپورٹ تھی اس کا حوالہ دیا توکشمیر پر ہمارا مو¿قف بڑا واضح ہے دوٹوک ہے اورکل کی جو ہماری جوائنٹ سیشن کی قرارداد ہے اس کامطالعہ کریں توکشمیر پر ہمارا مو¿قف واضح ہوگیا کہ مقبوضہ کشمیرکے کشمیریوں کو پڑھ کر اطمینان ہوگا۔ جہاں تک ڈوزیئرز کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ کاش بھارت ڈوزیئرز پہلے بھجوا دیتا اور حملہ کا بعد میں سوچتا۔ بھارت نے حملہ پہلے کردیا جارحیت پہلے کردی اور ڈوزیئرز بعد میں بھیجا اب ڈوزیئرز کا ہم نے مطالعہ کیا ہے بس اس پرکمنٹ نہیں کرنا چاہوں گا اس لئے نہیں کرنا چاہوں گا کہ ہوسکتا ہے اس کی بنیاد پر ہم بیٹھ کر بات کریں ہم نے بات سے کبھی انکار نہیں کیا۔ ہمارے تو دیرینہ تنازعات ہیں۔ دہشت گردی ان میں سے ایک ایشو ہے لیکن اور بھی ہمارے ایشوز ہیں ان کا واحد حل جنگ نہیں گفت و شنید سے ہوسکتا ہے۔ آئیں بیٹھیں اور بات کریں۔ جب وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ آپ ایک قدم لیں امن کے لئے ہم دو لیں گے۔ ہماری یہی مراد تھے۔ جب انہوں نے کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ نیویارک میں مل بیٹھیں اور آپس میں مسائل ڈسکس کریں تو ہماری یہی مراد تھی۔ ہم تیار ہیں بھارت کی سیاست ان کے راستہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی اوراب الیکش کی جیت میں سرجیکل سٹرائیکس کی خواہش مجبوری بن گئی ہے آج میں نہیں کہہ رہا ہندوستان کی 21 سیاسی جماعتیں ہیں ان کی متفقہ رائے یہ ہے کہ پلوامہ کو سیاسی مقاصد کے لئے الیکشن کی جیت کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور اب بہت سے سوالیہ نشان اٹھنے شروع ہوگئے ہیں۔
سوال: یہ فرمایئے پاکستان کی حکومت اور فوج جو ہے بشمول ہماری وزارت خارجہ کے‘ہمارا مو¿قف یہ رہا ہے اور بڑی خوبصورتی کے ساتھ تصویر بنائی ہے کہ ہم نے کسی قسم کے جانی نقصان کئے بغیر ان کے حملے کا جواب دیا ہے لیکن جناب پہلے دن بھی چھ پاکستانی شہری ان کی فائرنگ سے شہید ہوئے ہیں اور آج بھی پتہ چلا کہ ان کی فائرنگ سے 4 پاکستانی شہید ہوچکے ہیں بلکہ دونوں پاکستانی فوج کے اہلکار ہیں۔ آپ یہ فرمایئے کہ ہم تو اپنی طرف سے یقینی طور پر امن کے خیرخواہ ہونے کے طور پر ہم اپنا نقطہ نظر واضح کرچکے ہیں لیکن یہ کس قسم کا خیر سگالی کا جذبہ ہے کہ جس کا جواب ہمیں نہیں مل رہا چھ آدمی پہلے شہید ہوچکے ہیں اور آج دو فوجی بھی اس کا شکار بن چکے ہیںکیا ہم اپنا وہی مو¿قف برقرار رکھیں گے کہ ہم نہیں چاہتے کہ ان کا کوئی جانی نقصان ہو۔
جواب: ایک سوچنے کا جذباتی انداز ہے اور ایک ہے ملک کے مفاد کو ملحوظ خاطر رکھنے کا مجھے بہت سی چیزوں کا ادراک ہے اور بہت سی چیزوں کا علم ہے پاکستان کی حکومت کی پالیسی ہے کہ معاملات کو ٹھنڈا کرنا اور ہندوستان کی پالیسی ہے معاملات کو بڑھانا یہ ان کی سیاسی ضرورت ہے اس میں شک نہیں کہ جو چھ شہری متاثر ہوئے اس کا ہمیں صدمہ ہے اس میں شک نہیں کہ آج دو شہادتیں ہوئیں اس کا ہمیں بے پناہ صدمہ ہے جو جنونی ہیںوہ یہی چاہتے ہیں کہ آپ ری ایکٹ کریں آپ اشتعال میں آئیں لیکن دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ اور آج امریکہ ہو‘ چین ہو‘ روس ہو یورپی یونین کے دیگر خطے کے ممالک ہوں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ہوں سبھی کہہ رہے ہیں کہ تحمل کا مظاہرہ کیجئے اگر ہم اس طرح ردعمل دیتے ہیں جس طرح مودی سرکار کررہی ہے تو اس سے معاملات بگڑیں گے حالات کا بگڑنا ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔ کیونکہ کشمیر ان کے ہاتھ سے جاچکا ہے۔ ہندوستان کی پالیسی کی وجہ سے ان کا جو ظلم و بربریت جو انہوں نے طاری کی ہے اس سے کشمیری جو تھوڑا نرم گوشہ رکھتے تھے وہ بھی آج نالاں دکھائے دے رہے ہیں۔کشمیریوں پر ہندوستان کے سٹیٹ پر 10 حملے ہوئے‘ املاک پر حملے ہوئے ان کی جائیدادوں کو نذرآتش کیا گیا‘ گاڑیوں کو جلایا گیا‘ اس صورتحال میں آج جو دانشور ہے آج بھی ایک مشہور صحافی ہیں۔ ہندوستان کی جن کا ایک طویل مضمون چھپا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نریندرمودی کی غلط پالیسی سے وہ ایشو جو صرف نظر ہوچکا تھا کشمیرکا اس کو انٹرنیشنل طور پر ہائی لائٹ کردیا گیاہے اور آج دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ جو ہے وہ دو ایٹمی ملکوں کے درمیان فلیش پوائنٹ بن گیا ہے۔ اس پر ہندوستان نے اپنی ہی پالیسی کو ٹھیس پہنچائی ہے اور کشمیریوں کا شہادتوں کے باوجود نقطہ نظر اجاگر ہوا ہے۔ ایک واقعہ نے اور ان کے غلط ری ایکشن نے بغیر تحقیق کے جو ایشو دہائیوں سے دبائے بیٹھے تھے آج وہ اجاگر ہوگیا ہے۔
س: یہ فرمایئے سعودی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کی بڑی شہرت ہے اور خیال تھاکہ وہ یہاں آئیں گے پھر وہ انڈیا جائیں گے قدرتی طور پر اس موضوع پر ضرور اظہارخیال ہوگا۔وہ یقیناً انڈین ہم منصب سے سسشما سوراج سے ضرور بات چیت کریں گے۔ موجودہ صورتحال پراب تک سعودی وزیر خارجہ کا جو شیڈول ہے وہ انڈیا جانے کے بارے میں اور پاکستان آنے کے بارے میں کیا ہے اور آپ کا مسلسل رابطہ ہے فرمایئے کہ اب تک اس کا نقطہ نظر کیا ہے کیونکہ پاکستان یہ جاننا چاہتا ہے کہ ہمارا بہترین دوست سعودی عرب ہے ‘ چین ہے اور ترکی ہے‘ ترکی کا ردعمل تو آچکا‘ چائنا کا ردعمل سامنے آیا ہے اور انہوں نے کسی کی لائن اختیار کرنے کے بجائے ایک جنرل رائے دی ہے۔ سعودی عرب اب کیا چاہتا ہے اس سے ہم سب آگاہی چاہتے ہیں۔
جواب: چائنا کل بھی ہمارا بااعتماد ساتھی تھا‘ آج بھی ہے۔ یہ جملہ کہہ دینا کافی ہے ترکی بالکل کل بھی ہمارے ساتھ کھڑا تھا آج بھی کھڑا ہے اور طیب اردوان سے وزیراعظم کی طویل گفتگو ہوئی ہے اور ترکی کے وزیر خارجہ کا مجھ سے رابطہ ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور انہوں نے اپنے وزیرخارجہ سے کہا ہے کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کا دورہ کریں اور معاملات کو سلجھانے اور تناﺅ کو کم کرنے میں اپنا رول ادا کریں۔ سعودی عرب رول ادا کررہا ہے چنانچہ فیصلہ ہواکہ وہ دلی جائیں گے۔ اپنا پیغام وہاں پہنچائیں گے ان کا نقطہ نظر سنیں گے اپنا مو¿قف پیش کریں گے اور پھر اسلام آباد تشریف لائیں گے اور پھر ہم مل بیٹھیں گے میں ان کا منتظر ہوں انشاءاللہ آ رہے ہیں۔
سوال: یہ فرمایئے جیسا کہ آپ نے خود اظہار خیال کیا کہ ہمارے سفارتی مشن وہاں موجود تھا اور یقینی طور پر وہاں شریک لوگوں کو جو او آئی سی کی میٹنگ میں ان سے یقیناً اپنے طور پر بات چیت کی ہو گی آپ کا فیڈ بیک کیا ہے ہمارے سفارتی مشن سے کہ بہرحال اگرچہ سشماسوراج نے کوئی براہ راست پاکستان کا نام لیکر کچھ نہیں کہا لیکن انہوں نے پلوامہ حملے کے بار ے میں اس حوالہ سے بات کی ہے تو موضوع سخن تو مقبوضہ کشمیر ہی تھا جوکہ اس تنازع کا بنیادی حصہ ہے یہ فرمایئے کہ ہمیں کیا فیڈ بیک ملا ہمارے نہ جانے سے جو باقی ممبرز تھے او آئی سی کے تھے ان کا کیا مو¿قف سامنے آیا یا آپ کو کیا تاثر ملا کہ انہوں نے ہمارے نہ جانے کا کوئی نوٹس کیا ہے سنجیدگی سے یا نہیں لیا۔
جواب: انہوں نے وہاں نہ پاکستان کا ذکر کیا نہ پلوامہ کا ذکر کیا انہوں نے مجموعی طور پر دہشت گردی کا ذکر کیا۔ ظاہر ہے کہ دہشت گردی کے حق میں کون ہے یقیناً ہم بھی نہیں ہیں۔ ہم نے 70ہزار جانوں کی قربانی دی ہے یہ سارا کچھ دہشتگردی کے خلاف ہوا ہے۔ دنیا جانتی ہے ابھی اجلاس جاری ہے کہ جو بھی اجلاس کی نشست ہے۔ میں جب اجلاس مکمل ہو جائے گا میں آپ کو اسمنٹ دے دوں گا۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain