اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے میڈیکل طلباء کو حافظ قرآن ہونے پر 20 نمبر دینے کا ازخود نوٹس کیس بند کر دیا۔
سپریم کورٹ نے ازخود نوٹسز کے حوالے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے پر لارجر بنچ تشکیل دیا تھا۔
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 6 رکنی بنچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل تھے۔
خیال رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے حافظ قرآن کو اضافی نمبر دینے کے کیس میں بنچ بنانے پر اعتراض کیا تھا اور تمام ازخود نوٹسز پر کاروائی روکنے کا فیصلہ دیا تھا۔
آج 6 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت 5 منٹ سے بھی کم وقت میں کی، لارجر بنچ نے جسٹس فائزعیسیٰ کے فیصلے پرغور کیا۔
پی ایم ڈی سی کے وکیل افنان کنڈی عدالت میں پیش ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ 20 اضافی نمبر 2018 تک رولز کے تحت دیئے جاتے تھے، 2021 میں نئے رولز بنے اور اضافی نمبر ختم ہوگئے، 20 اضافی نمبرکا معاملہ عملی طور پر ختم ہوچکا ہے۔
جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ موجودہ ازخود نوٹس 2022 میں لیا گیا تھا، 2021 کے رولز کے بعد ازخود نوٹس ویسے ہی غیر موثر ہوگیا۔
سربراہ بنچ جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ یہ ازخود نوٹس بند کیا جاتا ہے، ازخود نوٹس اور اس کے دیگر اثرات پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ازخود نوٹس کو ختم کر دیا
