تازہ تر ین

تعریفیں پاکستان کی ،3ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ بھارت سے ،ٹرمپ کی دو رخی ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ایک تو پاکستان کی ارجہ پالیسی کی کامیابی ہے کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ ہم افغانستان کے معاملہ میں اس کی مدد کر رہے ہیں اور عمران خان بھاگ دوڑ کر رہے ہیں اور آرمی چیف نے بھی اس میں پارٹ پلے کیاہے۔ یہ مسلمہ بات ہے بہت مشکل بھارت کے لئے مسئلہ کشمیر کو ختم کرنا کہ وہ کس طرح سے بین الاقوامی امیج درست کرے۔ اس کا بین الاقوامی امیج ختم ہو چکا ہے۔ دیکھیں امریکی صدر ان کے مہمان ہیں وہ پاکستان کی تعریفیں کر رہے ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ یہ جو حملہ ہے کہ انڈیا دنیا سے کٹ گیا مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے اور کشمیر کے معاملہ اور شہریت بل کے مسائل، ہنگاموں کی وجہ سے ایک نکد ہے اس کو کوئی پسند نہیں کرتا آج کے زیادہ واقعات تو دلی کے ہیں 9 افراد کو دہلی ہنگاموں کے اندر مار دیا گیا ہے۔ جانی نقصان بھی ہوا ہے اور وہ لوگ ایک دوسرے سے بڑھ کر شہریت قانون کے خلاف جو جدوجہد کر رہے ہیں انڈیا اور مودی کی پوزیشن دن بدن خراب ہو رہی ہے۔ ٹھیک ہے مودی نے ٹرمپ کی باتیں سن لیں لیکن اسلحہ تو لے لیا اور ہر قسم کی مدد تو حاصل کر لی۔ یہ ہندو ذہن کی چالاکی ہے وہ اپنا کام نکلوانا جانتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی تعریفیں سن کے ناک منہ چڑھا لئے ہمارے اخبارات نے تصویر چھاپی ہے کہ اس نے سر پر ہاتھ رکھا ہوا ہے یہ ان کے لئے شرمندگی تو تھی۔ ٹرمپ کے لئے بڑا مشکل مقام ہے اس نے الیکشن سے پہلے افغانستان کے مسئلے کا کوئی حل نکالنا ہے۔ امریکہ میں عام آدمی سوچتا ہے کہ ان کے بندے جو ہیں خواہ مخوا اس قسم کی جنگوں میں دھکیلے جا رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب امریکہ ویتنام میں پھنسا ہوا تھا پھر عراق کی باری آئی۔ پھر امریکی عراق پہنچے۔ وہاں لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر تنگ آ چکے ہیں اور لوگ ناپسند کرتے ہیں۔ سپر پاور دوسرے ملکوں میں جنگ لڑتی ہے اپنے ملک میں کرتے تو عوام اٹھ کھڑے ہوتے۔ اب تو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان میں آ کر کہہ دیا ہے کہ دنیا پر 5 بڑے ملکوں کی حکمرانی چل رہی ہے ان کے پاس ویٹو پاور پر عدم مساوات ہے۔ میں نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا بیان پڑھا تھا کہ یہ ثالثی ہمارے لئے خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی کا تعین کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ ثالث کے طور پر یہ توقع رکھنا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جو کشمیر کے عوام چاہتے ہیں وہ تو فیصلہ ہو چکا ہے کہ ان کی رائے معلوم کر لیں۔ وہ تو رائے معلوم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ امریکہ کو چاہئے کہ ان پر دباﺅڈالے وہ تو الٹا ان کو ہتھیار دے رہا ہے بڑی طاقتوں پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے بھی ہیں بڑے ہاتھ لگ چکے ہیں۔ ایک دفعہ مشرقی پاکستان کا مسئلہ تھا جب ساتواں بحری بیڑا وہاں کیا کرنے گیا تھا اگر اس نے کچھ کرنا نہیں تھا دوسرا یہ کہ جب افغانستان میں طالبان سے لڑائی سے پہلے امریکہ نے ایک دفعہ اچانک یہ سوچ کر کہ افغانستان کا معاملہ ختم ہو گیا اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور آرمی بھی نکال لی۔ کسی معاہدہ پر پہنچے بغیر امریکہ افغانستان سے چلا گیا تو بھی بیڑا خطرناک ہے کیونکہ کل کو وہاں کیا ہو گا اس کا کون ذمہ دار ہو گا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے ٹھیک کہا ہے امریکہ مسئلہ کشمیر کا کوئی ایسا حل تلاش کر کے دے جس سے کشمیر کی جو قراردادیں ہیں سلامتی کونسل والی وہ بالکل ایک طرف رکھ کر کوئی تیسراا، چوتھا، پانچواں فارمولا، آپ کو یاد ہو گا پرویز مشرف کے دور میں بہت سارے فارمولے بنے تھے خورشید قصوری صاحب نے بھی بہت سارے فارمولے بنائے تھے کشمیر کی تقسیم کے اس میں چناب فارمولا بہت مشہور ہوا تھا کہ چناب سے اس طرف کا علاقہ جو ہے اور اس طرف کا علاقہ الگ کر دیا جائے میں یہ سمجھتا ہوں اس قسم کے معاملات میں ہم جب تک اس نتیجے تک نہ پہنچیں کسی معاملہ کو حل کرنا اس وقت تک ہم اس کو اس طرح سے حل نہیں کر سکتے کہ فلاں شحص کی ثالثی ہمیں منظور ہے کیا پتہ وہ کیا کہہ دے۔ پنجاب حکومت نے نوازشریف کی ضمانت کی منظوری نہیں دی ہے خصوصی کمیٹی نے نوازشریف کی ضمانت کی منسوخی کی سفارش کی تھی اس کے باوجود ان کی ضمانت منظور نہیں کی گئی۔ کیا سابق وزیراعظم کے لئے مشکلات بڑھ نہیں گئیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ نوازشریف لندن چلے گئے اب ان کے لئے یہاں آپ کہتے ہیں یہاں قانونی کارروائیاں ہوتی رہیں ظاہر ہے جس طرح میں نے راجہ بشارت صاحب کی پریس کانفرنس سنی ہے ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہمیں جو رپورٹ ملی تازہ رپورٹ میں کوئی میڈیکل رپورٹ ہے ہی نہیں اس لئے نیا پوائنٹ ایسا ہے ہی نہیں کہ جس وجہ سے ان کو وہاں مزید رکھنا چاہئے۔ اب نوازشریف صاحب پر فرض عائد ہوتا ہے کہ یہ کیس پہلے عدالت میں گیا تھا عدالت نے ریفر کیا کہ پنجاب حکومت فیصلہ کرے گی۔ پنجاب حکومت نے فیصلہ کر دیا کہ ہم نہیں کر سکتے اب دوبارہ اگر نوازشریف کورٹ جانا چاہتے ہیں ہو سکتا ہے وہاں سے کچھ ریلیف مل جائے۔ لیکن مشکل نظر آتا ہے کیونکہ اب تک جو حالات ہیں ان میں نوازشریف کے لندن میں رہائش یا کھانا کھانے اور چہل قدمی کے کچھ ہمیں وہاں سے آنا نہیں وہ وہاں علاج کرانے کے لئے گیا علاج کروا رہے ہیں۔ نوازشریف کو چاہئے کہ وہ علاج کی تازہ ترین رپورٹ بھیجیں یہ ان کا قانونی اور اخلاقی فرض بنتا ہے۔ اس بات کا امکان ہے حکومت پنجاب انہیں اشتہاری قرار دے دے۔ اب ان کا آپریشن ہونے والا ہے جو وہ نہیں کروا رہے کہ جب تک میری بیٹی نہیں آئے گی ہی نہیں کرواﺅں گا۔ بھلا پاکستان کیا دنیا کے کسی ہسپتال میں کسی مریض کو ضد کرتے دیکھا ہے کہ جب تک میرا کا پتہ نہیں آئے گا میں آپریشن نہیں کرواﺅں گا۔ وہ یہاں سے اتنے بیمار ہو کر گئے کہ فوراً امریکہ جانا ہے امریکہ نہ جائے تو لندن کے ہی کسی ہسپتال میں داخل ہوتے۔ کوئی ٹریٹمنٹ ہو رہی ہوتی اب صرف یہ کہا جاتا ہے کہ ایک آپریشن ہو گا وہ 24 فروری کو ہونا تھا اور وہ کہہ رہے ہیں بیٹی آئے گی تو کرواﺅں گا۔ یہ تو ایسی ہی باتیں ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انہوں نے جانا تھا وہ چلے گئے انہوں نے چیزوں کو مینج کر لیا جس طرح میں نے کل شیخ رشید احمد سے پوچھا تھا کہ وہ کہہ رہے تھے وہ چلے گئے ایک بیٹی رہ گئی ہے اس پر پریشر ہے کہ ان کو بھی باہر منگوا لیں تا کہ وہ اطمینان سے وہاں رہ سکیں جب تتک حالات سازگاار نہیں ہو جاتے ہیں یا سیاسی ساکھ درست ہو سکتی ہے۔ ویسٹ مینجمنٹ کا ایک ادارہ ہے جس کے سپرد یہ کام تھا کسی وجہ سے ایک رپورٹر نے پوچھا تو پتہ چلا کہ زیادہ تر ان ہی کام کرنے والے ڈیلی ویجز پر تھے اور ان کو پیسے نہیں مل رہے۔ جس کی وجہ سے وہ کچرا نہیں ٹھا رہے۔ چیف منسٹر کو چاہئے کہ ان کا جو کنٹریکٹ ختم ہو رہا ہے اس کو درست کروائیں۔ ہمیں لوگوں نے تصویر بھیجی ہیں کہ جگہ جگہ کچرا پڑا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved