پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ (X) پر اس بات کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر اس تنازع کو حل کرنے کے لیے اہم ترین ثالث (Mediator) کا کردار ادا کر رہا ہے۔
خبر کے اہم نکات (Key Highlights)
حتمی متن پر اتفاق: وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی دونوں نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا حتمی متن تیار ہو چکا ہے، جسے ایرانی وزیرِ خارجہ نے "اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت” (Islamabad Memorandum of Understanding) کا نام دیا ہے۔
اگلے 24 گھنٹے اور ڈیجیٹل دستخط: وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مطابق، اگلے 24 گھنٹوں میں اس امن معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کی قوی امید ہے، جس کے فوراً بعد معاہدے پر ڈیجیٹل/الیکٹرانک دستخط کیے جائیں گے اور اس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات شروع ہوں گے۔
معاہدے کا فوری ہدف: امریکی اور علاقائی حکام کے مطابق، اس ابتدائی معاہدے کا فوری مقصد جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع، موجودہ کشیدگی کا خاتمہ، اور بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم راستے "آبنائے ہرمز” (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنا ہے۔
تکنیکی مرحلہ (Technical Phase): اگلے ہفتے شروع ہونے والے تکنیکی مذاکرات اگلے 60 دنوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔ ان میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی تلفی یا منتقلی، بین الاقوامی انسپکشن، ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور اس کے منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے پیچیدہ معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران پر حملے منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وہ ایک تاریخی امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تمام حساس اور تکنیکی تفصیلات کو اگلے ہفتے کے مذاکرات میں ہی حتمی شکل دی جائے گی۔

